عقل مند ،عوام دوست حکمران
15 جنوری 2020 2020-01-15

میری آنکھیں اس وقت شدت جذبات سے نم ہوگئیں جب میں نے سوچا کہ ’ ع‘ سے ہی ہمارے محترم وزیراعظم کا نام شروع ہوتاہے اور اسی حرف سے’ عقل مند ‘ اور’ عوام دوست ‘ جیسی خوبیاں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے لئے ’ع‘ سے ہی’ عالی شان‘ حکمت عملیاں اپنائی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا ’ع‘ سے عروج برقرار رکھے کہ’غ‘ سے شروع ہونے والے غریب کسی حال میں خوش نہیں رہتے۔

مجھے حکومت کی عقل مندی اور عوام کے لئے ان کی دردمندی کا حقیقی احساس اس وقت ہوا جب میری ملاقات اپنے شہر میں گراسری سٹورز کے مالکان سے ہوئی۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں سپر سٹورز کا کلچر تیزی سے پروان چڑھ رہاہے جہا ں عمومی طور پر ضرورت کی تمام ہی اشیاءمل جاتی ہیں مگر ان سٹوروں میں سب سے زیادہ رش اشیائے خوردونوش یعنی دالوں، چینی، چاولوں اور مصالحوں وغیرہ کے سیکشن میں ہوتا ہے۔ انہیں اشیائے ضروریہ بھی کہا جاتا ہے کہ جن کے بغیر گھروں کے کچن نہیں چلتے، یہ سٹورز کے سب سے بڑے رننگ آئٹمز ہوتے ہیں۔ میرے شہر میں سپر سٹورز والوں نے پرانی اور روایتی کریانہ ایسوسی ایشن والوں سے جان چھڑوا لی ہے جس کی سرکاری کاغذوں میں سربراہی ایک ستر، بہتر برس کے ایک نوجوان کر رہے ہیں، ان کی کہانی بعدمیں سناتا ہوں۔ سپرمارکیٹ گراسری ایسوسی ایشن کے چیئرمین علامہ اقبال ٹاو¿ن میں چالیس برس سے اپنا اعتماد قائم رکھے ہوئے رحیم سٹور کے مالک رانا اختر محمود ہیں جبکہ صدر اتنے ہی عرسے سے وحدت روڈ پر ڈیسنٹ سٹو ر والے چوہدری احمد نواز ہیں، رین بو کیش اینڈ کیری کے عمران سلیمی جنرل سیکرٹری اورسویرا سٹور کے مردان زیدی سینئر نائب صدر ہیں۔ مجھے یہ گواہی دینے میں عار نہیں کہ مجھے ان سٹوروں سے بہترین دالیں او رمصالحہ جات ملتے ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ ہماری زیادہ تر دالیں امپورٹ ہوتی ہیں مگر حکومت نے ایک تو امپورٹس پر سختی کی ہوئی ہے تاکہ تجارتی خسارہ کم دکھایا جاسکے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کا ریٹ بھی ایک ، ڈیڑھ برس میں کم و بیش تیس، چالیس روپے بڑھا ہے ، کہا جا رہاہے کہ اگر یہی پالیسیاں جاری رہیں تو اڑھائی سو روپے کلو والی دال ایک برس میں پانچ سو روپے کلو پر پہنچ جائے گی مگردوسری طرف ایک عقل مند اور عوام دوست حکومت ہے جو چاہتی ہے کہ کوئی عوام کو ’ یہ منہ اور مسور کی دال ‘ کا طعنہ نہ دے لہٰذا ڈپٹی کمشنر صاحب بہادرنے دالوں سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم رکھنے کا ایک حیرت انگیز فارمولہ ایجاد کیا ہے جو ترقی یافتہ ممالک کے بیوروکریٹوں کے دماغ میں بھی نہیں آیا ہوگا۔لاہور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کا حکم ہے کہ لاہور کے سٹورز دال چنا باریک 104 روپے کلو بیچیں جبکہ گذشتہ روز اس کا اکبر ی منڈی میں سو کلو کی بوری خریدنے پر فی کلوریٹ ایک سو پچاس روپے تھا یعنی منافع ایک طرف رہا ٹرانسپورٹیشن ، سٹاف کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں جیسے اخراجات بھی نکال دیں تو فی کلو46روپے گھاٹا ہے جبکہ یوٹیلیٹی سٹور پر یہی دال 162روپے دی جا رہی ہے جہاں تنخواہیں ، بل اور کرائے ہی سرکار کے نہیں بلکہ اربوں روپوں کی سب سڈی بھی ہے ۔ حُکم ہے کہ جو دکاندار150 روپے کلو خرید کر 104 روپے میں نہ بیچے اسے اس پر مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیاجائے، پھر دیکھتے ہیں کہ ڈی سی او صاحب کا حکم کیسے نہیںمانا جاتا۔ اب یہ ایک الگ ایشو ہے کہ لاہورمیں پرائس کنٹرول کمیٹی کی آخری میٹنگ گذشتہ برس نومبر کی آٹھ تاریخ کو ہوئی تھی اور اس کے بعد جب اکبری منڈی میں صبح و شام نرخوں میں اتار چڑھاو ہوتا ہے تو تین ماہ سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔

