ٹیلکم پاؤڈر سے دو نمبر دواؤں تک
15 جولائی 2018 2018-07-15

ٹیلکم پاؤڈرایک اہم معدنی دریافت ہے ۔جو مٹی کی شکل میں زمین میں پایا جاتا ہے۔اسے hydrated magnesium silicate کہتے ہیں اور اس کا کیمیائی فارمولا Mg3Si4O10(OH)2 ہوتا ہے۔یہ عنصر صنعتی طور پر بجلی کی مصنوعات ، ربر ، رنگ و روغن اور کیڑے مار ادویہ میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ اہم مادے کے طور پر یہ بچوں کے ٹیلکم پاؤڈر میں استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں مائیں اپنے نومولود بچوں کے جسموں کو خشک اور خوشبودار رکھنے کے لیے ٹیلکم پاؤڈر استعمال کرتی ہیں ۔ حال میں امریکہ میں دنیا کی سب سے معروف ٹیلکم پاؤڈر اور دیگر اشیائے روزمرہ بنانے والی بین الاقوامی کمپنی کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا جس میں کمپنی کو ۲۲ عدد خواتین اور ان کے خاندانوں کو 4.69 بلین ڈالرزادا کرنے کا حکم دیا گیا۔جس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ ٹیلکم پاؤڈ رمیں نقصان دہ ریشے یا ذرات پائے جاتے ہیں اور کمپنی اس خطرے کی بابت ماؤں اور دیگر صارفین کو احتیاطی تدابیر بتانے سے قاصر رہی ہے۔روزانہ کی بنیاد پر اس معروف بے بی پاؤڈر کے استعمال سے جہاں بچے کو اس کا نقصان ہوتا ہے وہیں یہ پاؤڈر خواتین کو رحم کے کینسر میں بھی مبتلا کرتا ہے۔ اور اس پاؤڈر سے متاثر ہونے والی ماؤں میں سے 6 کی موت بھی واقع ہو چکی ہے ۔ عام طور پر ترقی یافتہ اور نام نہاد تہذیب یافتہ ممالک کے بارے میںیہ تاثر ہے کہ وہ اپنے صارفین کے لیے بہترین سے بہترین اشیائے ضروریہ بناتے ہیں اور ان کے نزدیک صارف کی زندگی سب سے قیمتی شے تصور کی جاتی ہے لیکن یہ بھی ایک ایسا بیانیہ ہے جو کمپنیوں کو سماجی بافتوں میں ایک خوش گوار اور صارف دوستانہ ساتھی کے طور پر متعارف کروانے کے لیے گھڑا گیاہے ۔متذکرہ بالا کمپنی کے ملازمین کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے اس ٹیلکم پاؤڈر کے نقصانات کے بارے میں کمپنی کے بنیادی اراکین اور فیصلہ سازوں کو بروقت اور کہیں ابتدائی سطح پر مطلع کردیا تھا لیکن ان کی اس بات کو اہمیت نہیں دی گئی اور آج اس کمپنی کو اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔یہ تو ہے صورتِ حال مغرب کی جہاں اشیائے ضروریہ بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے بنائے جانے والی اشیاء میں سے کسی ایک سے بھی اگر صارف کو نقصان ہوجائے تو وہ اس کمپنی پر ہرجانے کا دعوٰی دائر کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک خطیر رقم اس کا مقدر بدل سکتی ہے اور کمپنی کے مقدر میں نقصان کے ساتھ ساتھ رسوائی بھی لکھ دی جاتی ہے۔ فی زمانہ دنیا بھر میں اسلحہ ساز ی کی صنعت کے بعد سب سے زیادہ پیسہ ادویہ سازی اور صحت سے متعلق اشیائے ضروریہ سے کمایا جارہا ہے ۔ بیسیوں ایسی کمپنیاں امریکہ اور دیگر ممالک میں رپورٹ ہوئی ہیں جو بنیادی صحت کی پروڈکٹس بناتی ہیں لیکن ان کے نقصان دہ اثرات ایسے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسی ہی ایک اور معروف دوا ساز کمپنی مستقل برتھ کنٹرول(مانعِ حمل/ پیدائش) کا ایک آلہ بناتی ہے جو جسم میں لگا دیا جاتا ہے اس آلے کو پوری دنیا میں خواتین اعتماد کے ساتھ استعمال کرتی ہیں ( بنیادی طور پر یہ ایک سپرنگ نما آلہ ہوتا ہے)لیکن یہ آلہ نہ صرف خواتین میں جلد موت کا باعث بن رہا ہے بلکہ ectopic pregnancy کا بھی باعث بن رہا ہے اور حمل سے متعلق یہ پیچیدگی بہت خطرناک واقع ہوئی ہے۔