Chaudhry Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
15 فروری 2021 (11:21) 2021-02-15

جب زمانہ قدیم میں برطانوی قانون ابھی نابالغ تھا تو کہتے ہیں کہ ایک چور نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ میں ایک چوروں کے گروہ کا رکن ہوں ہم اکٹھے چوریاں کرتے ہیں۔ میں اس لیے عدالت آیا ہوں کہ چوری کے مال کی تقسیم میں میرے گروہ نے میرا حصہ مار لیا ہے مجھے ریلیف دلایا جائے۔ جس پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ عدالت کسی ایسے معاملے میں ریلیف نہیں دے سکتی جس کی بنیاد ہی قانون شکنی اور جرم پر مبنی ہو۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ اگر یہ لین دین قانونی اور جائز ہوتا تو عدالت آپ کو انصاف دلا دیتی۔ ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی ڈیل میں عدالت میں انصاف دلانے سے قاصر ہوتی ہیں ورنہ ہر جواری اپنے ساتھیوں کے خلاف عدالت پہنچ جائے کہ مجھے جوئے کی رقم پوری دلائی جائے۔ مجھے یہ سارا پس منظر پاکستان کے سینیٹ الیکشن کے موقع پر ہر طرف سے خرید و فروخت کے واویلا اور عدالتوں میں اس کی بازگشت کی وجہ سے یاد آ رہا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ عدالتیں ووٹوں کی خرید وفروخت روکنے میں کوئی مؤثر کارروائی کر سکیں گی۔ جب تک پارلیمنٹ کے ارکان اور سیاسی پارٹیاں خرید و فروخت کو برا نہیں سمجھیں گی اس وقت تک سینیٹ الیکشن پر الزامات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں تاریخ کی بدترین خرید وفروخت ہونے جا رہی ہے اور سینیٹ کا چہرہ اس الیکشن کے بعد پہلے سے زیادہ داغدار ہو گا کیونکہ ہارس ٹریڈنگ کے الزامات جتنے شدید اور متواتر اس وقت ہیں شاید تاریخ میں پہلے اتنے کبھی نہیں تھے۔ 

یہ ہفتہ پاکستان کی سینیٹ کے لیے ایک تاریک ہفتہ تھا جب 2018ء کے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ویڈیو جاری ہوئی جس میں انہیں کروڑوں روپے وصول کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کی زد میں ایک صوبائی وزیر بھی آ گئے جن کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ ساری ویڈیو پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ہے وہی اس میں پیسے وصول کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو منظر عام پر لانے کا وقت بہت اہم ہے جب سپریم کورٹ میں حکومت ایک کیس لڑ رہی ہے کہ الیکشن کو اوپن بیلٹ کے ذریعے کروایا جائے۔یہ عدالت پر دباؤ بڑھانے کا ایک ہتھکنڈا ہے دیکھنا ہے کہ عدالت کس حد تک اس کا اثر قبول کرتی ہے۔ 

اگر یہ ویڈیو کسی اور سیاسی پارٹی کے بارے میں ہوتی تو پورے ملک میں طوفان کھڑا ہو جاتا۔ پارٹی پر پابندی کے مطالبے ہوتے۔ عدالتوں میں از خود نوٹس جاری ہو جاتے۔ نیب ایف آئی اے اور پتہ نہیں کون کون کہاں کہاں سے حرکت میں آجاتا کہ سینیٹ جیسے سیاسی قبلہ کی اس قدر بے توقیری کیوں کی جا رہی ہے مگر حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ پھر بھی کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ حکومت اس کو اپنے لیے ایک کریڈٹ کا ذریعہ بنا رہی ہے اور بڑا اعزاز سمجھ کر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ 

ہمارے گاؤں کا ایک لوہار ایک دفعہ ایک فوجداری مقدمے میں بطور گواہ پیش ہوا اور کہا کہ وہ 

لڑائی کے وقت موقع پر موجود تھا اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد گواہ کس طمع اور لالچ میں آ کر اپنے بیان سے منحروف ہو گیا اور جج کے سامنے پیش ہو کر کہا کہ وہ تو وہاں موجود ہی نہیں تھا جج نے کہا کہ جو بات آپ نے پہلے کی تھی اور جو بات آپ اب کر رہے ہیں ان میں درست کون سی ہے تو گواہ نے کہا کہ درست وہ ہے جو میں اب کہہ رہا ہوں۔ عدالت نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا اور جھوٹ بولنے پر 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔ KPK ممبران کی ویڈیو لیک پر حکومت کی اعلیٰ قیادت کا مؤقف بالکل گاؤں کے لوہار جیسا ہے جس نے عدالت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی۔ تحریک انصاف آن دی ریکارڈ یہ کہہ چکی ہے (2018ء میں) کہ ان کے پاس ویڈیو موجود ہے اب وہ اس سے کیسے منحرف ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عدالت کو متاثر کرنے کا ایک حربہ ہے۔ اس پورے کیس کی انکوائری ہونی چاہیے اور اگر واقعی اس پر شفاف تحقیقات کا آغاز کیا جاتا ہے تو شاید حکومتی پارٹی کی اعلیٰ ترین سطح پر اس کے مضر اثرات سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔ 

