زرعی محنت کشوں کا معیار زندگی بلند کیا جائے
15 جولائی 2018 2018-07-15

حکومت نے ایک اہم اجلاس میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا ہے ۔ یہ اجلاس اسلام آباد میں وزیر اعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہوا۔ اجلا س میں مقامی بازار میں آٹے کی قیمت میں بے قابو اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں گندم کی ریکارڈ پیدا وار کے باوجود آٹے کی قیمت عام شہری کی پہنچ سے کیوں باہر ہے ۔ اس تناظر میں عام صارف کے لیے گندم کی قیمت میں کسی بھی صورت اضافہ قابل قبول نہیں ہو گا۔ یاد رہے کہ 2007ء میں ملک میں22 ملین ٹن گندم کی ریکارڈ پیداوار ہو ئی، جس کے باعث عوام کو آٹا سستا ملا۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک زراعت پر ہے۔ حکومتیں زراعت کو فروغ دینے کیلئے کاشتکاروں تک سستی کھاد کی فراہمی اور سستے زرعی آلات پہنچانے کی پالیسی بنا تیں تو آج صورت حال اس حد تک گد تر نہ ہوتی۔۔۔ زرخیز دھرتی، مہربان موسم ، لائق رشک جفاکشی اور بے پناہ اہلیتوں کے باوجودہمارے زرعی محنت کشوں کا معیار زندگی بلند نہیں ہو سکا۔ وہ آج بھی تاریک دور کے غلام مزارعین سے بھی بدتر حالت میں زندگی کو ایک جبر مسلسل اور قید مسلسل کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ پاکستان سے کہیں کمترزرعی پیداواری اہلیت رکھنے والے ممالک میں بھی جدید میکانکی زرعی آلات، ادویات اور دیگر تلازمات کا استعمال کر کے عالمی منڈی میں اپنا نام بڑے زرعی پیداواروں کی کی فہرست میں درج کروا نے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان تمام ناگفتنی حقائق کے باوجود غیرجانبدار تجزیہ نگار اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بہتر ہوگا 25جولائی 2018ء کے بعد قائم ہونے والی منتخب جمہوری حکومت کے وفاقی اور صوبائی سربراہان زرعی شعبے کی ترقی کو محدود ترین وسائل کے باوجوداپنے ترجیحاتی ایجنڈے میں اولین شق کا مقام دیں۔
یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور دنیا کے دیگر زرعی ممالک کی طرح اس ملک کے معاشی نظام میں زراعت کی حیثیت بھی مسلمہ ہے۔ ہماری قومی داخلی معیشت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک مقتدر طبقات زرعی شعبے پر مطلوب خصوصی توجہ مبذول کرتے ہوئے کسان دوست فلاحی اقدامات نہیں کرتے۔ معاشی پیداواری عوامل میں زمین ایک اہم عامل ہے۔ زمین از خود ایک مجرد شے ہے۔ جب تک اس پیدواری عامل سے پیداوار حاصل کرنے میں معاون بننے والے ہاتھوں کو مضبوط نہیں کیا جاتا ،انفرادی و اجتماعی سطح پر معیشت استحکام آشنا نہیں ہوتی۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جن کا شما ر زرعی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے، اس منزل تک رسائی حاصل کرنے میں صرف اور صرف اس لئے کامیاب ہوئے ہیں کہ ان کے ارباب حکومت نے جہاں ایک طرف زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے خصوصی اقدامات کئے ،وہاں دوسری طرف زرعی محنت کشوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے لئے بھی مربوط اقدامات کئے۔ باوجود یکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بد قسمتی سے اربابِ حکومت نے زراعت کے شعبے کو ترقی دینے والے عوامل سے مجرمانہ چشم پوشی روا رکھی۔یہ ایک سنگین اور عظیم المیہ ہے۔جس کا خمیازہ قوم اور ملک عشروں سے بھگت رہے ہیں۔ یہ اسی تساہل اور تغافل کا نتیجہ ہے کہ وہ ملک جس کی 76فیصد آبادی کے روز گارکا انحصار زراعت پر ہے ،70 سال گزرنے کے باوجود زرعی خود کفالت کی منزل سے ہمکنار ہونے سے قاصر رہا ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ اگر پاکستان کے اربابِ حل و عقد زرعی شعبے کو مستحکم کرنے کے لئے زرعی شعبے کی تنظیم نو کی طرف توجہ دیتے تو آج پاکستان کا شمار نہ صرف یہ کہ زرعی لحاظ سے دنیا کے خود کفیل ممالک میں ہوتا بلکہ اس کا شمار بین الاقوامی منڈی میں کئی قیمتی زرعی اجناس برآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں کیا جاتا۔ زرعی شعبے پر عدم توجہ در حقیقت دھرتی ماں سے بے وفائی کے مترادف ہے ۔ کاش! وطن عزیز کے مقتدر حکمران طبقات کو اس امر کا ادارک ہوتا اور وہ اپنی تمام ترتوانائیاں محض ’’حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ‘‘ اور’’ کرسیوں کے دفاع و استحکام‘‘ پر صرف کرنے کی بجائے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے مختص کر دیتے۔
پاکستان میں زرعی شعبے کو عدم ترقی اور عدم استحکام کا عارضہ لاحق ہونے کا ایک بنیادی سبب یہاں نو آبادیاتی دور کا مسلط کردہ غیر منصفانہ ، ظالمانہ استحصالی جاگیردارنہ نظام ہے۔ اس استحصالی جاگیر دارانہ نظام کی وجہ سے زرعی محنت کش زرعی عمل پر مطلوبہ توجہ دینے سے احتراز و اجتناب برتتا ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جس کھیت سے دہقاں کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ وہاں خوشہ ہائے گندم لہلاتے نظر آئیں۔ پاکستانی زرعی محنت کشوں کا صدیوں کا تلخ تجربہ اور مشاہدہ انہیں یہ بتاتا ہے کہ محنت وہ کرتے ہیں، سرد و گرم موسموں کی چیرہ دستیاں وہ اپنے نا تواں جسموں پر سہتے ہیں اور خون پسینہ ایک کر کے جب وہ کوئی فصل پروان چڑھاتے ہیں تو فصل پر شباب آتے ہی استحصالی جاگیر دار، کی محنت پر شبخون مارنے کے لئے پہنچ جاتاہے۔ یہ منظر نامہ اس خطے کا زرعی محنت کش گزشتہ پونے دو صدیوں سے کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہا اور اس پر خون کے آنسو بہا رہا ہے۔


ای پیپر