سبق اثبات کے سیکھیں
15 جنوری 2020 2020-01-16

میں آج احادیث مبارکہ سے استفادہ کرکے آپ کے اور اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی و سماجی کالم نگاری مختصر سے وقت میں مکمل ہوجاتی ہے، مگر میرا ایمان ہے، کہ انسانی یادداشت میں یہ بات اتنی محفوظ نہیں رہتی، جتنی مسلمان کے ذہن میں اپنے اسلاف اپنے پیارے نبی اور اپنے خالق رحیم وکریم کے احکامات، اور واقعات رچ بس جاتے ہیں، آپ نے اگر پہلے سے نہیں پڑھا ہوتا، تو علم میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اگر کبھی ماضی قریب یا بعید میں پڑھا ہوتا ہے، تو اس کی تجدید نو ہو جاتی ہے۔

احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے، کہ مردہ دفن کیے جانے کے بعد جنازے میں شرکت کرنے والوںسے مانوس ہوتا ہے، روایت ہے، کہ عمروبن العاصؓ، مرض الموت کے وقت دیوار کی طرف منہ کرکے کافی دیرتک روتے رہے، آپ کے بیٹے نے پوچھا، والد محترم آپ کیوں روتے ہیں، کیا رسول اللہ نے آپ کو فلاں خوشخبری نہیں دی تھی، کہا کہ ہم سب سے افضل اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب نبی کے اقرار کو سمجھتے تھے، میری حالت زندگی تین مختلف حالتوں سے گزری ہے ایک زمانے میں، تو مجھے رسول خداسے شدید دشمنی تھی، حتیٰ کہ ان کے قتل سے زیادہ مجھے کوئی بات زیادہ پسند نہیں تھی، خدا نہ کرے اگر میں اس حالت میں لقمہ اجل ہوجاتا، تو یقیناً دوزخ میں چلا جاتا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈالی، تو میں دربار رسالت میں حاضر ہوا، اور حضور سے عرض کی، کہ آپ آپ اپنا دست مبارک پھیلائیںتاکہ میں آپ کے دست مبارک پہ بیعت کرلوں، آپ نے دایاں بازو پھیلا دیا لیکن میں نے اپنا ہاتھ اکٹھا کرلیا، حضور نے فرمایا، کہ عمرو کیا بات ہے میں نے کہا یارسول اللہ ایک شرط ہے، فرمایا کیا شرط ہے، میں نے

عرض کی کہ یارسول اللہﷺ میرے تمام گناہ باطل ہو جائیں تو حضور نے فرمایا، کہ اے عمرو تو نہیں جانتا ، کہ اسلام، ہجرت اور حج سے پہلے کے تمام گناہ باطل ہو جاتے ہیں، یعنی معاف کردیئے جاتے ہیں۔ اب آپ مجھے سب سے زیادہ پیارے اور میری نظر میں سب سے زیادہ قدر والے تھے مگر آپ کی شان جلالت کی وجہ سے میں آپ کو نظر بھرکردیکھ نہیں سکتا تھا حتیٰ کہ اگر کوئی مجھ سے رسول پاک کا حلیہ مبارک دریافت کرتا، تو میں بتانے سے قاصر تھا، کیونکہ شان جلالت سے میں ان کو دیکھ ہی نہیں سکتا تھا، اگر میں اس حالت میں لقمہ اجل ہوجاتا، تو میں جانتا تھا، کہ میں بہشتی تھا پھر میرے حالات تبدیل ہوئے، اور ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا، کہ میں نہیں جانتا کہ میرا انجام کیا ہو، جب میں مر جاﺅں، تو میری قبر پہ نوحہ خوانی نہ کی جائے، اور نہ ہی آگ ہو، جب تم مجھے دفن کردو، تو میری قبر کے چاروں جانب اتنی دیر ٹھہرے رہنا، جتنی دیر کے لیے ایک اونٹنی ذبح کرکے تقسیم کردی جانے میں وقت لگتا ہے، تاکہ میں تم سے مانوس رہوں، اور مجھے پتہ چل جائے کہ میرے پروردگار کے قاصد کیا لے کرجاتے ہیں، اس سے یہ پتہ چلتا ہے، کہ مردہ حاضرین قبر سے مانوس اور ان کے ٹھہرنے سے خوش ہوتا ہے۔ صالحین سے نقل ہے، کہ انہوں نے وصیت کی، کہ بعداز دفن ان کی قبر کے پاس قرآن پاک پڑھا جائے، حضرت ابن عمر ؓ نے حکم دیا تھا، کہ میری قبرپہ سورة البقرہ کی تلاوت کی جائے، عباس دوریؒ سے مروی ہے، کہ میں نے حضرت امام احمدؒ سے دریافت کیا کہ قبر پر قرآن خوانی کے

