حکومت ضد پر ڈٹی ہے  لیکن انہیں ہر صورت جانا ہوگا ،مولانا فضل الرحمان 
15 جنوری 2021 (19:30) 2021-01-15

اسلام آباد: پی ڈی ایم کے سربراہ جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت ضد پر ڈٹی ہوئی ہے ،یہ شرم کے مارے حکومت نہیں چھوڑ رہے لیکن انہیں ہر صورت جانا ہوگا ، عوام کو حکومت سے نجات دلاکر ان کا مزید استحصال نہیں کرنے دینگے ۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 19جنوری کو اسلام اباد میں ریلی کی شکل میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے خلاف بھر پور احتجاج کرینگے کیونکہ اس کیس میں اسرائیل بھارت اور امریکہ نے عمران خان کی مالی سپورٹ کی ہے ہم اسے ضرور بے نقاب کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کیس بھی انکے اپنے ایک بانی ممبر نے دائر کیا ہے اور کئی سال گذرنے کے بعد بھی اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا  انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن کیس کا ابھی کوئی فیصلہ کرے تو عمران خان آئین کے ارٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے ضد میں آکر وزیر اعظم نہیں رہ سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو نہیں مانتا اور اسکے سامنے کھبی پیش نہیں ہونگا انکے نوٹسز کی کوئی حیثیت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دو ہزار اٹھارہ کے فراڈ الیکشن کو اسی وقت ہم نے ماننے سے انکار کردیا تھا اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور دیگر کو بھی کہا گیا کہ اسمبلی کا حلف نہ لو لیکن انہوں نے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے حلف لیا جس پر ہمیں بھی مجبوری کے طور پر پھر حلف لینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی ملک کے متفقہ آئین کے بجائے چین ،ایران اور ملائیشیا کے سسٹم سے متاثر ہیں ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہمارے حکمران اپنے آئین کو دل سے لگا تے ہوئے اس پر من وعن عمل کرتے تو ملک جمہوری قانونی اور ائینی طور پر دنیا اور قوم  اسکی مثالیں دیتے ۔  انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو جمہوری طور پر مظبوط و مستحکم بنانے اور اسکی سالمیت و بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں نااہل حکومت نے ملک کو نازک حالات سے دو چار کر دیا ہے آج ہماری سرحدیں محفوظ نہیں، بھارت ہماری سرحدی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور ہم پر دنیا میں غلبہ حاصل کرنے  کے دوڑ میں مصروف ہے اور ہم آج کہاں کھڑے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر بھارت میں   نریندرمودی الیکشن جیت گیا تو مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی مدد ملے گی لیکن ان کے آنے کے بعد کشمیر کو انہوں نے باقاعدہ اپنا حصہ قرار دیکر آئینی طور پر اسے بھارت میں ضم کردیا ۔آج وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے کہ آپ کی مودی سے کیا ڈیل ہوئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی افواج کا احترام و عزت کرتے ہیں آئین میں طے کردہ حدود میں وہ کام کریں تو ہماری ان سے کوئی محاز ارائی نہیں ہم فوج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنایا گیا ہمیں خوشی ہوئی لیکن فاٹا کے ایک کروڑ سے زائد آبادی والے ایریا پر مشتمل وسیع علاقے کو کیوں صوبہ نہیں بنایا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے مارچ پنڈی جائے گا یا اسلام آباد اسکا فیصلہ بھی پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے مشاورت سے کیا جائیگا  ۔


ای پیپر