وادی نیلم میں تباہی , تین دیہات ہی د ب گئے
15 جنوری 2020 (18:33) 2020-01-15

مظفر آباد: وادی نیلم میں ایک اور برفانی تودہ گرنے سے ڈہکی چکناڑ میں 3 دیہات دب گئے، امدادی ٹیموں نے 14 لاشوں کو نکال لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق برفانی تودے میں درجنوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم سہولیات کے فقدان کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے ) کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی کے باعث نیلم ویلی کے مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ خرابی موسم کے باعث بالائی علاقوں میں فلائٹ ریسکیو آپریشن بھی روک دیا گیا ہے۔ وادی گریس میں ڈھکی اور چکناٹھ کے متاثرین تک تاحال ریسکیو ٹیمیں بھی نہیں پہنچ سکی ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر خان نے وادی نیلم میں متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا ہے۔ برفانی تودے گرنے کے واقعات پر وفاقی وزیر غلام سرور خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیلم وادی میں 67 افراد جاں بحق ہوئے۔ حکومت جانی اور مالی نقصان کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کو مزید فعال کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد مکانات، مسجد، دکانیں اور گاڑیاں بھی برفانی تودوں کی زد میں آکر تباہ ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ 76 ہلاکتیں آزاد کشمیر میں ہوئیں، بلوچستان میں 20 جبکہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وادی نیلم میں 73 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سندھنوٹی، کوٹلی اور راولاکوٹ میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔ ریسکیو آپریشن دیر سے شروع ہونے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے پیش آنے والے مختلف حادثات میں اب تک 20 افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں 12 خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔پاک فوج کی امدادی ٹیمیں برفانی تودے سے متاثرہ گاں تھلی قمری میں پہنچ کر ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں پاک فوج کے جوان اور آرمی ایوی ایشن کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع استور کے سرحدی علاقے قمری کے گاں تھلی میں گزشتہ روز برفانی تودہ گرنے سے دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے تھے۔


ای پیپر