ممکنہ سیاسی اتحاد کہیں مارشل لا ءکا سبب نہ بن جائے!
15 جنوری 2019 (23:43) 2019-01-15

تحریر :ہمایوں سلیم

کیا ملک میں کرپشن میں ملوث عناصر اتنے طاقتور ہیں کہ ہم چاہ کر بھی قوم کا پیسہ لوٹنے ان ”محب وطنوں“کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے؟سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کیسا نظام ہے جو مرغی چور کو تو الٹا لٹکا دیتا ہے جبکہ ملکی سرمایہ لوٹنے والے پہلے اتحاد بناتے ہیں اور پھر انتظامیہ کو دباﺅ میں لانا شروع کر دیتے ہیں۔ شریف خاندان کا احتساب برائے نام ہو رہا ہے، زرداری کا احتساب برائے نام ہو رہا ہے ، ان کے پارٹی رہنماﺅں کا احتساب بھی برائے نام ہو رہا ہے ، یہ لوگ عدالتوں سے ریلیف لے رہے ہیںاور پھر ان سب کو لڑی میں پرونے کے لیے آج کل مولانا فضل الرحمن ”ثالثی“ کا کردار ادا کررہے ہیں اور کہتے پائے جا رہے ہیں کہ ” کیا ہم اُس وقت اکٹھے ہوں گے جب ہم سب جیل میں ہوں گے“ یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ یہ لوگ عوام کے ساتھ کس قدر مخلص ہیں۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ ان کے نخرے ہی مان نہیں۔ ان کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری ہوتے ہیں اہم ترین کمیٹیوں کی سربراہیاں بھی ان کے سپرد، پروٹوکول بھی پورا، میڈیکل چیک اپ بھی جاری، خوراکیں اور پوشاکیں بھی ان کی پسندیدہ۔ اور پھر عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ”یہ قانون کے تقاضے ہیں“۔

اب جبکہ مولانا فضل الرحمن ڈرائیونگ سیٹ خود سنبھالنے کے موڈ میں ہیںتبھی تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کے لئے کل کے حریف آج کے حلیف بن گئے ہیں،اس نئے ممکنہ اتحاد کی خاص بات یہ ہوگی کہ یہ وہ دو سیاسی جماعتیں ن لیگ اور پی پی پی بھی اکٹھی ہو جائیں جو کل تک ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے دکھائی دیتے ہیں مگر آج ان کی زبان سے ایک دوسرے کے لئے پھول جھڑ رہے ہیں، اس میں حیران ہونے کی بات نہیں کیونکہ یہ بھی ایک سیاسی عمل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے سیاسی اتحاد مارشل لاﺅں کے خلاف بنتے تھے اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف اتحاد بنانے کی جانب گامزن ہیں۔جو سیدھا سیدھا مارشل لاءکو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اور شاید یہ پہلا سیاسی ”اتحاد“ ہو گاجو احتساب کے خلاف ہے یعنی ذاتی مفادات کے لیے یہ سب اکٹھے ہو رہے ہیں،اس لیے یقینا اس اتحاد کے نکات میں عوام کا کوئی مسئلہ ڈسکس نہیں کیا گیا۔ عوامی مسائل لے حل کے لئے تو ہم نے کبھی اتحاد بنایا نہیں، کہ آﺅ ان عوام کی محرومیوں کو دور کریں لیکن ان سب چیزوں کو ایک طرف کر دیا گیا ہے اور اب ہم ”احتساب“ کے لیے صف آراءہو رہے ہیں۔

دنیا جانتی ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اپنی بقاءاور مفادات کے تحفظ کیلئے کسی حد تک بھی چلے جانا چاہتی ہیں اور ان کے لیے ملک کو خطرات سے دوچار کرنا بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔آج مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں کو یکدم ایک دوسرے کا خیال آگیا ہے، جو لوگ صبح شام ایک دوسرے پر تنقید کے تیر برساتے تھے وہ آج ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مک مکا سامنے آگیا ہے تو غلط نا ہوگا۔ عوام جانتے ہیں کہ ملک کو لوٹنے والی اورقرضوں تلے ڈبونے والی دونوں مذکورہ جماعتوں کے پس پردہ عزائم کیا ہیںلہٰذایہ پہلا اتحاد ہوگا جس میں کہیں عوام کی بھلائی یا ملک کی بھلائی کی بات نہیں گئی ہوگی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اتحاد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں جماعتوں کے رہنماو¿ں کو اس بات کا خطرہ ہے کہ ان کی قیادت کو کرپشن الزامات میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے صدرو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پہلے ہی گرفتار ہیں جبکہ یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ جلد ہی مزید رہنماﺅں کی گرفتاری بھی متوقع ہے کیوں کہ کرپشن کے خلاف کام کرنے والے ادارے ان سے کرپشن کی ایک ایک پائی کا حساب لینا چاہتے ہیں۔ سابق صدر کی گزشتہ چند تقاریر پر روشنی ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو خود بھی گرفتاری کا خطرہ ہے جو فی الوقت ٹل گیا ہے مگر مستقبل قریب میں گرفتاری کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اور رہی بات مولانا موصوف کی تو کیا انہیں گزشتہ 17سال سے مہنگائی، کرپشن، اداروں کی تباہی اور اقرباءپروری نظر نہیں آئی جب وہ مختلف ادوار میں حکومت کا حصہ بنے رہے۔

