یوم شہداء کشمیراور الحاق پاکستان
15 جولائی 2018 2018-07-15

مقبوضہ کشمیر کے مسلمان غاصب بھارت کیخلاف جس طرح قربانیاں و شہادتیں پیش کر رہے ہیں اسے تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج نت نئے مظالم کے ذریعہ مسلمانوں کی عزتیں و حقوق پامال کرنے اور ان کی معیشت برباد کرنے کیلئے خوفناک سازشیں کر رہی ہے۔ ہر روز نہتے کشمیریوں کو فرضی جھڑپوں میں شہید کر کے ترقیاں و تمغے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ لاکھوں مسلمان شہید کئے جاچکے‘ دس ہزار سے زائد کشمیری نوجوان لاپتہ ہیں اور ان کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کہاں ہیں۔ محبوبہ مفتی سرکار کے خاتمہ اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد قتل و غارت گری کا سلسلہ اور زیادہ تیز ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں 13جولائی 1931ء کے شہداء کی یاد میں یوم شہدا ء کشمیر انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا ہے۔ یہ وہ دن تھا کہ جب سری نگر کی سنٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ فوج نے بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23افرادکو پے در پے فائرنگ کر کے شہید کر دیاتھا۔اس واقعہ سے قبل 19اپریل 1931ء کوجموں کی جامع مسجد کے امام مفتی محمد اسحٰق میونسپل باغ کمیٹی میں عیدالاضحی کا خطبہ دینے کیلئے موجود تھے کہ ڈوگرہ فورسز کے انتہائی متعصب آفیسر چوہدری رام چند نے انہیں عید کا خطبہ دینے اور نماز کی ادائیگی سے روک دیا جس پرمقامی مسلمانوں نے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور پورے جموں میں ایک زبردست احتجاجی لہر چھڑ گئی۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ جموں میں ہی 4جون 1931ء کوایک ہندو پولیس انسپکٹر لبھو رام نے (نعوذ بااللہ) قرآن پاک کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا جس پر کشمیریوں کے جذبات مزید مشتعل ہو گئے اور پوری ریاست جموں کشمیر میں احتجاج کاایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان واقعات کیخلاف25جون کو ایک بڑے جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں عبدالقدیر نامی ایک نوجوان نے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسا ولولہ انگیز خطاب کیا جس نے لوگوں کا لہو گرما کر رکھ دیا۔ان کے اس خطاب کے فوری بعد بھارتی فورسز نے انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا ۔پانچ جولائی کو اس کیس کی سماعت سنٹرل جیل سری نگر میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے خلاف 12جولائی کو پورے شہر میں تاریخی ہڑتال کی گئی۔13جولائی کو سنٹرل جیل میں کیس کی سماعت ہونا تھی۔اس دن صبح سے ہی مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور گردونواح سے قافلوں نے جیل کے باہر پہنچنا شروع کر دیا۔ کیس کی سماعت کا سلسلہ جاری تھا کہ نماز ظہر کا وقت آن پہنچا اورلاکھوں کشمیریوں نے نماز کی تیاری کا آغاز کر دیا۔ اس دوران ایک نوجوان اذان کہنے کیلئے آگے بڑھا اور ابھی اس نے اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ ڈوگرہ فوجیوں نے گولی چلائی جو اس کے سینے پر لگی اور وہ موقع پر شہید ہوگیا۔ فوجیوں کا یہ ظلم و بربریت پورے مجمع کیلئے بہت بڑا چیلنج تھا۔پہلے نوجوان کی شہادت کے بعد دوسرا آگے بڑھا ‘ اس نے بھی ابھی اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ اسے بھی گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ جیل کے باہر موجود کشمیری کسی طور اپنے عزم سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہ تھے کہ وہ نماز ظہر اد ا نہ کر سکیں۔ یوں غیور کشمیری نوجوان آگے بڑھتے گئے اور اذان کے الفاظ ادا کرنے والے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر شہید ہو تے گئے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ ایسا واحد واقعہ ہے کہ جب اذان کہنے کیلئے 23افراد نے اپنی زندگیاں اللہ رب العزت کے سپرد کر دیں۔ سنٹرل جیل کے باہر یوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کئے جانے کی خبر کشمیر کے دیگر حصوں میں پھیلی تو ہر علاقہ میں ڈوگرہ حکمرانوں کیخلاف زبردست احتجاج شروع ہو گیا اور کشمیریوں کی جانب سے کیا جانے والا زوردار احتجاج طویل عرصے تک جاری رہا۔
