پاکستان پرانتہا پسند ہندوؤں کی ناپاک نظریں
15 جنوری 2021 (12:20) 2021-01-15

5 اگست 2019 کومقبوضہ کشمیر کے اسٹیٹس سے متعلق مودی سرکار کے فیصلے سے بی جے پی، آر ایس ایس، شیوسینا سمیت تمام انتہا پسند ہندوؤں کا اصل چہرہ سامنے آ گیا۔ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد انتہاپسند ہندو مملکت خداداد پاکستان پر اپنی ناپاک نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔بزدل بھارتیوں نے دن دیہاڑے کھلی آنکھوں سے اکھنڈ بھارت کا ناپاک خواب دیکھنا شروع کر دیاہے۔ سنجے راوت جیسے انتہا پسند ہندوؤں کے اکھنڈ بھارت جیسے مضحکہ خیز بیانات سے جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اصل چہرہ عیاں ہوتا ہے جسے بھارت نے نام نہاد جمہوریت کے لبادے میں چھپایا ہوا ہے۔

یہ واقعی دن میں خواب دیکھنے والی بات ہے کہ بھارت میں ہندو توا کی جماعتوں کی جانب سے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور پاکستان پر قبضے کی خواہش کا اعلانیہ اظہار کیا جاتا ہے۔ آخر یہ اکھنڈ بھارت کیا ہے اور اس کے نقشے میں کون کون سے ممالک شامل ہیں؟۔اکھنڈ بھارت کے بارے میں اکثر لوگوں یہی سمجھتے ہیں کہ یہ 1947 کی تقسیم سے پہلے کے متحدہ ہندوستان پر مشتمل ہے جو غلط ہے کیونکہ اکھنڈ بھارت کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔

ہندو توا کے اکھنڈ بھارت کے نظریے میں جنوبی ، مشرقی اور وسطی ایشیا کے وہ ممالک شامل ہیں جن میں ہندو ازم یا بدھ مت موجود ہے۔ اکھنڈ بھارت کے نقشے میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، کشمیر، تبت، نیپال ، بھوٹان، افغانستان، سری لنکا، برما اور انڈو نیشیااور ملائیشیا کے کچھ حصے شامل ہیں۔ہندو انتہا پسند ’ اکھنڈ بھارت‘ نظریے کے تحت بھارت کی سرحدوں کو تین صدی قبل کی ریاست ہندوستان بنانا چاہتے ہیں۔ تین صدی قبل مسیح میں چندر گپت موریہ ہندوستان کے حکمران تھے اور ان کی حکومت کی سرحدیں جہاں تک پھیلی ہوئی تھیںوہیں تک دوبارہ بھارت کی حکمرانی کو پھیلانا ہی اکھنڈ بھارت یا غیر منقسم ہندوستان کا نظریہ ہے۔

بھارت کی تمام ہندو قوم پرست تنظیموں اور جماعتوں کی طرف سے اکھنڈ بھارت یا اکھنڈ ہندوستان کے قیام کی تحریک کی بھرپور حمایت کی گئی ہے مثلاً ہندو مہاسبھا، ککبھوسوندی انقلابی فورم، راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد، شیو سینا، ہندو سینا ، ہندو جناجاگرتی سمیتی اور بھارتیا جنتا پارٹی وغیرہ۔اسی مقصد کے لیے کام کرنے والی ایک اور تنظیم اکھنڈ ہندوستان مورچہ نے تو اپنا تنظیمی نام ہی اس اصطلاح کو بنایا ہوا ہے۔ ہندوستان کی دیگر اہم سیاسی جماعتیں مثلاً بائیں بازو کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس وغیرہ اکھنڈ بھارت کے دوبارہ قیام کی تحریک کی حمایت نہیں کرتی، اگرچہ ہندوستان کشمیر ( ہندوستان، پاکستان اور چین کے درمیان منقسم ریاست) کو سرکاری نقشہ جات میں اپنا اٹوٹ انگ بتاتا رہا ہے۔