تحریک انصاف نے جن 20 ایم پی ایز کو پیسہ لینے کے الزام میں پارٹی سے نکالا تھا، ان کا موقف بھی سننا چاہیے وہ کہتے ہیں کہ یہ ویڈیو سپیکر پختونخوا کے آفس کی ہے جو کہ اس وقت اسد قیصر تھے۔ ان کے مطابق اسد قیصر نے ہمیں وہاں بلایا تھا کہ پیسے وصول کریں۔ یہ ترقیاتی فنڈ کے نام پر پیسہ دیا گیا تھا۔ اس بیان کے بعد انصاف کا تقاضا تب پورا ہوتا ہے کہ اسد قیصر کو شامل تفتیش کیا جائے۔ ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو فیصلہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ سینیٹ ووٹ کی خرید و فروخت پارٹی کی اعلیٰ ترین سطح پر ہوتی ہے۔ پارٹی قیادت کو سینیٹ ٹکٹ کے اجراء کے موقع پر بھاری رشوت ملتی ہے جسے ڈونیشن کہا جاتا ہے۔ اس فنڈ کا آدھا پیسہ پارٹی قیادت کو ملنا ہے باقی آدھا ایم پی ایز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایم پی ایز اپنے پارٹی امیدوار کو ووٹ دینے کا بھی معاوضہ لیتے ہیں پارٹی اس لیے انہیں پیسے دیتی ہے کہ کہیں وہ مخالف امیدوار سے زیادہ پیسہ نہ لے لیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ایم پی اے دونوں طرف سے پیسہ لے لیتا ہے اور ووٹ پھر بھی مرضی سے دیتا ہے۔ KPK کے 20 ایم پی ایز کی حقیقت بھی یہی تھی کہ انہوں نے پیسے تحریک انصاف سے لیے اور ووٹ بھی ان کے خلاف دے دیا۔ یہ ایک جادو نگری ہے جسے سمجھنا بہت مشکل کام ہے۔ اگر تحریک انصاف ووٹ کی خرید و فروخت کو سیاسی گناہ کبیرہ سمجھتی ہے تو 2018ء میں پنجاب میں چوہدری سرور نے جو مخالفین کے ووٹ لے کر سینیٹ کی سیٹ خریدی تھی اس پر پارٹی نے اعتراض کیوں نہیں کیا۔ یہ تو سب کو پتہ ہے کہ چوہدری صاحب کی پارٹی کے پاس اتنے ووٹ ہی نہیں تھے کہ وہ جیت سکتے۔

حالیہ سینیٹ الیکشن میں حکومت کو خطرہ ہے کہ ان کے ایم پی اے مخالف جماعتوں سے پیسے لے کر ووٹ فروخت کرینگے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 

پنجاب اسمبلی کے 22 آزاد ارکان جو تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے وہ اندر سے ناراض ہیں بہت سے PTI ایم پی اے اپنی پارٹی کوووٹ نہیں دینا چاہتے جس کی وجہ سے پارٹی قیادت کو خطرات ہیں اور اگر پنجاب اسمبلی میں سینیٹ الیکشن میں حکومت کو مطلوبہ ووٹ نہ ملے تو اس سے اپوزیشن کی حوصلہ افزائی ہو گی اور اس کے نتیجے میں پنجاب میں بزدار حکومت کو سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب سے خرم لغاری نے PTI چھوڑنے کا اعلان کیا ہے اور ان کے ساتھ 5 ممبران اور بھی ہیں خرم لغاری کا کہنا ہے کہ پورے صوبے کو 10 ارب جبکہ صرف تونسہ کی ترقیاتی گرانٹ 77 ارب ہے ۔ تونسہ وزیراعلیٰ بزدار کا علاقہ ہے۔ خرم لغاری کا کہنا ہے کہ ایک پل پر 2 ارب روپے لاگت کیسے آ سکتی ہے یہ محض خانہ پری ہے۔ بہرحال یہ سینیٹ الیکشن تحریک انصاف کی حکومت کیلئے زندگی موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وزیراعظم کے پاس سینیٹ الیکشن کے ووٹ کے تازہ ترین ریٹ بھی موجود ہیں اور وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ ماضی میں بذات خود انہیں ووٹ فروشی کی پیشکش ہوتی رہی ہے۔ اس سے آپ خود ہی صورت حال کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ساغر صدیقی مرحوم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

ایتھے ہر شے وکدی مل

بول بول توں کیہ لینا

ایتھے مل پیندا تقدیراں دا

ایتھے گھنگھرو ناں زنجیراں دا

ایتھے کھرے تے کھوٹے روک جاندے 

ایتھے چن دے ٹوٹے وک جاندے


ای پیپر