تعلیم میں بھی با بوئو ں کی کر پشن
15 جنوری 2021 (12:20) 2021-01-15

وفاقی حکومت نے 18 جنوری سے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔ کورونا وائرس کے تسلسل کے باعث ایسے اعلانات اس سے قبل بھی ہوچکے ہیں لیکن بادی النظر میں تعلیمی ماہرین اور تدریسی دانشور اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور صوبائی وزارتوں کا طرز عمل آن گرائونڈ سنجیدہ نہیں ہے، وہ ایڈہاک ازم کا شکار ہے اور تعلیمی مسائل کی گمبھیرتا نے انہیں فکری ابہام کا شکار بنادیا ہے۔اطلا ت کے مطا بق حکو مت نے  پہلے مرحلے میں 18 جنوری سے نویں، دسویں (میٹرک) اور گیارہویں، بارہویں (انٹر) تک تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیاہے ۔پہلی سے 8 ویں تک تعلیمی ادارے 25 جنوری سے کھولے جائیں گے۔ یکم فروری سے یونیورسٹیز میں تدریس کا عمل شروع ہوگا۔ مارچ میں ہونے والے بورڈ کے امتحانات اب مئی اور جون میں ہوں گے۔ دوسری جانب وزیر تعلیم سندھ نے کہا ہے کہ سکول کب سے کھلیں گے، اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ وزیر تعلیم سندھ نے بتایا کہ 25 جنوری سے پرائمری سکول کھولنے کی تجویز آئی ہے جبکہ سیکنڈری سکول فروری کے پہلے ہفتے میں کھولنے کی تجویز سامنے آئی ہے، بعد میں بڑی کلاسیں کھولنے کی تجویز بھیجی گئی ہے۔ 19 جنوری کو اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ تجویز میں تین مراحل میں سکول کھولنے کی بات کی گئی ہے۔ سکول کھولنے کا فیصلہ این سی او سی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا ڈیٹا دیکھ کر کرنا ہے۔

زمینی تعلیمی حقائق کا منظر نامہ قابل غور ہے، تخلیقی و تدریسی کلچر کی نشوونما میں غیرتعلیمی قوتوں کے ہوس زر کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے، پورے نظامِ تعلیم کو مسخ کرنے کی تاجرانہ مہم جوئی اور کاروباری کوششوں نے طالب علموں سے امتحانات اور تحقیق و تدریس کی متاع گم گشتہ چھین لی ہے۔ آج قوم ایک باوقار اور صد فی صد شفافیت پر مبنی نظام تعلیم وتدریس کو ترس رہی ہے اور ٹیلنٹ کو دیس نکالا مل چکا ہے، لہٰذا جو ماہرین تعلیم سکولوں، کالجوں اور جامعات میں تدریس کی تاریخیں مرحلہ وار دے رہے ہیں انہیں خبر ہونی چاہیے کہ تعلیمی پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے اور تعلیم کے تاجروں، بوٹی مافیا نے قوم کی فکری مٹی سیم و تھور سے متاثرہ دلدلی زمین بنادی ہے۔ نئی نسل اس منطقی، فلسفیانہ اور سائنسی و تکنیکی سوچ سے میلوں دور پھینک دی گئی ہے۔ جن درسگاہوں کی اقدار سے آشنائی کی دولت کو ان کے معتبر استاد اپنی زندگی اور تعلیمی مشن کا سرچشمہ قرار دیتے تھے، آج بدقسمتی سے استاد اور طالب علم کے درمیان ایک ایسا بوالہواس طبقہ حائل ہوگیا ہے جس کا مقصد حیات شارٹ کٹ اور پیسہ بنائو چمتکاری کے سوا کچھ اور نہیں۔ اس لیے ماہرین تعلیم قوم کو بتائیں کہ ارباب اختیار تعلیمی آدرش کے کن آفاقی اصولوں کی روشنی میں نظام تعلیم مستقبل کی صورت گری کر رہے ہیں؟ یکساں تعلیمی نظام نافذ ہورہا ہے مگر ملکی نظام اقدار اور قوم کی بنیادی فکری اساس کی مضبوطی میں مادر علمی کی عملی حیثیت کیا ہے؟ کس نے تعلیم کو تجارت، نفع بخش پیسہ کی چابی ہاتھ 

