اقتدار کی طنابیں ’’نادیدہ‘‘ قوتیں
15 جولائی 2018 2018-07-15

وطن عزیز میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی کا معاملہ ایک مدت سے عقدۂ لاینحل بنا ہوا ہے۔ جس معاشرے اور مملکت میں میرٹ کی حکمرانی اور قانون کی عملداری برقرار و استوار نہ رہے، اس کی داخلی سرحدیں غیر محفوظ ہو جاتیں اور شہریوں کیلئے حقوق اور انصاف کی دستیابی مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتی ہے۔ غیرمتمدن اور غیر مہذب انسانی معاشروں کے شہریوں کا سب سے بڑا المیہ یہ رہاہے کہ وہاں بارسوخ طبقات نے کبھی میرٹ اور قانون کی عملداری کو بحال نہیں ہونے دیا۔ ایسے معاشروں میں عوامی اور شہری حلقوں میں مقتدر طبقات کے خلاف انتہائی شدید نفرت نمو پاتی رہتی ہے۔ یہ نفرت بتدریج اس حد تک شدید اورتوانا ہو جاتی ہے کہ اس کے بغاوت میں بدل جانے میں دیر نہیں لگا کرتی۔ ایسے معاشروں کی ٹوٹ پھوٹ، ریزہ کاری اور شکست و ریخت کی پیشین گوئی بآسانی کی جا سکتی ہے۔

یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ جمہوری شعور کی سرافرازی کی اس صدی میں بھی سفارش اور رشوت کے بل بوتے پر معاشرے اور مملکت کے بارسوخ طبقات ناجائز ترین کاموں کیلئے بھی سرکاری عمال سے’’ اسنادِ جواز‘‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔سفارش اور ر شوت کی فرمانروائی میں اہلیت اور صلاحیت کا قتل روز مرہ کا معمول بن کر رہ جاتا ہے۔رشوت زدہ اور سفارش گزیدہ مملکتوں اور معاشروں میں عام شہری اہلیت، صلاحیت اور استعداد ہونے کے باوجود اپنے حق اور استحقاق سے محض اس لئے محروم رہ جاتا ہے کہ اس کے جیب و داماں میں سفارش اور رشوت کے کارڈ نہیں ہوتے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ اور مملکت جس میں میرٹ کا قتل عام بے دریغ کیا جا رہا ہو، کیا اس کی بقاء ممکن ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب دنیا کا کوئی بھی ذی شعور شہری اثبات میں دینے کیلئے آمادہ نہیں ہوگا۔

یہ المیہ ہے کہ وطن عزیز میں قانون کو بارسوخ اور طاقتور طبقات نے موم کی ناک بنا رکھاہے۔ اندریں حالات عام شہری کے ذہن میں یہ تصور اور احساس راسخ ہو چکا ہے کہ تمام ریاستی ادارے، معاشرہ اور مملکت کے مٹھی بھر مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کو کسی طور خوشگوار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب حالات اس حد تک مخدوش ہو جائیں تو عام شہری ریاست کے ہر ادارے پر عدم اعتماد کرنا اپنا حق جانتا ہے۔ مخصوص حالات میں اُس کے اِس اقدام کو فطری اور جائزہی متصور کیا جائے گا۔کسی ریاست میں رہنے والے شہریوں کا ریاستی اداروں پر عدم اعتماد اس امر کا مظہر ہوتا ہے کہ اس ریاست کے ذمہ داران ریاست کی داخلی حدود میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے سے قاصر رہے ہیں۔ انکے اس ’’عجز‘‘ کی وجوہات ظاہر و باہر ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ جب کسی ریاست کے ذمہ داران قانون اور میرٹ کے حوالے سے دوعملی اور دو رخے پن کے ارتکاب میں کسی قسم کا تامل محسوس نہ کرتے ہوں تو ان کے حواری اس ’’کمزوری‘‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میرٹ کی پامالی کے عمل کو بدترین انتہاؤں تک پہنچا دیاکرتے ہیں۔

جہاں تک قانون اور میرٹ کی حکمرانی قائم کرنے کے دعوے کا تعلق ہے توپاکستان کے شہری گزشتہ 70برسوں سے یہ ’’خوشخبری‘‘ ہر منتخب اور غیر منتخب، سول و ملٹری حکمرانوں کے ’’دہنِ مبارک‘‘ سے سنتے آ رہے ہیں۔ وہ الفاظ جو حکمران محض آرائشِ بیاں اور زیبائی گفتار کیلئے ہونٹوں پرلائیں اور جوعمل کی قوت اور نفوذ کی طاقت سے محروم ہوں، عام شہریوں کے مسائل کا حل اور ان کے درد کا درماں نہیں بنا کرتے۔ عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ یہاں کئی ’’درویش صفت‘‘ اور ’’مردانِ حق ‘‘قسم کے فرمانروامیرٹ کی حکمرانی کیلئے شبانہ روز کوشاں رہے۔آخر کارانہیں تسلیم کرنا پڑا کہ وہ یہ ’’بھاری پتھر‘‘ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔

ہمارے منتخب حکمرانوں کی بے بسی بھی دیدنی ہوتی ہے۔ بظاہر وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اعلیٰ ترین عہدوں پر فائزہوتے ہیں لیکن بباطن اقتدار و اختیار کی طنابیں ’’ نادیدہ ‘‘ قوتوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ یہ قوتیں بلا خوف تردید ’’بادشاہ گر‘‘ہیں۔ اس تناظر میں عام شہری یہ کہنے میں کبھی باک محسوس نہیں کرتے کہ مذکورہ قوتیں ہی درحقیقت میرٹ، قانون اور انصاف کی قاتل قوتیں ہیں۔ جب تک منتخب حکمران ان نادیدہ قوتوں کے تسلط و اختیار کا جوا اپنی گردنوں سے اتار پھینکنے کی جرات پیدا نہیں کرتے، ان کے بلند بانگ دعوے عمل اور نفاذ کی روح سے خالی رہیں گے۔ عوامی حلقے چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ہر سطح پر میرٹ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے اور حکمران طبقات محض بیانات جاری کرنے کے بجائے میرٹ اور قانون کی حکمرانی کی بحالی کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی عملی کوشش کریں۔ عیاں را چہ بیاں کے مصداق اس عملی کوشش کیلئے زبردست اخلاقی جرات درکار ہوگی۔ جب تک یہ اخلاقی جرات پیدا نہیں ہوتی میرٹ اور قانون کی بحالی کا خواب تشنہ تعبیر ہی رہے گا۔


ای پیپر