یہ انتخابات پر امن تو نہیں ہیں
15 جولائی 2018 2018-07-15

ہم،ا ہلِ پا کستا ن جو بڑی معو میت سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ما ہِ ر و ا ں میں ہو نے و ا لے انتخا با ت بہت پر ا من ہو ں گے ، کتنے نا د ا ن ثا بت ہو ئے۔ و ہ یو ں کہ گذ شتہ ہفتے کے د و ر ا ن پہلے تو د ہشتگر د و ں نے عو ا می نیشنل پا ر ٹی کے امید و ا ر برائے صوبائی اسمبلی بیرسٹر ہارون بلور سمیت 20 افراد کو منگل کی شب انتخابی مہم کے دوران ایک خودکش حملے میں شہید کردیا گیا۔ خودکش حملے کے وقت پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کی کارنر میٹنگ میں 300 سے زائد کارکن موجود تھے۔ پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور جیسے ہی میٹنگ میں شرکت کے لیے آئے تو کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور آتش بازی کی۔ اسی اثنا میں پہلے سے وہاں موجود خود کش بمبار نے ان کے قریب آکر خود کو اڑالیا۔ ہارون بلور کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ا ن کے خا ند ا ن کے لیئے اس سے بڑا د کھ اور کیا ہو گا کہ شہید ہارون بلور کے والد اور سابق سینئر صوبائی وزیر خیبرپختونوا بشیر بلور کو بھی دسمبر 2012ء میں ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید کردیا گیا تھا۔ وہ بھی عام انتخابات کے حوالے سے ایک کارنر میٹنگ میں شرکت کے بعد واپس اپنے گھر روانہ ہونے والے تھے کہ ایک خود کش حملہ آور نے ان پر حملہ کردیا۔تسلیم کر نا پڑے گا کہ و طنِ عز یز کی سیا ست کو اس وقت اس قد ر انو ا ع و ا قسا م کے دھچکو ں کا سا منا ہے کہ اس افسو س نا ک و ا قعہ کو فو ر اً ہی بھلا دیا گیا۔ مگر دہشتگر د و ں نے تو جیسے تہیہ کیا ہو ا تھا کہ و ہ انتخا با ت کے دو ران ا ہلِ پا کستا ن کو اپنی غیر مو جو دگی سے بے خبر نہیں ہو نے د یں گے۔ چنا نچہ تیر ہ جو لا ئی ، جمعہ کے ر و ز کی صبح کو بنو ں میں جے یو �آئی کے ا مید و ا ر اکر م درا نی کے قا فلے پہ اس و قت حملہ کر دیا گیا جب وہ ایک کا رنر سیا سی میٹینگ کو خطا ب کر نے بعد وا پس لو ٹ ر ہے تھے۔مقا مِ شکر ہے کہ اکر م درا نی اس حملے میں محفو ظ ر ہے۔ مگر کیا کیجیئے کہ پا نچ سیا سی کا ر کن ا س حملے کے نتیجے میں شہید ہو گئے ۔ اور یہ کسی کم افسو س کا مقا م نہ تھا۔ لیکن جب اسی روز سہہ پہر کے سے وقت بلو چستا ن کے علا قے مستو نگ سے ایک سیا سی جلسے میں ہو نے و ا لی ایک سو تیس شہا دتو ں کی خیر سا منے آئی تو بنو ں میں ہو نے وا لی دہشت گر دی کی کا ر و ا ئی ایک چھو ٹی سی خبر بن کے رہ گئی۔ کیا مجھے ز یب دیتا ہے کہ میں بنو ں کی شہا د تو ں کی خبر کو ایک چھو ٹی خبر قر ا ر دو ں؟ ایسا لکھتے وقت کیو ں میرا قلم نہ ٹو ٹ گیا؟ مگر نہیں ۔ یہ دنیا ہے۔ یہا ں متعد د با ر بے شر می کا سا منا کر نا پڑتا ہے۔بہر حا ل با ت کو آ گے بڑھا تا ہو ں۔ مستو نگ میں بلو چستا ن عوا می پا ر ٹی کے اہم سیا سی رہنما سر ا ج رئیسا نی جب ایک سیا سی جلسے سے خطا ب کرنے آئے تو ایک خو د کش حملہ آ ور نے خو د کو د ھما کے سے اڑا لیا۔ نتیجتاًسر ا ج ر ئیسا نی مو قع پر ہی شہید ہو گئے ۔ ان کے سا تھایک سو تیس افرا د کے شہید ہو جا نے کی خبر بھی سننے کو ملی۔ انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل اس طرح کے واقعہ کا مقصد انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے اور امیدواروں کے ساتھ ساتھ شہریوں میں بھی خوف و ہراس پھیلانے کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ انتشار اور تشویش کی فضا گہری ہوگئی تو پولنگ کے دوران ٹرن آؤٹ کی شرح متاثر ہوگی۔ ایک دہائی تک ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھنے والی دہشت گردی سے خدا خدا کرکے نجات حاصل ہوئی تھی۔ لیکن انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی اس عفریت نے پھر سے سر اٹھانا شرع کردیا ہے اور یوں اس حقیقت کا ابلاغ ہوا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے دوران ہمیں دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فول پروف بنانے پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ بصورتِ دیگر ناگہانی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم کے خلاف چھ روز قبل آنے والے احتساب عدالت کے فیصلے اور اب پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا عمل شروع ہونے کے بعد ان دونوں جماعتوں کی جانب سے تفتیشی عمل کو انتخابات پر اثر انداز ہونے کی سازش قرار دے کر الیکشن کے انعقاد سے پہلے ہی انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ایسے وقت میں جب شفاف اور غیرجانب دارانہ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے ذمہ دار منتظم اداروں کو افراتفری کے بجائے سازگار ماحول درکار ہے اور تمام سیاسی قوتوں کی مکمل حمایت کی بھی ضرورت ہے، ملک کی دو بڑی جماعتوں کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے سازش کی صدا بلند کرنا سمجھ سے بالا تر ہے، کیونکہ یہی جماعتیں سب سے زیادہ اس بات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ انتخابات ہر حال میں اور مقرر وقت پر ہونے چاہئیں۔ تو کیا ’سازش کی صدا‘ بلند کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنے گناہوں کے دفاع کے لیے لوگوں کو سڑکوں پر لا بٹھایا جائے، ملک اور معاشرے کو چاہے اس کی جو بھی قیمت چکانا پڑے؟ اس انتشار کی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہی انتہا پسند عناصر نے پھر سے معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں امن تباہ ہوجانے کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یہ عناصر اپنے مقاصد میں چند فیصد بھی کامیاب ہوگئے تواس کا بلاواسطہ اور بالواسطہ نقصان انتخابی عمل کو ہی پہنچے گا۔ عین ممکن ہے کہ دہشت گردی کا گزشتہ روز رونما ہونے والا واقعہ انتہا پسندوں کی جانب سے ایک اشارہ ہو کہ وہ ایسا ہی کچھ اور بھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایسا ہوا تو انتخابات کا سارا عمل متاثر ہوگا اور جمہوریت کو بھی دھچکا پہنچے گا۔ اس ساری صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے بڑی سیاسی جماعتوں، انتخابی امیدواروں، کارکنوں اور عام شہریوں کو اپنے اور دوسروں کے جان و مال کے تحفظ کو مقدم رکھ کر احتیاط کرنی چاہیے۔ تمام جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو ایسے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ یہا ں یہ سب لکھنا بھی کا فی نہیں ۔ کیو نکہ سابق وزیر اعظم میا ں نو ا ز شر یف کی جانب سے اپنی وطن واپسی پر استقبال کے لیے لیگی کارکنوں کو جو کال دی گئی ہے، ملک کے حالات فی الوقت اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور تمام سرکاری ادارے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مصروف ہیں ۔ صورتحال یہ ہے کہ بیلٹ پیپروں کی ترسیل کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے اور منگل کے روز پہلے دن سیالکوٹ، گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے بیلٹ پیپرز ارسال کیے گئے۔ ان حالات میں ایسے اقدامات کا کیوں سوچا جارہا ہے، جن سے سرکاری اداروں کی توجہ انتخابی عمل سے ہٹ جائے یا پورا انتخابی عمل ہی سبوتاژ ہوجائے۔ کیا شہر کی سڑکوں پر استقبالیہ جلوس سے لاکھوں شہریوں کے معمولاتِ زندگی متاثر نہیں ہوں گے؟ سانحۂ پشاور، سا نحہ بنو ں اور سب سے بڑھ کر سا نحہ مستو نگ بھی کیا ہما ری آ نکھیں نہیں کھلیں گی؟


ای پیپر