وزیر اعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل تک
15 جولائی 2018 2018-07-15

کسی نے کہا تھا ’’ اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے، یہاں ’’ اڑنے کے گھنٹوں بعد گرفتار ہوگئے‘‘ لندن سے ابو ظہبی وہاں سے لاہور، لاہور سے اسلام آباد، سہالہ ریسٹ ہاؤس پر رکھنے کا فیصلہ، سب جیل بنانے کا نوٹیفکیشن جاری، خیال آیا کہ پانچ سال سے اڈیالہ جیل کی ہا ہا کار مچی ہوئی تھی۔ یاروں کی پیش گوئیاں غلط ثابت نہ ہو جائیں، دونوں مجرموں کو کہاں لے جائیں، جائیں تو جائیں کہاں ’’ کنفیوژن، تضادات، انتشار لیکن سیاسی کمالات میں حصہ ڈالنے کا عزم۔ بالآخر فیصلہ ہوا کہ ’’ قانون کو غلام کرو چین سے رہو، ان مشوروں پہ کام کرو چین سے رہو ’’ دونوں مجرموں‘‘ کو اڈیایالہ جیل بھیج دیا گیا۔ طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر اترا تو باہر نکلتے ہی دبوچ لئے گئے۔ وزیر اعظم تھے تو استقبالی قطاروں میں کھڑے ہر طبقہ کے لوگ سلیوٹ کرتے تھے۔ ریڈ کارپٹ سے گزر کر ایئرپورٹ سے باہر آتے تو قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے سماعت سے ٹکراتے، جی خوش ہوتا، نعرے اب بھی لگ رہے تھے۔ ایئر پورٹ سے باہر سنائی بھی دے رہے تھے، کسی نے کان میں کہا دہلی دروازے سے ایئرپورٹ تک استقبال کیلئے آنے والوں کے سر ہی سر نظر آ رہے ہیں۔ پورا شہر کنٹینروں سے بند کر دیا گیا مگر لاہوریئے اپنی روایات کے مطابق گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ ججوں کی رہائی کیلئے نواز شریف نے جان ہتھیلی پر رکھ کر ماڈل ٹاؤن سے لانگ مارچ شروع کیا تو شاہدرہ کے پل تک پہنچتے پہنچتے لاکھوں افراد ہمراہ ہوگئے۔ اچھرہ کے رہائشی فضل دین نے چار سالہ بچے کو کندھے پر بٹھایا اور حلوہ پوری کی دکان پر بیٹھے دوستوں سے چیخ کر بولا’’ اوئے نواز شریف کلا ای نکل پیا جے، آؤ اوہدے نال چلئے ( اوئے نواز شریف اکیلا نکل پڑا ہے، آؤ اسکے ساتھ چلیں) حلوہ پوری کا ناشتہ کرتے دس بارہ زندہ دل لاہوریوں نے جلد ی جلدی ناشتہ کیا اور اچھرہ سے گزرتے لانگ مارچ میں شریک ہوگئے۔ فضل دین اور اسکے ہزاروں ساتھی اب بھی ریلیوں میں شامل تھے لیکن ڈیفنس میں پولیس کے پتھراؤ سے ہراساں ہوگئے۔ پہلے عوام پولیس پر پتھر برساتے تھے، اب پولیس عوام کے سر پھاڑتی ہے، فضل دین نے کہا ’’ تبدیلی آگئی ہے‘‘ لیڈر نے کہہ دیا استقبال کیلئے نکلنے والے گدھے ہیں۔ گدھوں کو تو لاٹھیاں، ڈنڈے اور روڑے ہی پڑتے ہیں۔ نواز شریف دہلی گیٹ سے ایئرپورٹ تک لاکھوں افراد کے نعرے نہ سن سکے۔ کیسا استقبال کیسا پروٹوکول ۔ نیب اور ایف آئی کی ٹیمیں گرفتاری کیلئے بے چین جو افسر حکم کے منتظر رہتے تھے، وہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے جانے کیلئے بے تاب نظر آئے۔ لانگ مارچ کے ذریعے 18گھنٹوں میں جج رہا اور بحال ہوگئے تھے۔ یہاں گرفتاری کا سفر18گھنٹوں میں طے ہوا۔ جیل حکام نے یقیناََ کہا ہوگا’’ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ جواب ملا ’’ ہوئی تاخٰر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا‘‘ اڈیالہ جیل بھیجنے والے تو2013ء ہی سے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ انتخابات کے ایک ماہ بعد ہی چاقو واقو، چھریاں وریاں، خنجر ونجر تیز ہونے لگے تھے۔120دنوں کے دھرنے میں انگلی ونگلی کا ذکر خیر ہونے لگا تھا۔ تھرڈ امپائر کی انٹری ہوگئی تھی۔ پانچ سال کے دوران تابع فرمان ہاتھوں ہاتھ لئے گئے بلکہ ہاتھوں میں ہاتھ دیکر اٹھائے گئے۔ زیرو سے ہیرو بنا دیئے گئے۔ نا فرمان کو نشان عبرت بنانے کیلئے کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ جب بھی منتخب ہوتے ہیں پنگے لیتے ہیں۔ اب کے پکا کام کیا جائے۔21سال کی نااہلی نہیں، تاحیات نااہلی ضروری ورنہ گاڈ فادر کی پھر واپسی کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ نااہل ہوئے، وزارت عظمی گئی۔ وزیر اعظم ہاؤس کے دروازے بند سیاسی جماعت کی صدارت سے محروم کر دیئے گئے۔ مسلم لیگ ہاؤس داخلے پر پابندی،10ماہ میں ایک ریفرنس کا فیصلہ، گیارہ سال قید، جاتی امراء کے گیٹ بند، جیل کے دروازے کھل گئے۔ ناز و نعم میں پلے باپ بیٹی اور داماد جیل کے تین کمروں تک محدود، سابق حکومت جاتے جاتے پرزنرز رولز میں ترمیم کرکے جیل میں ایگزیکٹو کلاس کی منظوری دے گئی تھی۔ اس دور میں گرفتاری ہوتی تو نہ صرف ایگزیکٹو کلاس ملتی بلکہ حکومت کی سمری پر صدر سزا معاف کر دیتے کیا کیا جائے۔ ریفرنس کی سماعت ن لیگ کی حکومت میں مکمل نہ ہوسکی۔ سزا اس وقت ہوئی جب الیکشن میں10چند باقی تھے، نگراں حکومت اپنا کام کر رہی ہے اتنی مصروف کہ سمریاں بھیجنے کی فرصت ہی نہیں، لانگ مارچ کے نتیجہ میں بحال ہونے والے چیف جسٹس نے جنہیں اب سابق چیف جسٹس کہا جاتا ہے جانے کیوں اور کیسے کہہ دیا کہ دونوں باپ بیٹی کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ بار ثبوت استغاثہ پر تھا، میرا ماننا ہے کہ انصاف کی ضروریات پوری نہیں کی گئیں۔ نواز شریف نے بھی کہا فیصلہ میں لکھا گیا کہ کرپشن کے الزام سے بری کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بقول ایک جانب جج صاحب نے کہا کہ انکے خلاف کوئی ثبوت نہیں، تو انہیں سزا کیسے دی گئی؟ قانونی باتیں ہیں، قانونی لوگ جانیں۔ عوام تو ووٹ دیکر اپنے اعتماد یا عدم اعتماد کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ابھی معاملات آہ و فغاں ختم نہیں ہوئے آزمائشیں باقی ہیں۔ دو ریفرنسوں کی سماعت ہورہی ہے۔ اس میں بھی سزائیں مقدر، مجموعی طور باپ کو شاید عافیہ صدیقی جتنی سزا بھگتنی ہوگی۔25جولائی کے انتخابات میں ن لیگ اپنے تئیں100سیٹوں کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ حالانکہ سارے’’فاتحین ‘‘عمران کے لشکر میں شامل ہو گئے ہیں۔ جن کا سلوگن ہے ’’ صرف بلے پر نشان‘‘ بلے بلے نواز شریف کی گرفتاری کے بعد اعتماد حد سے بڑھ گیا۔ چال ڈھال بول چال، انداز گفتگو میں تبدیلی، ڈیڑھ کروڑ ووٹروں کو گدھے کہہ دینا کسی عام سیاست دان کا کام نہیں، جس کا کام اسی کو ساجھے۔ ’’صاف شفاف‘‘ الیکشن کے نتیجہ میں جمہوریت مزید نڈھال ہوگئی تو کیا ہوگا؟ کپتان کو خود بھی دو تہائی اکثریت کا یقین نہیں۔ لشکر میں ادھر ادھر سے شامل ہونے والے سارے ’’ فاتحین‘‘ مال غنیمت لوٹنے آئے ہیں۔ انتخابات کے بعد کچھ ہاتھ نہ لگا تو کپتان کو ہاتھ دکھا کر ادھر ادھر ہو جائیں گے۔ متبادل قیادت بھی موجود ہے۔ جیپ میں سوار ہونے والے آئندہ پانچ سالوں کے دوران سکھی رہیں گے جبکہ حکومت حسب سابق اپوزیشن کے رحم و کرم پر ہوگی۔ ملک میں استحکام کہاں سے آئے گا۔ معلق پارلیمنٹ کی صورت میں اپوزیشن بینچوں پر ن لیگ یا پی پی ہوگی۔ آصف زرداری بعض حوالوں سے ’’ مفاہمت‘‘ پر مجبور نہ ہوئے تو اپوزیشن میں بیٹھ کر ناطقہ بند کر دیں گے۔ ن لیگ کتنی سیٹیں لے گی؟ سوال قبل از وقت ہے، جبکہ جواب بعد از وقت ہوگا۔ نواز شریف نا اہل قرار، مجرم بن کر سلاخوں کے پیچھے قید، ایسے شخص کے نام سے کسی جماعت کی رجسٹریشن کیسے درست ہوسکتی ہے۔ الیکشن کے بعد درخواست کی سماعت ہوگی ، رجسٹریشن منسوخ ہوگئی تو منتخب ارکان کا کیا ہوگا؟ کہاں جائیں گے، ن لیگ کے موجودہ صدر کو شاید ان باتوں کا احساس نہیں۔ احساس ہے تو انہوں نے کیا سوچ رکھا ہے، انکے پاس قانونی ٹم نہیں، ن لیگ کے لائرز ونگ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ ن لیگ کے منتخب ارکان کالعدم قرار دے دیئے گئے تو کیا کریں گے؟ یہی فکر کھائے جاتی ہے۔ تاہم اہل فکر و خیال کا کہنا ہے کہ ’’ اہل کرم کو اپنا یہی مشورہ ہے اب‘‘ اپنی نوازشات کی چادر سمیٹ لیں۔ نوازشات کی بارش ہوتی رہی تو معلق پارلیمینٹ اور رنگ برنگی حکومت سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو جائیگا۔


ای پیپر