بجٹ سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت
15 جنوری 2021 (12:19) 2021-01-15

کسی نے سچ کہا ہے کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ یا گورکھ دھندا نہیں ہوتا بلکہ یہ قومی اقدار اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ایک ماہرِ معاشیات کا کہنا ہے کہ بجٹ سے خواہشات کے گھوڑے کو روکا نہیں جا سکتا مگر بجٹ اعلان ہوتے ہی اضطراب اور تذبذب میں پڑے شہریوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس کس چیز کے خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یوں بجٹ قومی معاملات کے حوالہ سے ایک جمہوری حکومت کے لئے ایسی اقتصادی مشعل ہے جس کی روشنی میں حکومت اپنے مینڈیٹ کے ذریعے شہریوں کو ضروریاتِ زندگی کی فراہمی یقینی بنا سکتی ہے اور مختلف اہم منصوبوں کی تکمیل، قومی اداروں اور ملکی سلامتی و دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی معاشی قوت اور جمہوری اقدار پر قائم رہنے کا احساس دلا سکتی ہے۔ قومی میزانیے دنیا بھر میں بنتے ہیں، پاکستان میں پہلے بجٹ سے آج تک مختلف اعداد و شمار اور منصوبوں پر مبنی کبھی سر پلس، کبھی خسارہ اور اور عموماً متوازن بجٹ پیش کرنے کی روایت رہی ہے۔ لیکن بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شمولیت کا معاملہ پاکستان میں بجٹ ماہرین، سول سوسائٹی اور عوام کے ہاں گہری تشویش کا باعث رہا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا طے شدہ نظام موجود نہیں جو بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنائے۔  

بہترین بجٹ کی تیاری کے لئے ضروری ہے کہ بجٹ سازی کے عمل سے قبل ہی ان لوگوں کی آراء معلوم کی جانی چاہئے جن کے لئے بجٹ بنایا جا رہا ہے یعنی عوام کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہئے۔ بجٹ میں شفافیت اس امر کی متقاضی ہے کہ ہر شہری کے پاس بجٹ سازی کے عمل کا جائزہ لینے اور اس میں شمولیت کے پورے مواقع ہوں لیکن ہمارے ہاں دہائیوں سے کبھی ایسا نہیں ہوا اور بجٹ کی دستا ویز خفیہ طور پر تیار کی جاتی ہے اور شہریوں یا ان کے نمائندوں کو شمولیت کا خاطر خواہ موقع نہیں مل پاتا یہی وجہ ہے کہ ساکھ کا یہ عالم ہوتا ہے کہ حکومتوں کے جاری کردہ اقتصادی سروے جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں ہوتے مگر کمال ڈھٹائی کے ساتھ اسے پیش  کئے جاتے رہے ہیں۔ ہر حکومت یہی دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نے ملک کو معاشی بحران سے نکال لیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج تک بد ترین معاشی بحران سے دوچار ہیں۔ ہماری حکومتوں کی پالیسیوں نے پاکستان میں زراعت کو تباہ کر دیا، ترقی یافتہ بیجوں اور بہتر پیداوار 

والی اقسام متعارف کرانے کے متعلق کارکردگی مایوس کن رہی۔ اس وقت ملکی معیشت بھی بہت کمزور ہے، بیرونی قرضے تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں دنیا پر معاشی بالا دستی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک اب صرف مقروض معیشت کا ملک بن گیا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران " اوپن بجٹ انڈکس" پر پاکستان کی کارکردگی نے بجٹ سازی کے عمل اور شہریوں کی شمولیت سے متعلق صورتحال پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شمولیت، انتظامی اداروں پر مقننہ کی نگرانی اور سٹیزن بجٹ کی افادیت کے اعتبار سے حکومتوں کی کارکردگی کمزور رہی ہے۔ ایک تو بجٹ سازی میں عوام کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے تو وہاں ترقی یافتہ ممالک میں اپنائے جانے والے معیارات کے برعکس پاکستان کی اسمبلیاں نسبتاً کم عرصے میں ہی بجٹ کی منظوری دے دیتی ہیں۔ بجٹ دستاویزات فراہم کرنے کے معاملے میں مقننہ اور شہریوں دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ انتظامی ادارے بجٹ سازی سے متعلق معلومات شہریوں کو دینے پر آمادہ نہیں۔مقننہ کے معاملے میں بھی رازداری سے کام لیا جاتا ہے اور ایوان میں بجٹ پیش کئے جانے سے پہلے انہیں اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جاتی ہیں۔ بجٹ کی اشاعت، شہریوں کو اس سے آگاہ کرنے اور اسمبلی میں پیش کرنے کی تاریخیں سبھی حکومتوں میں ایک ہی رہی ہیں۔ روایت یہی ہے کہ بجٹ والے دن صبح کے وقت پہلے یہ کابینہ میں پیش کیا جاتا ہے، کابینہ سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اسی دن سہ پہر یہ اسمبلی میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر ختم ہوتے ہی بجٹ دستاویزات امورِ خزانہ کی وزارت / محکمے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے۔ 