بارے میں کوئی روایت محفوظ ہے، تو انہوں نے کہا کہ نہیں، اور جب یحییٰ بن معین ؒ سے دریافت کیا، تو انہوں نے یہ حدیث بیان فرمائی، کہ میں امام حنبلؒ اور محمد بن قدامةؒ کے ہمراہ ایک جنازے میں شریک تھا، دفنانے کے بعد ایک نابینا شخص قبر کے پاس تلاوت کرنے لگا، حضرت امام بن حنبلؒ نے فرمایا، کہ قبر کے ساتھ تلاوت کرنا بدعت ہے، پھر جب ہم قبرستان سے باہر آئے، تو محمد بن قدامةؒ نے امام حنبلؒ سے کہا، کہ مبشر حلبی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، انہوں نے کہا کہ ثقہ ہیں۔ دریافت کیا آپ نے ان کے بارے میں کچھ روایات رقم کی ہیں کہا ہاں، میں نے کہا مجھے مبشر نے عبدالرحمن بن الفلاح بن الحلاج سے اور انہوں نے اپنے والد سے یہ خبر دی ہے، کہ انہوں نے وصیت کی تھی، کہ دفن کرنے کے بعد ان کے سرہانے سورة البقرہ کا پہلا اور آخری رکوع پڑھا جائے اور کہا تھا، کہ حضرت ابن عمرؓ نے سنا تھا، کہ آپ نے بھی یہی وصیت کی تھی پھر انہوں نے کہا کہ نابینا سے جاکر کہہ دو، کہ قرآن شریف کی تلاوت کرے، آج کل کے دور میں مختلف مکتبہ ہائے فکر کے لوگ قرآن خوانی کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے، کہ قرآن پاک کے ایک لفظ کا ثواب دس نیکیاں ہوتی ہیں، مثلاً ا، ل، م ، کی تیس نیکیاں ہیں، ایک مسلمان کو یہ سوچے بغیر کہ قرآن پڑھنے کا ثواب، مدفون کو پہنچ رہا ہے، یا پڑھنے والے کو، قرآن پڑھنے کے ثواب کی سعادت سے منکر تو نہیں ہوسکتے، ورنہ تو مسلمان بقول مظفر علی شاہ

کریں آخر سعی کیسے

گزاریں زندگی کیسے!

سرابوں میں سفر میرا

بجھے گی تشنگی کیسے!

سبق اثبات کے سیکھیں

بھلا ہو پھر نفی کیسے؟

حاصل کلام یہی ہے کہ جوان مثالوں سے واضح ہوتا ہے، مثلاً حسن بن جرویؒ نے کہا کہ میں نے اپنی ہمشیرہ کی قبر کے پاس سورہ ملک پڑھی، پھر ایک آدمی نے مجھ سے آکر کہا کہ میں نے تمہاری بہن کو خواب میں دیکھا وہ کہتی تھیں، اللہ تعالیٰ بھائی کو بہتر صلہ واجر دے، کیونکہ ان کی قرآن خوانی نے مجھے بہت نفع پہنچایا۔

قارئین کرام، پاکستان بائیس کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے، جہاں عدالتوں اور ایوانوں میں تقریب حلف برداری میں قرآن خوانی، حکمرانوں کے خطاب سے پہلے تلاوت قرآن اور بعض اوقات ، مقدمات کے فیصلے، باہمی فریقین کی رضامندی سے قرآن پاک کو گواہ بنانے پر ہو جاتے ہیں ، جوکہ راقم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، مگر مقام صد حیف ہے کہ تبدیل شدہ پاکستان کے ریاست مدینہ کی اپنی نشست ہار کر وزیر اطلاعات بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں، ہم سابق پاکستان کے وزیر قانون، رانا ثناءاللہ کا قرآن اٹھا کر بیان دینے کو نہیں مانتے ، حالانکہ رانا ثناءاللہ یہ کہتے ہیں ،کہ اگر میں قرآن اٹھا کر جھوٹ بول رہا ہوں، تو مجھ پر اللہ کا قہر نازل ہو، ورنہ میری بات پہ یقین نہ کرنے والوں پہ خدا کا قہر نازل ہو۔

ناظرین اب ہم انتظار کرتے ہیں، قہر خداوندی کس پہ نازل ہوتا ہے، سب اثبات کے سیکھیں ، بھلا ہو پھر نفی کیسے


ای پیپر