سپرمارکیٹ گراسر ی ایسوسی ایشن کے مطابق صاحب بہادر کا حکم ہے کہ اکبری منڈی سے155 روپے ملنے والی دال چنا موٹی108روپے، 190روپے ملنے والی دال مسور باریک115 روپے کلو، 125 روپے ملنے والی دال مسور موٹی94 روپے کلو،215 ملنے والی دال ماش دھلی 165 روپے کلو، 165 روپے ملنے والی دال ماش چھلکا 152 روپے کلو، 225 روپے ملنے والی دال مونگ دھلی اور دو سو روپے ملنے والی دال مونگ چھلکا دونوں 154 روپے کلو،145روپے ملنے والے کالے چنے موٹے 104 روپے کلو، سو روپے ملنے والے سفید چنے105، 150 میں ملنے والا بیسن 116 روپے، 72روپے ملنے والی چینی ستر روپے اور 480 روپے ملنے والی سرخ مرچ 325 روپے کلو بیچی جائے جبکہ چینی کا یوٹیلیٹی سٹور کا ریٹ80 روپے اور بارہ روپے کی سب سڈی کے ساتھ68 اور سرخ مرچ کا ریٹ 525 روپے کلو ہے۔سٹورمالکان کہتے ہیں کہ چینی کے فریٹ اور پیکنگ کے اخراجات شامل کر لئے جائیں تو سات ہزار دوسو روپے میں ملنے والی سو کلو کی بوری میں چینی دکان پر اسی روپے کلو پڑتی ہے۔ عابد میر صاحب، پرائس کنٹرول کمیٹی کے رکن ہیں اور ہمارے نعیم میر صاحب کے بھائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سپر سٹور اتنی چیزیں بیچتے ہیں اگر وہ حکومت کے ساتھ ان آئٹمز میں تعاون کر لیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلا س میں کوئی نہیں بولتا جبکہ دوسرا موقف یہ ہے کہ نوپرافٹ پر بیچ لیں گے مگر نقصان پر نہیں اور ڈی سی آفس میں کوئی سنتا ہی نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مزید عقل مندی اور عوام دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی تمام اشیا کے نرخ بھی اسی طرح کم کروا دے تاکہ مہنگائی کا شکوہ ہی ختم ہوجائے اوررہ گئے سٹورز والوں کے کاروبار تو جہاں باقی تمام کاروبار تباہ ہوچکے تو حیرت ہے کہ یہ کیسے اور کیوں بچ گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی سی او کی جاری کردہ اکبری منڈی سے بھی پچاس، پچاس روپے کم کی قیمتیں، حکومت پنجاب کی ایپ’ قیمت ‘پر لکھی ہوئی ہیں ، ایپ یا پی ایم پورٹل پر شکایت کی صورت میں جب چھاپے پڑتے ہیں تو یہ نہیں مانا جاتا کہ ہول سیل ریٹ کیا ہے بلکہ صرف ڈی سی او کا نادر شاہی نرخ نامہ ہی دیکھ کر دکانداروں کوجرمانے ہوتے ہیں، مقدمے درج اور گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ ہمارے پیارے دوست میاں اسلم اقبال تاجروں کی ان تمام گرفتاریوں کی خود نگرانی کرتے ہیں کہ کوئی رہ نہ جائے۔

میری جناب عمران خان، جناب عثمان بُزدار، جناب اسلم اقبال اور دیگر ذمہ داروں کے سامنے تجویز ہے کہ ان تمام لٹیرے اور ناجائز منافع خوردکانداروں کو ایک ہی مرتبہ گرفتار کر کے دکانیں عوام کے لئے کھول دی جائیں کہ وہ تمام اشیائے ضروریہ اپنے گھروں میں لے جائیں۔ میں اپنے شہر کے معزز تاجروں کے اس مطالبے کی بھی شدید مذمت کرتا ہوں کہ اشیا کی قیمتیں ’ ریشنلائزڈ‘ یعنی حقیقی او رمنطقی ہونی چاہئیں کہ یہ مطالبہ وہاں مناسب لگتا ہے جہاں باقی تمام کام حقیقی، قانونی اور منطقی ہو رہے ہوں۔ الحمدللہ ! ہم ایک انقلابی دور میں داخل ہوچکے ہیں اور شائد دکاندار یہ نہیں جانتے کہ انقلابوں میں صرف گردنیں کاٹی جاتی ہیں، لہو بہایا جاتا ہے، دکانیں اور کاروبار لوٹے جاتے ہیں۔ ہمارے ڈی سی اوز اسی انقلاب کے سفیر ہیں اور وہ نئے پاکستان میں اگرڈنڈے کے زور پر تاجروں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ ہول سیل ریٹ سے بھی کم پر اشیائے ضروریہ فروخت کریں تو اس پر دھمکی دینے کی کیا بات ہے کہ وہ آج بدھ کے روز سے دالوں، چینی، آٹے اور مرچوں وغیرہ کی فروخت بند کر دیں گے۔ نئے پاکستان میں چاہے تمام کاروبار تباہ ہوجائیں، عقل مند اور عوام دوست حکومت ہرگز کوئی جائز،حقیقی اور منطقی بات نہیں سنے گی۔


ای پیپر