 انتہا پسند ہندوؤں کی گھر واپسی مہم بھی اکھنڈ بھارت کا ہی ایک حصہ ہے۔ ''بھارتیہ ہندو شدھی مہا سبھا'' نامی تنظیم کا بنیادی مقصد صاف اور واضح طور پر بتایا گیا کہ اس کا مقصد ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والے لوگوں کو شدھی یعنی ''پاکیزہ'' کرنا اور انہیں دوبارہ ہندو مذہب میں داخل کرنا ہے۔ کہا گیا کہ مسلمان اور ان سے پہلے عیسائی اس خطے میں بعد میں آئے۔ اس سے قبل سارے لوگ تو ہندو تھے لہٰذا ان سب کو دوبارہ ہندو بنانا ضروری ہے۔ اس تحریک کو ہندو اکثریت کے خطے ہندو رہنمائوں کی بھرپور تائید حاصل ہوئی تو ہندوئوں نے غریب اور لاچار مسلمانوں کو دھونس اور دبائو کے ساتھ پیسے کا لالچ دے کر ہندو بنانا شروع کر دیا۔ میو آبادی کا علاقہ میوات شدھی تحریک کا خاص نشانہ بنا۔

بھارت میں سنگ پریوار کی ذیلی تنظیموں آر ایس ایس اور شیو سینا کی مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو ہندو بنانے کی مہم جاری ہے۔ ریاست اترپردیش میں شیوسینا نے مسلمانوں کوزبردستی ہندو بنایا۔ مذہب کی تبدیلی سے انکار پر شیو سینا کے غنڈے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر تشدد کرتے ہیں اور ان کی املاک جلادیتے ہیں۔ مودی حکومت نے سنگ پریوار کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ بھارتی حکومت اقلیتوں کے ساتھ ظلم کررہی ہے۔ کئی مسلم خاندانوں کی طرف سے بی جے پی کی رہنما اور سابق میئر شکنتلا دیوی پر مسلمان لڑکیوں کو جھانسا دیکر مذہب تبدیل اور ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کے الزامات تواتر کے ساتھ عائد کئے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں علی گڑھ سے لاپتہ ہونے والی ایک مسلمان لڑکی ہندو لڑکے کے ساتھ منظر عام پر آئی اوراپنی مرضی سے شادی کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم مذکورہ لڑکی کے بہنوئی کے مطابق ان کی سالی 7 اگست کو لاپتہ ہوئی تھی اور گھر سے زیور بھی غائب تھا۔ مسلمان لڑکی کی بہن نے شکنتلا دیوی پر بہن کے اغوا کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میری بہن میڈیا کے سامنے جس کار پر بیٹھ کر آئی تھی وہ شکنتلا کی کار ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہوا اس سے قبل بھی شکنتلا دیوی مسلمان لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرانے اور شادی کرانے میں پیش پیش رہی ہے۔ 

آر ایس ایس سربراہ نے کھل کر کہا ہے کہ جو لوگ بھی ''دھرم ''سے بھٹک گئے ہیں ہم انہیں واپس لائیں گے۔ اگر کسی شخص کو یہ پسند نہیں تو اسے روکنے کے لئے کوئی قانون بنائیں۔ ہم کسی کا مذہب تبدیل کرنے کے لئے باہر نہیں نکلے ہیں لیکن اگر ہندو تبدیلی نہیں لائیں گے تو ہندو دھرم کبھی نہیں بدلے گا۔جس وقت آر ایس ایس کے سربراہ نے یہ بیان دیا اسی وقت بھارتی ہندو تنظیم دھرم جاگرن سمیتی کے علاقائی صدر راجیشور سنگھ نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ہندوستان ہندوؤں کیلئے اور پاکستان مسلمانوں کیلئے ہے۔


ای پیپر