تحقیق کی بنیاد پر تعلیم کی تنظیم کی جائے
15 جولائی 2018 2018-07-15

دنیا میں اس سے بڑی سچائی کوئی نہیں کہ ’’استاد کو اس کا مرتبہ اور مقام دئیے بغیر کوئی معاشرہ مہذب کہلانے کا مستحق نہیں‘‘ہر مہذب جمہوری حکومت کی اولین ترجیح تعلیم ہوتی ہے اور ان کے ارباب حکومت اس شعبہ میں غیر معمولی اقدامات کو اپنا فرض اولیں جانتے ہیں۔ گزشتہ چھ سات ہفتوں سے پنجاب بھر کے اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کیے ہوئے تھے اور اس احتجاجی تحریک کے دوران انہوں نے ریاستی مشینری کے مذموم تشدد کا بھی سامنا کیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں استاد سے ریاستی مشینری کا کوئی اعلیٰ ترین عہدیدار بھی بد اخلاقی یا بد کلامی تک کا بھی تصور نہیں کر سکتا، ہمارا ہاں چونکہ ابھی سول بیوروکریسی تعلیم کی قدرو منزلت سے حقیقی معنوں میں نا آشنا ہے اس لیے اساتذہ کی حالیہ تحریک کے دوران انہیں جون کی چلچلاتی دھوپ میں پولیس کے اجڈ ، گنوار اور بے استادے اہلکاروں نے سڑکوں پر گھسیٹنے تک سے بھی دریغ نہیں کیا۔

یورپ کے اٹلی ایسے چھوٹے ملک میں جب کوئی استاد بحیثیت ملزم عدالت میں پیش ہوتا ہے تو فاضل عدالت کے کسی جج کو جب کسی کیس کی سماعت شروع کرنے سے قبل یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ عدالت میں پیش کی جانیوالی شخصیت استاد ہے تو جج کٹہرے میں کھڑے ’’ملزم استاد ‘‘کا احترام اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہو کر کرتا ہے۔

یورپ میں وزیر اعظم ، صدر مملکت حتیٰ کہ کسی بادشاہ اور ملکہ کو بھی شہری اتنا احترام نہیں دیتے، جتنی توقیر و تعظیم وہ استاد کی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ با ادب با مراد کے مصداق یورپی ممالک آج مادی ترقی کے آسماں کے بلند ترین ستارے پر بھی اپنی کمند پھینکنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں نظامِ تعلیم کے کلیدی کردار یعنی استاد کے حالاتِ کار بہتر بنانے اور اسے اس کا کھویا ہوا مقام دلانے کے لئے اربابِ حکومت مناسب لائق رشک فیصلے کرنے کی سعادت حاصل کرنے سے تادم تحریر محروم ہیں۔کون نہیں جانتا کہ اساتذہ کا کام صرف درس و تدریس نہیں بلکہ ان کا اہم فریضہ طلباء کی کردار سازی ہے۔ نا مساعد ترین حالات کے باوجود ہمارے اساتذہ اس فریضے کو بحسن بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود معاشرہ اور مملکت استاد کو اس کا اصل احترام تو کجا مقام تک بھی نہیں دے سکا۔

یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ دنیا میں صرف اور صرف انہی اقوام و ممالک نے وقار و افتخار کی چوٹیوں کو سر کیا ہے، جنہوں نے اپنے معاشروں میں اساتذہ کے وقار و افتخار کو سر بلند رکھنے کے لئے نتائج خیز عملی اقدامات کئے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں استاتذہ کرام کو صرف لفظی حد تک عزت و احترام کا مستحق تصور کیا جاتا ہے لیکن معاشرے اور مملکت میں اُس کو اس کا حقیقی حق کما حقہ ہو عطا نہیں کیا جا رہا۔ ایک طویل دور تک مسلم معاشرے میں استاد کو آئیڈیل اور رول ماڈل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ معاشرے کے اہل، ذہین اور قابل ترین شہری ہی استاد کی مسند پر فروکش ہوا کرتے تھے۔ استاد کڑے حالات کے باوجود کردار سازی اور قوم سازی کے مشکل ترین فریضے کو خندہ روئی، کشادہ جبینی اور خوش دلی کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دیا کرتے۔ معاشرے میں استاد کو اس کا حقیقی مقام دلانے کے لئے مسلم حکمرانوں نے بھی لائق تقلید اور قابل رشک نظائر اور مثالیں قائم کیں۔ لاکھوں مربع کلومیٹرز پر پھیلی سلطنتوں کے سلاطین اور ملوک استادوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کے عمل کو دنیوی کامرانیوں اور اُخروی شادمانیوں کی یقینی ضمانت تصور کیا کرتے ۔ بھرے دربار میں جونہی کوئی استاد داخل ہوتا تاجدار اپنی زرنگار مسندوں سے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے۔ معاشرے میں ان رویوں اور روایات نے اساتذہ کی عزت و حرمت کو اس حد تک تقدیس و تکریم کا حامل بنا دیا کہ شاگرد خواہ مملکت کی عدالتِ عظمیٰ کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوتے، رات کو سوتے وقت اس امر کا اہتمام کرتے کہ ان کی چارپائی کی پائنتی ان کے استاد کے گھر کی جانب نہ ہو۔ مسلم معاشروں میں اساتذہ کو قبلہ و کعبہ کا درجہ حاصل رہا۔ تنزل اور انحطاط کے دور میں بھی کسی محفل میں استاد کی آمد کے بعد شرکائے محفل رضاکارانہ لب بستگی شعار بناتے اور استا د کے ملفوظات و فرمودات کی سماعت کے لئے سراپا گوش بن جاتے۔

ایوانِ وزیر اعلیٰ میں منعقدہ اس کانفرنس کے شرکاء کے تین گروپس تھے، پرائمری اساتذہ، کالج اساتذہ اور یونیورسٹی اساتذہ ۔

اس موقع پر اساتذہ کی جانب سے جو سفارشات پیش کی گئیں، اگر ان پر عملدرآمد کو یقینی بنا لیا جائے تو اس امر میں شبہ کی رتی بھر گنجائش نہیں رہتی کے معاشرے اور مملکت میں اساتذہ کا کا وقار بحال نہ ہو۔ اربابِ حکومت کوتعلیم سمیت تمام شعبوں میں مثبت تبدیلیوں کے لئے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہیے۔

مشاہدہ اور تجربہ اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے ،اساتذہ کو دباؤ سے آزاد فضا میں فرائض منصبی ادا کرنے میں مدد دی جائے ،ہر تعلیمی ادارے میں ایک کونسل تشکیل دی جائے اوراس کا سربراہ ادارے کے سربراہ کو بنایا جائے ،نیپا کی طر زپر اساتذہ کے لئے تربیتی ادارے قائم کئے جائیں،ٹیوشن کا رواج ختم کیا جائے ، تحقیق کی بنیاد پر تعلیم کی تنظیم کی جائے ،یونیورسٹی کے اساتذہ کی ترقی کو تعلیمی قابلیت میں اضافے اور ریسرچ سے مشروط کیا جائے ، تحقیقی کام کے جائزہ کے لئے سینئر اساتذہ کی خدمات مستعار لی جائیں ،طلباء اور اساتذہ ، والدین اور اساتذہ کے باہمی رابطے کے حوالے سے ضابطۂ اخلاق مرتب کیا جائے ،یونیورسٹی کے اساتذہ کو قومی پالیسیوں کی تشکیل کے عمل میں شامل کیا جائے اور سائنس اور آرٹس کے حوالے سے اساتذہ میں تفاوت ختم کیا جائے ۔ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وفاق اور صوبوں کی سطح پر قابل عملدرآمد پالیسیاں بنانا ہونگی جو معاشرے اور مملکت میں استاد کے مقام کو مزید سربلند کرنے میں عمل کی دنیا میں معاون بن سکے۔


ای پیپر