چیف جسٹس / عظیم جسٹس
15 جولائی 2018 2018-07-15

تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہے جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ اللہ جب کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو بندوں میں سے کسی خاص بندے کا انتخاب کرتا ہے اور پھر نیکی اس کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی شاید اللہ نے کچھ خاص کاموں کے لیے چن لیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ جانے سے پہلے تین کام کر کے جائیں گے۔ ڈیم کا بنانا ، کرپشن کا خاتمہ اور قرضوں سے نجات۔ کیسے کیسے لوگ اقتدار میں آئے اور کیسے کیسے دعوے کیے مگر سوائے کھوکھلے دعووں کے وہ کچھ نہ کر سکے۔ ہر دور میں ڈیموں پر صرف سیاست ہی ہوتی رہی مگر کسی نے اسے عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہ کی۔ اب اس کام کا بیڑہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اٹھایا ہے۔ اس وقت ڈیم پوری قوم کی ضرورت ہے۔ پانی کی قلت قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہرحال چیف جسٹس نے ڈیم بنانے کا آغاز کر دیا ہے اور دس لاکھ روپیہ اپنی جیب سے عطیہ کیا ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے 15 لاکھ کا اعلان کیا۔ پاک فوج بشمول بحری اور فضائی افواج نے اپنے افسران کی دو دن کی تنخواہ اور جوانوں کی ایک دن کی تنخواہ کا اعلان کیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے اپنی پوری تنخواہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈیم کا مسئلہ پر پوری قوم سیسہ پہلائی دیوار کی طرح چیف جسٹس کے پیچھے کھڑی ہو گئی ہے۔ ملک سے اندر اور ملک سے باہر لوگ پیسے ہاتھوں میں لیے کھڑے ہیں۔ حکومت وقت کو کوئی ایک پائی دینے کو تیار نہیں کیونکہ لوگ حکومت پر اعتبار نہیں کرتے۔ پانی کا مسئلہ اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ اگر اس پر ایک مکمل پالیسی نہ بنائی گئی تو آنے والے دور میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ڈیم کی تعمیر کی ابتدا ہو چکی اور پوری قوم کو اسے اپنا فرض جانتے ہوئے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ یہ ہمارا ہی نہیں ہماری آنے والی نسلوں کا بھی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے ہر شہری پر یہ فرض ہے کہ وہ ڈیم کی تعمیر میں اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق لازماً اس میں حصہ ڈالے اور ڈیم کی تعمیر کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ جب جب بھی پاکستان میں کوئی بحران آیا پاکستان قوم نے دل کھول کر حصہ ڈالا۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے۔ جب یہ قوم کسی کام کی ٹھان لیتی ہے تو پھر اس کا انجام تک پہنچا کر ہی دم لیتی ہے۔ وہی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں جو اپنے وطن کے لیے قربانیاں دیتی ہیں۔ دھرتی ماں کے جیسی ہوتی ہے، اس کی عزت، عظمت اور ترقی کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری میں شامل ہے۔ لہٰذا اس نیک کام میں ہمیں اپنے چیف جسٹس کے شانہ بشانہ چلنا ہو گا اور اس عظیم مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہو گا۔ دوسری بڑی چیز جو اس ملک کی بربادی میں زہر قاتل کا کام کر رہی ہے وہ ہے کرپشن کاناسور جسے جڑ سے ختم کرنا ہو گا۔ یہ کینسر بن کرقوم رگوں میں پھیل چکا ہے۔ اس پر بھی عدالتوں نے کام شروع کر دیا ہے اور بڑی بڑی مچھلیوں کو پکڑا جا رہا ہے۔ آئین اور قانون کا جال پھینکا جا چکا۔ اب اس جال میں بڑی مچھلیوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی مچھلیاں بھی آئیں گی۔ اب احتساب چھوٹی مچھلیوں نے نہیں بڑی مچھلیوں سے شروع ہو گا۔ احد چیمہ، فواجد حسن فواد، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصمہ یہ سب آپ کے سامنے ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے نواز شریف کے بعد زرداری اور فریال تالپور کو بھی طلب کر لیا ہے۔ شریف خاندان کا چیپٹر تو ختم ہوا زرداری کا شروع ہونے جا رہا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ زمینوں پر قبضے، بینکوں کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ اور قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر جائیدادیں بنانے کے بعد وہ بچ جائیں گے تو یہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جب اللہ کی پکڑ آن پہنچے تو وہ بڑی شدید ہوتی ہے۔ اب ناؤ منجد ہار میں ڈوبنے جا رہی ہے۔ جلد ہی قانون ان کرپٹ لوگوں کے گلے کو دبوچ لے گا۔ یہ بھاگنے کی کوشش کریں گے مگر پکڑے جائیں گے اور اگر کوئی بدقسمتی سے بچ نکلا تو اسے گھسیٹ کر واپس لایا جائے گا۔ ان کرپٹ مافیا اور چوروں کو الٹا لٹکا کر ان سے لوٹا ہوا مال واپس لینا ہو گا۔ ان کے بچے لوٹی ہوئی دولت سے امیر اور غریب کے بچے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پوری قوم کو بے وقوف بنا رکھا ہے مگر اب عوام بیدار ہو چکے ہیں۔ اب ان کے دھوکے میں کوئی نہیں آئے گا۔ قوم کو چاہیے کہ 2018ء کے الیکشن میں ٹھیک لوگوں کا انتخاب کریں اور ایسی قیادت کو سامنے لائیں جو اس ملک کو آگے لے کر جائے جو قوم کو ترقی کو راہ پر ڈالے۔ ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جائے جنہیں اپنی جیبیں بھرنے کا خیال نہ ہو بلکہ قوم کو خوشحال بنانے کا جذبہ اُں کے دلوں میں ہو۔ جو صرف اور صرف قوم کے بارے میں سوچیں۔ تیسری چیز جو سب سے اہم ہے وہ پاکستان کے قرضے۔ افسوس کہ یہ ملک قرضوں پر چل رہا ہے۔ پاکستان کا قرض کھربوں تک پہنچ چکا اس قرض کو اتارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سوچنے کہاں سے یہ قرض اترے گا۔ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ ان لٹیروں کے لیے وہی فارمولا اپنایا جائے تو سعودی عرب میں اپنایا گیا۔ ان کو کال کوٹھڑیوں میں ڈال کر ان سے چیک سائن کروائے جائیں اور پھر لوٹی لوئی دولت کر واپس لا کر پاکستان کا قرض اتار دیا جائے۔ پاکستان کے صرف دو ہی بڑے سیاستدانوں کو الٹا لٹکا دیا جائے تو پاکستان کا تمام قرض چکتا ہو جائے۔ ان چوروں، لٹیروں اور قذاقوں نے اس عظیم ملک کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا۔ اب وقت آ چکا ان کے گھرد گھیرا تنگ سے تنگ کر دیا جائے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا حساب لیا جائے۔ اب کچھ بھگوڑے احتساب سے بچنے کے لیے ملک کے امن کو خراب کے لیے تلے ہوئے ہیں۔ مگر ان کو یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ وہ اس سازش میں کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وطن کی حفاظت کا حلف لینے والے آنکھیں کھولے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ بے رحم سیاستدانوں نے اس ملک کے تمام اداروں کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھا اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اب ادارے آزاد ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر اس ملک کے ادارے مضبوط ہو گئے تو ملک اپنے پاؤں پر خود بخود کھڑا ہو جائے گا۔آپریشن ردالفسار بھی جاری ہے کوئی یہ نہ سمجھے ہم وطن کا امن خراب کر کے اپنے اہداف پورے کر لیں گے اور کڑے احتساب سے بچ نکلیں گے۔ ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ اپنے آپ کو طاقتور سمجھنے والے بھی ای سی ایل میں جا چکے۔ اب جزاء اور سزا کا معیار قائم ہو چکا جس نے جو کیا اسے بھگتان دینا ہو گا۔ ان چوروں لٹیروں، منی لانڈرنگ کرنے والوں اور بے گناہوں کی جانوں سے کھیلنے والوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ اب وقت ہے کہ ان سے پورا پورا حساب لیا جائے۔ ہمیں ہر صورت ان سے جان چھڑانا ہو گا۔ ان کی جھوٹی اور میٹھی باتوں میں آنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا ہو گا اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے جن کاموں کا بیڑا اٹھایا ہے اگر وہ ان سب کو کرگزرے تو چیف جسٹس آف پاکستان تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ آمین۔


ای پیپر