17جولائی 1931ء کو جمعہ کے دن بھی کشمیر میں تاریخی ہڑتال اور احتجاج کیا گیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایک مرتبہ پھر بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے چھ نوجوانوں کو شہید اور متعدد زخمی کر دیئے گئے جس کے بعد کرفیو نافذ کیا گیااور تین روز تک مقامی کشمیریوں کی لاشیں جامع مسجد میں پڑی رہیں۔ اس واقعہ کو 87برس گزر چکے ہیں لیکن آج بھی دنیا بھر میں موجود کشمیری اور دیگر مسلمان ان عظیم شہداء کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور کشمیری شہداء کیلئے خصوصی طور پر دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں 19جولائی کا دن بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ہندوستان انگریز کی غلامی سے نکل رہا تھا۔ مسلم اکثریتی ریاستیں الحاق پاکستان کا اعلان کر رہی تھیں۔ ان حالات میں مقبوضہ کشمیر جس کی آبادی کا 83فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ اس کے پانیوں کا رخ بھی پاکستان کی جانب تھااور یہاں کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ جموں کشمیر کا الحاق کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے۔یوں مسلم کانفرنس نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کی سوچ و فکر پر عمل پیر اہوتے ہوئے 19جولائی 1947ء کو آبی گذرگاہ سری نگر میں اپنی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس بلایا جس میں یوم الحاق پاکستان کی قراردادمنظور کر تے ہوئے ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی فوج کے ذریعہ نہتے اور مظلوم مسلمانوں کا قتل عام بند کرے تاہم بھارت نے فوجی طاقت و قوت کے بل بوتے پر کشمیرریاست جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا‘ نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور جموں میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کیلئے لاکھوں مسلمانوں کوشہید کر دیا گیا۔ مظلوم کشمیری قوم آج بھی اس دن کو انتہائی عقیدت و احترام سے مناتی ہے اور اسی طرح دنیا بھر میں بسنے والے کشمیر ی مسلمان 19جولائی کو یوم الحاق پاکستان کے طور پر مناتے ہوئے شہداء کوزبردست خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اورکشمیر کی آزادی، پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے تو پاکستان سے الحاق کا اعلان کر کے اپنا فرض ادا کر دیا لیکن غاصب بھارت نے72سال سے جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اورکشمیری قوم کا جان و مال اور عزتیں و حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ اس وقت بھی نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور انہیں شہید کرنے کیلئے کیمیائی ہتھیاروں تک کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پیلٹ گن کے چھروں سے ہزاروں نوجوانوں کی بینائی چھین لی گئی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب نہتے کشمیریوں کا خون نہ بہایا گیا ہو۔اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں نے بھی کشمیریوں کی قتل و غارت گری پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور محض کبھی کبھار مذمتی بیان دینے کے علاوہ بھارتی غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت کشمیر کے تازہ ترین حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کشمیری و پاکستانی قوم کے جذبات کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرے۔ کشمیری قوم نے قربانیوں کا حق ادا کر دیا۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ مصلحت پسندی ترک کرے اور بین الاقوامی سطح پر انڈیا کی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے تاکہ کشمیر پر سے بھارت سرکا ر کا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کیلئے مظلوم کشمیریوں کی مدد کی جاسکے۔


ای پیپر