سپریم کورٹ کی نیب قانون کیلئے حکومت کو تین ماہ کی مہلت
15 جنوری 2020 (16:20) 2020-01-15

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیا نیب قانون لانے کے لیے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دیدی۔

سپریم کورٹ میں نیب آرڈیننس کی شق 25 اے پرازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں دلائل دیے۔دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ توقع کرتے ہیں حکام نیب قانون سے متعلق مسئلے کو حل کرلیں گے، نیب قانون کے حوالے سے مناسب قانون پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے گا جب کہ 3 ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اورمیرٹ کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا 25 اے کے معاملے پر ترمیم ہوگئی؟ کیا یہ معاملہ اب ختم ہوگیا ہے؟ جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ نیب آرڈیننس کا سیکشن 25 اے ختم ہوا یا اس میں ترمیم ہوئی؟ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں میرا نیب آرڈیننس سے متعلق پرائیویٹ ممبربل موجود ہے، کمیٹی سے منظورز کے بعد معاملہ ایوان میں جائے گا، بل کے مطابق نیب کے آرڈیننس 25 اے کو مکمل طور پرختم کیا جارہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے نیب آرڈیننس لا کر نیب کے پر کاٹ دیے، سپریم کورٹ نیب کو پلی بارگین سے روک چکی ہے، جب تک پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر لیتی یہ اختیار استعمال نہیں ہو گا، حکومت نیب قانون کے معاملے کو زیادہ طول نہ دے، نیب قوانین میں ترامیم پارلیمنٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ نے نیب کی کسی دفعہ کو غیر آئینی قرار دیا تو نیب فارغ ہو جائے گی، کیا حکومت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون کو فارغ کر دیں۔


ای پیپر