 پاکستان میں سٹیزن بجٹ کی مضبوط روایت موجود نہیں ہے۔ چند سال قبل صوبہ پنجاب نے بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے یہ سلسلہ شروع کیا۔ تاہم اس دستاویز میں شامل کئے جانے والے مواد پر اتفاق رائے نظر نہیں آتا۔ سٹیزن بجٹ کا مقصد تو یہ ہونا چاہئے کہ ایک عام آدمی یہ جان سکے کہ بجٹ میں اس کے فائدہ کے لئے کیا رکھا گیا ہے لیکن ہمارے ہاں سٹیزن بجٹ عام طور پر منظور شدہ بجٹ کا خلاصہ دکھا دیتا ہے اور عام شہری اس سے کوئی مفید معلومات اخذ نہیں کر پاتا۔ پاکستان میں سٹیزن بجٹ کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا کم از کم بجٹ کی کچھ اضافی دستاویزات تیار کرنا بہت ضروری ہے۔ شہریوں کو زیادہ دلچسپی اس بات سے ہوتی ہے کہ ان کے اضلاع کے لئے کون کون سی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی ہے اور کن سکیموں پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔

بجٹ سازی کے عمل میں منتخب اسمبلیوں کی نگرانی کا کام پاکستان میں ہمیشہ سے کمزور رہا ہے۔ مقننہ بھی عام آدمی کی طرح بجٹ سازی اور اس پر عملدرآمد کے عمل سے بالکل بے خبر رہتی ہے۔ ایگزیکٹو / انتظامیہ کو دیا گیا آئینی تحفظ مقننہ کے کردار کو مزید کمزور کر دیتا ہے کیونکہ ایگزیکٹو / انتظامیہ کو آئین کے تحت پورا اختیار حاصل ہے کہ دورانِ سال فنڈز کو اِدھر اُدھر کر سکتی ہے، انہیں ایک سے دوسرے انتظامی یونٹ یا منصوبے میں منتقل کر سکتی ہے اور یہاں تک کہ نئے منصوبے شروع کر سکتی ہے اور منظور شدہ منصوبوں کو ترک کر سکتی ہے۔ ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو منظور شدہ بجٹ میں تبدیلیاں کرنے کے لئے مقننہ کی پیشگی منظوری کی شرط عائد کرے۔ ان تمام تبدیلیوں پر مشتمل ضمنی بجٹ سال کے آخر میں اسمبلی میں پیش کر دیا جاتا ہے اورا یک ہی دن میں منظور کرا لیا جاتا ہے۔

آئین کی شق 19 اے عوام کو عوامی مفاد کے منصوبہ جات کے بارے میں معلومات کی رسائی کا حق فراہم کرتی ہے لیکن پاکستان میں معلومات تک رسائی کا نظام کمزور ہے اور بجٹ سازی اور اس پر عملدرآمد سے متعلق معلومات کو افشا کرنے کے معاملے میں یہ اور بھی زیادہ کمزور ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی آزاد ادارہ موجود نہیں جو سال کے دوران بجٹ پر عملدرآمد کی نگرانی کرے۔ پاکستان میں بجٹ کاشمار ابھی بھی ان شعبوں میں نہیں ہوتا جن میں شہریوں کے گروپوں کی مداخلت جائز سمجھی جاتی ہے۔  اسمبلی میں بجٹ پیش کئے جانے کے بعد یہ تمام فریقوں، میڈیا، ارکانِ اسمبلی اور شہریوں کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت بھی اسی روایت پر قائم رہی ہے جب کہ عمران خان کو اقتدار تبدیلی کے نعرے پر ملا ہے اب اتنا عرصہ گزرنے کے بعد انہیں چاہئے کہ وہ متعلقہ فریقین کی مشاورت سے زیادہ سے زیادہ معلومات کی فراہمی پر مبنی ایک شفاف اوپن میرٹ پالیسی وضع کریں تا کہ بجٹ سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے جس کے لئے بجٹ سے پانچ چھ ماہ قبل کام شروع کر دیا جانا چاہئے۔ 


ای پیپر