70 سالہ پارلیمانی تاریخ میں کئی بار مختلف حکومتوں کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد بنتے اور ختم ہوتے رہے ہیں تاہم ان کا مقصد عوام کی فلاح یا ملک و قوم کے اجتماعی مقصد کے لیے کام کرنا ہوتا تھا۔ مگر اب یہ جو سارے اکٹھے ہو رہے ہیں یہ اس لیے ہیں کہ انہیں ”کھانے“ کو کچھ نہیں مل رہا، ان کی اربوں روپے کی دہاڑیاں بند ہوگئی ہیں۔ تبھی تو انہوں نے ملک میں تعلیم کو فروغ نہیں دیا تاکہ ان کی شخصیت پرستی ختم نہ ہو جائے۔ حد تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پاکستان میں علاج نہیں کرواتا۔کوئی بھی اپنے بچوں کو پاکستان میں نہیں پڑھاتا، پاکستان میں جہالت کے ذمہ دار یہی سیاستدان ہیں جو آج جمہوری حکومت کے خلاف اور ملک میں احتساب کے خلاف اتحاد بنا رہے ہیں ۔ آپ کسی بھی سیاسی پارٹی کے ورکر سے پوچھ لیں کہ اُس کی جماعت کا منشور کیا ہے، وہ اپنی پارٹی کے منشور کی دو لائنیں بتانے سے بھی قاصر ہوگا۔

بہرکیف جب ان کے اتحاد سے ملک میں غیر یقینی کیفیت ہوگی یا پیدا کی جائے گی تو یقینا پھر مارشل لاءہی آئے گا۔ اور ایسے اتحادوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ مثلاََپاکستان میں اتحادی سیاست کا آغاز1952ءمیں ہوا جب ڈیموکریٹک یوتھ لیگ اورایسٹ پاکستان کمیونسٹ پارٹی نے مسلم لیگ کے خلاف اتحاد بنایا تھا مگر یہ اتحاد اتنا کامیاب نہیں ہوا اس لیے تاریخ میں اس کا ذکر اتنا نہیں کیا جاتا جتنا 1953میں بنے، دی یونائیٹڈ فرنٹ کا کیا جاتا ہے۔یہ اتحاد چار پارٹیوں پر مبنی تھا جس میں عوامی مسلم لیگ، نظام اسلام،جنتا دل اورکرشک پراجاپارٹی شامل تھیں۔ یہ اتحادبھی مسلم لیگ کے خلاف بنا ،اس کی وجہ پارٹی میں اندرونی انتشار ، لیڈر شپ کا بحران، ا نتظامی نا اہلی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا ۔اس اتحاد کے بعد اتحادی سیاست کی فضا جو قائم ہوئی اس کے اثرات جنرل ایوب خان کے خلاف دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس اتحاد کے بعد 30 اپریل 1967ءنوابزادہ نصراللہ خان کاپانچ پارٹیوں پر مبنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی اتحا د بنا، اس اتحاد نے ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا، بعد میں اس اتحاد کا نام بدل کر پاکستان ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی رکھا گیا ،یہ اتحاد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہا۔ اتحادی سیاست کا سلسلہ ، گزرتے وقت کے ساتھ ملک کے سیاسی کلچر میں عام ہو گیا تھا، اس تجرباتی عرصے میں کبھی جمہوری اتحاد بنے تو کبھی اسلامی اتحاد بنے، ان میں سے کچھ اتحاد، جن کے نقش اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ انہیںکوئی بھی بھلا نہیں سکتا۔1977 میں جب انتخابات منعقد ہوئے تو اس میں اتحادی سیاست نے بھی خوب رنگ دکھائے، پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف 9سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مل کرپاکستان قومی اتحاد(پاکستان نیشنل الائنس یا پی این اے)کے نام سے ایک اتحاد بنایا، پی این اے کا نصب العین ، تھا کہ وہ ملک میں نظامِ مصطفی نافذ کریں گے۔

پھر جمہوریت کی بحالی کے لیے6 فروری 1981میں ایم آر ڈی تحریک کی بنیاد رکھی گئی اس تحریک کا بنیادی مقصد جمہوریت کی بحالی تھا، اس تحریک کی قیادت نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے کی،ایم آر ڈی کی تحریک میں10 سے زیادہ سیاسی جماعتیں شامل تھیں،اس کے بعد 1997 میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک نیا اتحاد بنا جس کی قیادت نصراللہ خان کررہے تھے ،یہ اتحادنواز شریف کی حکومت کے خلاف بنایا گیا تھا جس کے بعد 12۱کتوبر 1999 کو بعد مشرف نے ایک منتخب جمہوری حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ حاصل کرنے کے ساتھ ،جی ڈی اے کا کام تمام کر دیا۔اس کے بعد بھی جو سیاسی اتحاد بنا وہ مشرف کے خلاف بنا ۔ لیکن آج ملک جس ”سیاسی اتحاد“ کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے یقینا ملک اُس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بڑی مشکل سے ملک میں جمہوریت کا پودا لگا ہے اگر ایک اور مارشل لا آگیا تو یہ پودا پنپنے سے پہلے ہی مُرجھا جائے گا۔


ای پیپر