امریکہ میں اس وقت مختلف کمپنیوں کے خلاف 45000 کے قریب مقدمات درج ہیں ۔ایسے ہی ایک بیماری جسے PseudoBulbar Affect کہتے ہیں میں مریض غیر ضروری اور بے محل روتا یا قہقہے لگاتا ہے اور ان دونوں صورتوں میں اسے خود پر اختیار نہیں ہوتا ۔ دکھ کی صورت میں وہ قہقہے لگانا شروع کردیتا ہے اور ممکن ہے کسی خوش گوار صورتِ حال پر وہ رونا شروع کردے ۔ بنیادی طور پر یہ بیماری اعصابی نظام کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔دنیا بھر میںیہ بیماری صرف ایک فی صد لوگوں کو ہوتی ہے لیکن ایک امریکی کمپنی نے اس سے کروڑوں ڈالرز کمالیے ۔ بعد ازاں سی این این پر اس کمپنی کے خلاف ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں اس بیماری کے خلاف بنائی گئی دوا کے نقصان دہ اثرات سے پردہ اٹھایاگیا تھا ۔ کمپنی کی بنائی ہوئی دوا مریضوں کو فوری طور پر کمزور کرنا شروع کردیتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔پاکستان میں ادویہ سازی کی کیا صورتِ حال ہے اور ان کا معیار کیا ہے آپ بخوبی اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ مارکیٹ میں دو مختلف قسم کی کمپنیاں ہیں جن میں سے ایک قسم کی کمپنیاں بین الاقوامی معیار کی ادویات بناتی ہیں جو کہ مہنگی ہوتی ہیں اور معروف نجی اور مہنگے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اس قیاس پر کہ ان کے پاس آنے والا مریض معاشی طور پر یقیناًمستحکم ہوتاہوگا ،وہ مریضوں کو یہ مہنگی ادویہ تجویز کرتے ہیں ۔ یوں بھی جن کمپنیوں کو اودیہ کی فراہمی کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے ان کو پیٹ بھرنے کے لیے ڈاکٹرز دانستہ مریضوں کو یہ ادویات تجویز کرتے ہیں جن سے انہیں اور ان کے ہسپتال کومعاشی طور پر فائدہ پہنچتاہے۔ دوسری قسم کی کمپنیاں اسی فارمولے لیکن کم معیار کی ادویہ بناتی ہیں ۔ سرکاری ہسپتالوں کے سرکاری میڈیکل سٹورز میں کچھ اچھے ڈاکٹرز اول درجے کی ادویہ اپنے مریضوں کو تجویز کرتے ہیں جب مریض وہ نسخہ لے کر میڈیکل سٹور پر آتا ہے تو اسے وہ دوا نہیں جاتی جو کہ نسخے پر درج ہوتی ہے ۔ مریض اگر احتجاج کرے تو اسے سمجھایا جاتا ہے کہ جناب دوا کا نام مختلف ہے فارمولا وہی ہے۔ اور یقیناًنسخے پر درج دو اور دی جانے والی دوا کے معیار میں فرق ہوتا ہے ۔ اور یہ سارا کھیل سرکاری ہسپتالوں کے سرکاری ڈاکٹرز ، میڈیکل سٹور کے عملے اور دوا ساز کمپنیوں کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ البتہ افسران کو وہی دو ا دی جاتی ہے جس کا نام نسخے پر درج ہوتا ہے۔ بعد ازاں سرکاری طور پر جو بل بنتا ہے اس پر وہی اول درجے کی دو اکا نام درج ہوتا ہے اور رقم بھی وہی ملتی ہے لیکن مریضوں کو کم درجے کی دو نمبر دوا دی جاتی ہے۔ اب ایک مریض جوایسی دو استعمال کررہا ہوں جو اثر ہی نہ کررہی ہوں تو خاک تن درست ہوگا ۔ اوردکھ کی بات یہ ہے کہ اس دو نمبری سے اوپر تک سب آگاہ ہوتے ہیں لیکن پیسہ اور ہوس انسان کو اندھا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں لیکن کب تک ! ماؤں کی گودیں اجاڑنے والوں کو ایک دن سب سے بڑی عدالت میں ضرور جواب دہ ہونا ہوگاکیونکہ فی الوقت ہمارے ہاں محکمہ ء انصاف کے پاس ، کرنے کے دیگر اہم کام موجود ہیں ۔


ای پیپر