خودکشی اور ڈپریشن میں اضافہ کے اسباب
15 جنوری 2020 2020-01-15

سوال ہوا کہ خودکشی کا رحجان کیوں بڑھتا جارہا ہے؟ حال ہی میں ایک پولیس آفیسر نے خود کو گولی مارکر ہلاک کرلیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی سی ایس پی افسران خودکشی کرچکے ہیں۔ نوجوان ذرا سی بات پر بلکہ والدین کی ڈانٹ پر بھی خودکشی کرلیتے ہیں ۔یہ ڈپریشن سوسائٹی میں کیوں بڑھ رہا ہے؟ بھوک ننگ ، غربت بھی اس کی وجوہات ہیں لیکن نئی نسل میں ڈپریشن کی ایک وجہ سوشل میڈیا بھی ہے۔ آپ کسی بھی جگہ چلے جائیں،کوئی بھی محفل ہو ہر شخص اپنے اپنے موبائل پر مصروف دکھائی دیتا ہے۔ مسلسل موبائل کے استعمال سے بھی ہمارے اعصاب شل ہوجاتے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک محلے میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ نت نئی معلومات، زندگی کی رنگا رنگی، اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ نے بھی انسان کو اندر سے کھوکھلا، بے حس اور کسی حدتک اکیلا کردیاہے۔ غربت مہنگائی میں اضافے نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ حرص وہوس نے انسانوں کے دلوں سے محبت، اخوت، ہمدردی، ایثار ختم کردیا ہے۔ ہرکوئی راتوں رات امیر ترین اور مشہور ہونا چاہتا ہے۔ تعیش، سہل پسندی کے لیے بھی ہم جائز ناجائز ہرذریعہ اختیار کرنے کی دوڑ میں ہانپ رہے ہیں۔ جب ہم سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ کتنی پُر آسائش زندگی بسر کررہے ہیں حالانکہ اسی سوشل میڈیا پر غربت بے روزگاری اور بھوک ننگ کے مناظر بھی دیکھتے ہیں لیکن فطری طورپر ہم اپنے سے اوپر والوں کو دیکھ کر ان جیسا ہونے اور بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک بزرگ اللہ تعالیٰ سے اپنی غربت کا گلہ کرتے ہوئے اپنے لیے نئے جوتے کی دعا مانگ رہے تھے جب وہ دعا مانگ کر باہر نکلے تو ان کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کے پاﺅں ہی نہیں تھے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ معافی مانگی کہ یا اللہ تیرا شکر ہے میرے پاﺅں تو سلامت ہیں۔ یہاں تو کئی لوگ پاﺅں سے بھی محروم ہیں۔ اگر ہم سب اپنے سے اوپر والوں کو دیکھنےکے بجائے اپنے سے کم تر درجے کے لوگوں پر نگاہ ڈال کر زندگی گزاریں تو پریشانیاں کم ہوسکتی ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے سے زیادہ دولت اور سہولیات رکھنے والوں کو دیکھتے ہیں۔ اور پھر جائز ناجائز ذرائع اختیار کرکے خود کو ہلاکت میں ڈال لیتے ہیں۔ انسان تو وہ ہے جو ہرحال میں راضی رہے۔ مگر اپنے حالات سے ہم راضی ہی نہیں ہوتے۔ جس کے سبب ملاوٹ کرنے والے خوردنی اشیاءمیں ملاوٹ کرکے، دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پیسہ بناتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔ ناجائز منافع کے لیے کیا کیا کرتے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہوئے، محنتکے بجائے بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اکیسویں صدی کا انسان پریشان اسی لیے ہے کہ اس نے زیادہ سہولیات اور تعیشات کے لیے خود کو کرپٹ کرلیا ہے۔ ہمارے دلوں سے ہمدردی ایثار صبر اور محبت ختم ہوتی جاتی ہے۔ میڈیا کی ترقی سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اگر ایک شخص کسی حادثے میں ، آگ میں جھلس رہا ہے، یا کوئی گروہ کسی انسان پر ظلم کررہا ہے تو سب سے پہلے ہم اپنا موبائل نکال کر اس کی فلم بندی کرنے لگتے ہیں ۔ ہم آگ بجھانے یا اسے ظلم سے بچانے کے بجائے ویڈیو بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اب تو فیس بک کی طرح ہرشخص نے اپنا ویڈیو چینل بنالیا ہے وہ ہرقسم کا منظر کیمرے کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے میں مصروف ہے۔ ہم لمحہ لمحہ موبائل پر اب ڈیٹ رہنے کے لیے اپنے کئی اہم امور سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نئی نسل تو موبائل کی عادی ہوچکی ہے چوبیس گھنٹے ہم آن لائن رہتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں جاننے کے تجسس میں مبتلا رہ کر اپنی صحت تباہ وبرباد کررہے ہیں۔ جب سے انٹرنیٹ موبائل کا حصہ بنا ہے اور کیمرہ موبائل میں آیا انسان کو جیسے دیمک لگ گئی ہے۔ اس سوشل میڈیا کی وجہ سے بیماریاں ہی نہیں طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔ اخلاقی طورپر بھی اب انسان زوال کے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ انہی اسباب سے ڈپریشن اور تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں میں بے حسی، خودکشی اور بے صبری بڑھ گئی ہے اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ہے جب تک سرکاری سطح پر موبائل سے انٹرنیٹ ختم نہیں ہوتا انسان اندر سے کھوکھلا اور کسی حدتک تنہا ہوچکا ہے۔ یہ حکومت اور دانشوروں کے سوچنے کی باتیں ہیں۔

کیا کسی کے پاس اس کا علاج ہے؟


ای پیپر