میں تھماد ی کہ پور اسماج تعلیمی جعل سازی اور دو نمبر کام کی نذر ہوگیا ہے۔ ماہرین تعلیم بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ تعلیم و تدریس کا ڈھانچہ ملک میں پھیلے ہوئے نقل اور بوٹی مافیا کی زد میں ہے۔ نظام امتحانات کی مٹی پلید ہوگئی، کنٹرولر امتحانات سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ وہ تمام طالب علم جن کے والدین اپنی حق حلال کی کمائی کو بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی فکر میں غلطاں تھے انہیں تعلیم فروشوں کی یلغار نے پریشان کردیا۔ جو اہل طلبا و طالبات ہیں، دن رات محنت سے پڑھائی کرنے میں منہمک ہیں وہ ان خبروں سے کس قدر متاثر ہوں گے اور وزارت تعلیم کے حکام کو ادراک ہے کہ پرچوں کے’’آئوٹ‘‘ ہونے کی مافیائی علم دشمنی میں کون سے پردہ دار ملوث ہیں۔ عام آدمی یا گروہ ایسے خطرناک کاروبار میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا، جن کے کارندے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لیے شرمسار کھڑے نظر آتے ہیں۔ایک لرزہ خیز خبر یہ بھی ہے کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تمام امتحانات مشکوک ہوگئے ہیں۔ انسپکٹر اینٹی کرپشن کے لیے ٹاپ کرنے والے دونوں امیدواروں نے پرچے خریدے تھے، کمیشن کے اعلیٰ افسروں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹیسٹنگ کنسلٹنٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیاہے۔ ملزمان نے لیکچرار ایجوکیشن، کیمسٹری تحصیلدار، ڈپٹی اکائونٹس آفیسر، انسپکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سمیت 12 پرچے فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تمام امتحانات مشکوک ہوگئے ہیں۔ گروہ نے 12 امتحانات کے پیپرز لیک کرنے کا ریٹ 10 لاکھ سے 15 لاکھ رکھا۔ یہ پرچہ 8 افراد کو فروخت کیا۔ صحافت، کیمسٹری، ایجوکیشن سمیت متعدد مضامین کے لیکچررز کی اسامیوں کے لیے بھی پرچے فروخت کیے گئے۔ اینٹی کرپشن پنجاب نے پی پی ایس سی کے پیپر لیک سکینڈل میں ایک او رملزم کو گرفتار کرکے عدالت سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔ ملزم نے تحصیلدار کے پرچے کے لیے 6 امیدواروں کو بک کیا تھا۔ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق ملزم ایجوکیشن کمیشن میں کنسلٹنٹ ٹیسٹنگ ہے، اس کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ روپے ہے۔ ملزم 2010ء سے 2017ء تک ریجنل ڈائریکٹر این ٹی ایس رہا۔ ملزم نے اس کے بعد سی ٹی ایس بنالی۔ ایک ملزم کی وٹس ایپ چیٹ سے دوسرے ملزم کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا۔ امیدواروں کو رشوت کے عوض بک کرنے کی ذمہ داری ایک ملزم کی تھی۔ بک کیے گئے امیدواروں کو ایک ملزم، دوسرے ملزم کے حوالے کرتا تھا۔ اینٹی کرپشن میں انسپکٹرز کی اسامیوں کے لیے دونوں ٹاپرز بھی پرچہ خریدنے میں کامیاب ہوئے۔ انسپکٹر اینٹی کرپشن کی اسامی کے لیے دونوں ٹاپر بھی لیک پرچہ خریدنے والے امیدواروں میں شامل تھے۔ اینٹی کرپشن کے پرچے آئوٹ کرنے کے لیے امیدواروں سے فی کس مبینہ 5 لاکھ روپے رشوت لی گئی۔ اینٹی کرپشن نے پی پی ایس سی کے گرفتار ڈیٹا انٹری آپریٹر کے بیانات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ پرچہ لیک ہونے کے سکینڈل میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے۔ اینٹی کرپشن نے پی پی ایس سی کے ڈیٹا انٹری آپریٹرز کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔ سکینڈل کے تمام کرداروں کو جلد بے نقاب کریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن مچھلیوں نے تعلیمی تالاب کو گندا کردیا ہے وہ تو ہما رے بیورو کریٹس با بوئوں کی صورت میں پہلے سے ملک بھر میں پھیل چکی ہیں، مسئلہ چند تعلیم دشمنوں کا نہیں، یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ تحقیق اس بات پر ہونی چاہیے کہ جس ملک کے نظام تعلیم میں اتنے بڑے پیمانے پر سالہا سال سے ڈکیتیاں پڑ رہی ہیں۔ ان گروہوں نے ایسا طبقہ پیدا کیا جن کے بچے ان ہی نقل و بوٹی مافیا اور پرچہ لیک کرنے والے کی خرد دشمنی کے باعث تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لیتے رہے، وہ بھی جعلی اور ان اسناد کی بنیاد پر وہ ترقیاں پاتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے جبکہ غریب مگر اہل و ذہین طلباء و طالبات میریٹو کریسی نہ ہونے اور اقربا پروری کی وجہ سے تقرری اور ترقی نہ پاسکے۔ تاہم کند ذہن، کام چور عناصر چور دروازے اور شارٹ کٹ تعلیم کی دیوار پھلانگ کر سرکاری ملازمتیں حاصل کرتے رہے۔نتیجتاً گو رنمنٹ کے کلیدی شعبو ں پر فا ئز ہو کر نا لا ئق با بوئوں نے افسر شاہی کے وہ خواب پورے کرلیے جو مستحق اور اہل و غریب طالب علموں کے نصیب میں نہیں لکھے گئے تھے، اس چور دروازے کو اب بند ہونا چاہیے۔ یہ تعلیمی شعبے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔


ای پیپر