جمہوریت کے لیے مشعل راہ
15 جولائی 2018 2018-07-15

زمین کا یہ ٹکڑا سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سا لوں کی تا ریخ کا چشم دید گواہ ہے ۔ یہ علا قہ شرو ع سے سر سبز شاداب رہا ہے ۔دریا ئے رسی سارے علاقے کوسیراب کرتا تھادریائے رسی کے آثار آج بھی خانقاہ ڈوگراں کے نواحی گاؤں میا ں علی کے پا س ملتے ہیں۔ اس علاقے کا رجہ کامروپ تھا اور میاں علی اس کی راج دھانی محکمہ آثار قد یمہ نے کھدائی کر کے اس دور کی بہت سی نادرا شیا ء برآمد کی ہے مگر ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے کیو نکہ کھد ا ئی کا کام کتنے عرصے سے بند ہے وہا ں پر آج بھی محلوں کے آثا ر موجود ہیں راجہ چینی راجہ 630 ء میں یہاں سے گزرا اور اس نے اپنے سفر نا مے میں اس جگہ کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے ۔ یہ خا نقا ہ ڈوگراں ہے جو ایک اونچے ٹیلے پہ واقع ہے ۔بہت کم لوگ بد مت تھے زیا دہ تعداد دیو تا ؤ ں کے بچاریوں کی تھی جبکہ یہا سے شمال مشرق کی جانب دو میل ا شو کا کا مینار تھا وہاں بد ھ مت کے ما ننے والوں کی اکثریت تھی اس کے آ ثار آج بھی سا لا رسیداں کے نزدیک ملتے ہیں خانقاہ ڈوگراں سے سانگلہ ھل کی طرف سفر کرے تو وہ جگہ ہے جہا ں 16 اکتوبر 1916شیر محمدکا جنم ہوا تھا کچھ لو گ پیدا ہونے کے بعد زندگی اس ڈھنگ سے گزارتے ہیں کہ تا ریخ انہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلیے عزت اور وقار سے نواز دیتی ہے۔ انہی لوگوں میں شیر محمد کا شمار ہوتا ہے1932 میں سانگلہ ہل سے میٹرک کا امتحا ن پا س کیا یا د رہے کہ سانگلہ وہ تا ریخی مقام ہے جہاں کے رہنے والوں نے سکندر یو نا نی کو ماں کا دودھ یاد دلا دیا تھا ۔ نبی نو ع انسان سے ہمدردی، عاجزی کا درس گھرسے لینے والا شیر محمد مسلم لیگ کا ایک فعال رکن بن گیا۔1944میں مسلم لیگ کے مرکزی رکن کے طور پر قائد اعظم سے ملے اور اپنی ساری زندگی جناح کی مسلم لیگ کیلیے وقف کر دی جناح کے شانہ بشانہ کا م کرنے کا صلہ پا کستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔قائداعظم محمد علی جناح ریل کے زرئعے جب لاہور سے ڈھابان سنگھ سے گزرے تو ان کے استقبال کیلئے اپنے ساتھیوں سمیت اسٹیشن پر موجود تھے اور حال ہی میں د نیاں سے رخصت ہونے والے شیخ محمد طفیل گھڑی ساز رضاکارانہ طور پر حفاظتی دستہ میں شریک تھے۔7اپریل 1951ء پہلے وزیر اعظم پاکستان شیخوپورہ تشریف لائے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں نمااں تھے۔ 1958ء میں جب مارشل لاء نافذ ہوا تو لوگ جوق در جوق ایوب کے در پہ سجدہ ریز ہونے گئے مگر شیر محمد مانگٹ نے جمہوریت کیلئے جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا محترمہ فاطمہ جناح جب ایوب کے خلاف الیکشن میں حصہ لینے کیلئے سامنے آئیں تو جن لوگوں نے سب سے پہلے محترمہ کی آواز پر لبیک کہا انہی میں شیر محمد مانگٹ بھی ایک تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جتنے بھی ساتھی تھے وہ جناح کی مسلم لیگ سے محبت کرتے تھے اور ملک میں جمہوریت کی بقاء کیلئے محترمہ کے دست وبازو تھے، انہوں نے محترمہ کی الیکشن مہم اس طرح سے چلائی تھی کہ ایوب اور اس کے حواری خوف زدہ ہو گئے تھے اور ریاستی جبر پہ اتر آئے تھے۔ نرم گرم ریاستی پیغام چوہدری شیر محمد مانگٹ تک پہنچائے گئے کہ ایوب کا پھول سینے پہ سجا لو اور محترمہ کی لالٹین سینے سے اتار دو تو جمہو ر کیلئیے کوشاں شیر محمدنے کہاں کے میں سینے پے لا لٹین اسی وجہ سے سجائے پھرتا ہوں کہ آنے والے وقت میں میری اس دھرتی پہ امن اور محبت کے پھول کھلتے رہیں۔رانے ،ٹوانے ،چیمے ،چھٹے، سب کے سب اپناسب کچھ ایوب کے در پہ لٹانے کیلیے دن رات کو شا ں تھے 4نومبر 1964ء کی ہی ایک صبح تھی جب جنا ح کی بہن شیخوپورہ کی چرچ گڑاؤنڈ میں جلسہ کیلیے تشریف لائیں۔اس تاریخ ساز جلسہ نے ایوب اور اس کے حوایوں کی نیند اڑادی تھی۔محمد علی جناح کے فکردفلسفہ سے پیار کرنے والوں نے جلسہ کے انتظامات بڑے شاندار طریقے سے کیئے تھے ابھی محترمہ کی کار شیخوپورہ سے 3کلو میٹر دور تھی کہ سڑک کے دونوں طرف کھڑے لوگوں نے ایوبی آمریت مردہ آباد، فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگانے شروح کردیے تھے دیہاتی اور شہری بڑی تعدادمیں تانگوں، بیل گاڑیوں، سائیکلوں اور ریل کے زریعے پہنچے تھے محترمہ فاطمہ جناح جلسہ گا ہ پہنچی تو شیر محمد ما نگٹ اور چوہدری محمد حسین نے ان کا استقبال کیا محترمہ پر جوش مقرر تونہ تھی لیکن جمہوریت کا جوپیغام وہ دینا چاہتی تھیں وہ لو گوں کو دیا جس دن الیکشن ہوا اس کے نتجہ نے بھی ایوب اور اس کے شمروزیاد کوحیران کر دیا تھاچند ایک ووٹوں کی تعداد سے ایوب جیت سکا تھااور جیت کی وجہ بھی یہی تھی کہ ممبر ز کو ڈنڈے کے زور پر ڈرایا گیا تھارانافضل الرحمن اور دوسرے حواری سادہ لوح دیہایتوں کو جہنم کے عذاب سے ڈراتے رہے عورت کی حکمرانی کے خلاف مصر سے فتویٰ منگواتے رہے جب ذولفقار علی بھٹوں کی حکومت آئی تو اپنے شہر ڈھاباں سنگھ جمہور کیلئے کو شاں رہے گھر کے دروازے ہر شخص کے لیے ہر وقت کھلے تھے قطع نظر مذ ہب و منسلک تمام لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے اور رواداری کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا شیر محمد مانگٹ ایسی شخصیت تھی جن کے ساتھ لو گ محبت کرتے تھے نوجوانوں کو ہمیشہ کھیلنے کی تر غیب دیتے رواداری اور امن سے رہنا ان کا درس ہوتاتھامکالمہ اور گفتگو پر یقین رکھتے تھے جب ضیاء الحق کا دور شروع ہوا تو شیر محمد مانگٹ کو بھی مجلس شوری کے ممبر کے طور پر آفر کی گئی مگر یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جس کام کیلیے ساری زندگی وقف کی ہے اس پر سمجھوتا نہیں کر سکتاحالہ نکہ میاں مشتاق ڈوگر جو اپنے آ پ کو ذولفقار علی بھٹو کا سپاہی کہتا تھا سب سے پہلے ضیاء کی مجلس شوریٰ میں شامل ہوا شیر محمد ایک مدبر اور اصول پرست انسان تھے اور سار ی زندگی اپنے اصولوں پر کا ر بند رہے کہتے ہے کہ زندگی اگر موت سے بچی بھی رہے تو عمر اسے مار دیتی ہے 16اکتو بر1916ڈھاباسنگھ کی دھرتی پہ جنم لینے والا شیر محمد75سال کی عمر میں اس دنیا ں سے رخصت ہو ا کہ خدا ئے لم یزل کا یہی فیصلہ تھا جولائی کا مہینہ اور 1983ء کا سال ہے آج پھر جولائی کا مہینہ اور الیکشن کا سال ہے ہم سب کو گھروں سے نکلنا ہو گا علم امن محبت اور روا داری کیلیے یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ہمارا جو حال ہے وہ ہمارے بچوں کا ماضی ہو گا۔


ای پیپر