لاہور کا انتخابی معرکہ
15 جولائی 2018 2018-07-15

لاہور نہ صرف پاکستان کا دوسرا برا شہر ہے بلکہ یہ پاکستانی سیاست ، ثقافت ، ادب اور فن کا گہوارہ بھی ہے۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ لاہور میں موجودگی کا احساس دلائے یا وہ لاہور کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے۔
لاہور 1970ء سے 1988ء تک پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ رہا۔ مگر 1993ء کے بعد پیپلز پارٹی بتدریج کمزور ہوتی گئی اور مسلم لیگ (ن) اپنے قدم جمانے شروع کئے۔ 1997گ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) لاہور پر اپنا مکمل سیاسی غلبہ اور اجارہ داری قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ 2002ء کے مشکل حالات میں بھی مسلم لیگ (ن) اپنا غلبہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی۔
2013ء کے عام انتخابات میں لاہور کی13 میں سے 12 نشستیں مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئیں جبکہ ایک نشست تحریک انصاف کے حصے میں آئی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بہت واضح فرق کے ساتھ کامیاب ہوئے تھے۔
2018ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر دونوں جماعتوں کے درمیان زبردست انتخابی معرکے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتیں یہ دعویٰ کرتی نظر آتی ہیں کہ لاہور کی 14 قومی اسمبلی اور 30 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر وہ واضح کامیابی حاصل کریں گی۔ 25 جولائی کو اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ لاہور اب بھی مسلم لیگ (ن) کا مضبوط سیاسی مرکز ہے اور اس کی مقبولیت اور پسندیدگی برقرار ہے یا پھر لاہور کے ووٹر تحریک انصاف کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو لاہور پر اپنا سیاسی غلبہ اور اجارہ داری برقرار رکھنے کے چلینج کا سامنا ہے جبکہ تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) کے قلعے میں بڑی نقب لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس وقت تک مسلم لیگ (ن) کو لاہور کے زیادہ تر حلقوں میں برتری حاصل ہے مگر چند ایک حلقے ایسے بھی ہیں جہاں پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے جبکہ چند حلقوں میں دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان برابر کا مقابلہ ہے اور 25 جولائی کو بہت معمولی فرق سے فیصلہ ہو گا کہ کونسی جماعت کامیابی حاصل کرتی ہے۔
لاہور کا پہلا حلقہ این اے 123 ہے جو کہ شاہدرہ اور بادامی باغ کی یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے ۔ اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک ریاض کو جو کہ اس حلقے سے دوبار ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اگر تحریک انصاف ان کے مقابلے میں تگڑا امیدوار اتارتی۔ چوہدری سرور ایک مضبوط امیدوار تھے مگر تحریک انصاف نے سبزہ زار سے تعلق رکھنے ووالے رہنما مہر واجد عظیم کو ٹکٹ دے دی۔ مہر واجد عظیم این اے 126 سے بہتر امیدوار ثابت ہوئے۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کو اس حلقے میں برتری حاصل ہے۔
این اے124 اندرون شہر اور اس سے محلق چند علاقوں پرمشتمل ہے اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز شریف کو واضح برتری حاصل ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے ایک نئے امیدوار نعمان قیصر کو میدان میں اتارا ہے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ انتخابات میں اس حلقے سے 40 ہزار ووٹ لینے والے امیدوار محمد مدنی کو ٹکٹ نہیں دیا۔ اس حلقے میں زیادہ سخت مقابلے کی توقع نہیں ہے۔
این اے 125 میں تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار وحید عالم خان کے درمیان ایک دلچسپ، کانٹے دار اور قریبی مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد دو دفعہ ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں نواز شریف سے شکست کھائی تھی اور ضمنی انتخابات میں انہیں بیگم کلثوم نواز نے ہرایا تھا۔ وہ اس حلقے میں سخت محنت کر رہی ہیں اور پورے حلقے میں گھر گھر مہم چلا رہی ہیں۔ ان کے مدمقابل وحید عالم خان 2013ء میں این اے127 سے منتخب ہوئے تھے مگر اس دفعہ انہیں این اے 125 سے میدان میں اتارا گیا ہے۔ اس وقت کسی کی بھی جیت کی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔
این اے126 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مہر اشتیاق کو برتری حاصل ہے۔ ان کی پوزیشن مضبوط نظر آتی ہے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار حماد اظہر تمام تر کوشش اور محنت کے باوجود پیچھے نظر آتے ہیں۔ مہر اشتیاق نے 2013ء میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
این اے 127 میں ابتدائی طور پر مریم نواز امیدوار تھیں مگر احتساب عدالت سے سزا ملنے کے بعد انتخابات سے باہر ہو گئیں تو مسلم لیگ (ن) نے پرویز ملک کے بیٹے علی پرویز ملک کو میدان میں اتارا ہے۔ پرویز ملک 2008ء اور 2013ء میں اس حلقے سے کامیاب ہوئے تھے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ کو برتری حاصل ہے جبکہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار جمشید چیمہ ہیں جو سخت محنت کر رہے اور مقابلے کو جیتنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں مگر مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔
این اے 128 میں مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر اور تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری اعجاز ڈیال کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع ہے۔ اس وقت شیخ روحیل اصغر کو معمولی برتری حاصل ہے مگر یہ فرق کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
این اے 129 اس حلقے میں تحریک انصاف کے امیدوار عبدالعلیم خان کو برتری حاصل ہے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں۔ دونوں کے درمیان کانٹے دار اور سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
این اے 130 اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ احمد حسان کو برتری حاصل ہے جبکہ تحریک انصاف کے شفقت محمود جو کہ گزشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے کامیاب ہوئے تھے انہیں اس وقت مشکلات کا سامنا ہے۔
این اے 131 میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کو برتری حاصل ہے اس حلقے سے ان کا مقابلہ خواجہ سعد رفیق کر رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق عمران خان کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں اور اس حلقے میں زبردست مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ عمران خان کی موجودگی کے باوجود اس لقے میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
این اے 132 اس حلقے سے شہباز شریف امیدوار ہیں جنہیں برتری حاصل ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے منشاء سندھو اور پیپلز پارٹی کی ثمینہ خالد گھرکی ہیں۔ شہباز شریف اس حلقے سے مضبوط امیدوار ہیں۔
این اے 133 اس حلقے میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز چوہدری کافی عرصے سے اپنی انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پرویز ملک ہیں جو کہ اس حلقے میں پہلی مرتبہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کا اصل امتحان ہو گا۔ اگر پرویز ملک جیت گئے تو مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کی بدولت ہو گا۔ اس وقت کی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہے۔ سید ضیعم قادری بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس وقت پرویز ملک کو معمولی برتری حاصل ہے۔
این اے 134 اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے رانا مبشر اقبال کو تحریک انصاف کے امیدوار ملک ظہیر عباس کھوکھر کے مقابلے میں برتری حاصل ہے۔
این اے 135 اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے ملک سیف الملوک کھوکھر اور تحریک انصاف کے ملک کرامت کھوکھر کے درمیان دلچسپ مقابلے کی توقع ہے اس وقت تک مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے۔
این اے 136 مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک افضل کھوکھر کو تحریک انصاف کے امیدوار ملک اسد کے خلاف واضح برتری حاصل ہے۔ ملک افضل کھوکھر لگاتار دو مرتبہ ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں لاہور کی 11 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب ہو سکتی ہے جبکہ تحریک کو تین نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے۔ اس بات سے امکانات زیادہ ہیں کہ مسلم لیگ (ن) لاہور پر اپنا سیاسی غلبہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔


ای پیپر