ٹرمپ کی جگ ہنسائی عمران کیلئے واضح پیغام، سلام صرف کرسی کو
15 جنوری 2021 2021-01-15

دنیا کے سپر پاور تصور کیے جانے والے امریکا کے صدر اپنے دور حکومت کے آخری ایام میں تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں نا کہ سلام صرف اور صرف کرسی کو ہوا کرتا ہے ایسی ہی کچھ صورت حال کا ان دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کو سامنا ہے۔ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے کا وقت 20 جنوری جیسے جیسے قریب آرہی ہے ان کے دوست ویسے ویسے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ٹرمپ کے انتہائی قریب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے دوری اختیار کرلی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے تو حد ہی کردی ٹرمپ کی چاہت میں لگائی گئی تصویر تک اپنے ٹوئیٹر سے ہٹا دی۔اسرائیل اور بھارت کے وزرائے اعظم ٹرمپ کے انتہائی قریب تصور کیے جاتے تھے کیونکہ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کو اپنے دور میں بہت نواز ہے۔اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات بحال کروائے اور ایران کے خلاف خطے کے ممالک کو یکجا کیا۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمران بھی ایک قلب اور دو جان بنے ہوئے تھے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو تو صحافی جمال خاشقجی کیس سے دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکالا۔ وقت بدل رہا ہے اور نو منتخب صدر جوبائیڈن کہہ چکے ہیں کہ کیس دوبارہ کھلے گا اور زمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب ممالک کو بھارت کے بھی قریب تر کروایا یہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر پر بھی بھارت کا مکمل قبضہ کروادیا۔

ان دونوں ملکوں میں وزرائے اعظم کو بدلتی صورت حال میں ٹرمپ سے دوری اختیار کرنے کے مشورے دیے گئے۔حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو بھی اپنا دوست گردانتے تھے لیکن انہوں نے سوائے نقصان کے پاکستان کو کچھ نہیں دیا۔امریکی کانگریس کیپٹل ہل پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد سے ٹرمپ کا مسلسل ستارہ گردش میں ہے۔کیپٹل ہل حملے کے بعد سے ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے استعفی دے دیے اور اب انہیں سخت مواخذہ کا سامنا ہے۔کہتے ہیں کہ تکبر اور ناشکرا پن انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا ایسا ہی سب کچھ ٹرمپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔فیس بک اور ٹوئیٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاو¿نٹس معطل کر دیے اور ایک بینک نے تو ٹرمپ کے ساتھ تجارت ہی ختم کر دی ہے۔ ٹرمپ حکمرانوں کے لیے سبق سے کم نہیںدنیا کے دیگر حمکرانوں کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی ساکھ سے سبق لینا ہو گا۔جبر اور طاقت کے ذریعے زیادہ دیر تک لوگوں کو دبایا نہیں جا سکتا ایک دن وہ ضرور سر اٹھاتے ہیں۔ اسی سوشل میڈیا کے ذریعے ٹرمپ نے اقتدار حاصل کیا اور اب یہی سوشل میڈیا ان پر پابندیاں لگا چکا۔

سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چل رہی ہیں اور مواخذہ کے بعد ان کی اگلی نسلوں تک کے لیے مشکلات ہو سکتی ہیں۔ ٹرمپ کی اہلیہ بھی اقتدار کا سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیں گی۔اسے بدقسمتی کہیں یا کچھ اور اپنے عمران خان کا مزاج بھی ایک جیسا ہے۔دونوں اپنے دوستوں کو نوازنے میں زرا سی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ جو منہ میں آئے کہہ دیتے تھے اسی طرح ہمارے ہینڈ سم بھی ملک چلانے کے لیے مربوط پالیسی سے عاری ہیں۔ عمران خان بھی ٹرمپ کی طرح ضدی، خود پسند اور دھڑلے سے جھوٹ بولنے سے گریز نہیں کرتے۔

"حامد میرے پاس 200 ماہرین کی ٹیم ہے"، یہ بات تو آپ نے سنی ہو گی۔جس طرح ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین کا ٹھٹھہ اڑاتے رہے اسی طرح عمران خان بھی سیاسی مخالفین پر جگتیں لگانے پر فخر کرتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان ایک معاملے میں ٹرمپ سے زیادہ "خوش قسمت" ہیں، وہ یہ کہ ان کے ساتھی بھی عمران خان کی طرح کوتاہ نظر، ڈھیٹ اور معمولی سیاسی سوجھ بوجھ کے حامل ہیں۔جبکہ ٹرمپ کے ساتھی اتنے "باہمت" نہیں وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی چھتر چھایہ سے نکل کر زندگی گذارنا آسان نہیں۔ پاکستان میں اقتدار مقتدر قوتوں کے مرہون منت ہوتا ہے جو جسے چاہیں تخت پر بٹھا دیں اور جس کا چاہیں تختہ کردیں۔مگر عمران خان کہتے ہیں کہ ان کے "ا±ن" سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ یہ بات اتنی ہی درست ہے جتنی کبھی نواز شریف یا آصف علی زرداری کے لیے ٹھیک ہوتی تھی۔ ٹرمپ کے انجام سے سیکھنے کے لیے بہت سی سبق ہیں مگرعمران خان سمجھتے ہیں کہ امپائر چونکہ ان کے ساتھ ہے اس لیے وہ کبھی آو¿ٹ نہیں ہوں گے مگر یہ ان کی بھول ہے۔پچ اور امپائر کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہوتی ہیں جسے موسم کہتے ہیں اور موسم تیزی سے بدل رہا ہے۔


ای پیپر