Dr. Ibrahim Mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
15 فروری 2021 (11:19) 2021-02-15

وہ جو حکیم الا مت علا مہ اقبال نے کہا تھا:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو رو زی

 اس کھیت کے ہر خو شہِ گند م کو جلا دو 

مگر نہیں۔ہما را دہقان تو اس قدر محب الو طن ہے کہ وہ ایک ایک خو شہِ گند م کی حفا ظت کے لیئے خو د اپنی جا ن کی قر بانی تک دینے سے گر یز نہیں کر ے گا۔ مگر کیا اس کے اس جذ بے کی ہما رے ہا ں کو ئی قدر بھی ہے؟ جوا ب نفی میں اس لیئے ہے کہ اس ملک میں روزِ ا ول سے ہر بڑی مچھلی چھو ٹی مچھلی کو نگلنے کی طر ف ما ئل ہے۔ لو ٹ کھسو ٹ ہے کہ اس ملک کی تقد یر بن چکی ہے ۔لٹیر و ں کے لیے پاکستان میں سب سے آسان شکار ہما رے کسان ہیں۔ لٹیرا چاہے بابو ہو، تحصیلدار ہو، ڈاکٹر ہو،وکیل ہو، دکاندار ہو یا چاہے ٹریفک پولیس ہو۔ پاکستان میں زیادہ تر ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ لوگ کاشتکاری کے شعبہ سے وابستہ ہیں،بڑے جاگیرداروں کی بات اس سے الگ ہے۔ ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ زیادہ تر کسان اپنے بنیادی حقوق سے واقف ہی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے کھیت کے کاموں میں اتنا مگن رہتا ہے کہ اس کے پاس نکے افسروں سے تعلقات بنانے کے لیے نہ وقت ہوتا ہے، نہ وسائل اور نہ ہی اپنی صحت و لباس پر توجہ دے پاتا ہے۔ میلی پگڑی،پرانی دھوتی اور پھٹی قمیض پر جگہ جگہ ڈیزل اور کالے موبل آئل کے داغ،پیوند لگا نائیلون کا جوتا اور بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ،چائنہ کا موٹر سائیکل کہ جس کے ٹائروں پر کیچڑ لگی ہوئی،ٹیڑھا رم، لڑھکتے ہوئے اشارے اور کھاد کی بوریوں اور ڈیزل کی کین کی لوڈنگ کی وجہ سے چپکی ہوئی سیٹ پر براجمان کسان سڑک پر جاتی درجنوں موٹرسائیکلوں میں ٹریفک پولیس اہلکار کو نمایاں طور پر نظر آتا ہے تو اس کو جب رکنے کا اشارہ کیا جاتا ہے تو وہ کچھ بریک لگاتے لگاتے اور کچھ پاؤں سے موٹرسائیکل روکنے کی کوشش میں ٹریفک پولیس اہلکار سے چند قدم آگے جا رکتا ہے۔ پھر چہرے پر پریشانی والی مسکراہٹ کے ساتھ،موٹرسائیکل پیچھے کھینچ کر مؤدبانہ طریقے سے ٹریفک پولیس اہلکار کے پاس پہنچتا ہے تو اس کی آنکھوں میں رحم کی اپیل نمایاں ہوتی ہے۔ اس دوران پینٹ شرٹ میں یا اچھے اچھے صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس،کالے شیشوں والی عینک لگائے، بغیر نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکلوں پر بڑے پراعتماد 

طریقے سے بہت سے لوگ وہاں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو پتہ ہوتا ہے کہ چلتر چالاک لوگوں سے خرچہ پانی وصول نہیں ہونا بلکہ الٹا چلتر چالاکوں کے کسی سیاسی شخصیت یا کسی نکے وڈے افسر کے سفارشی فون کا جھنجھٹ الگ سے۔ لہٰذا ٹریفک پولیس اہلکار کے ہاتھ جو کسان مرغا آ گیا ہوتا ہے تو ان کی ساری توجہ اب اس مرغا کی کھال اتارنے میں ہوتی ہے۔ کسان سے جب ٹریفک پولیس اہلکار کہتا ہے کہ موٹرسائیکل کے کاغذات چیک کراؤ تو کسان کو اچھی طرح سمجھ لگ جاتی ہے کہ گھر کی سبزی کے لیے یا بچوں کے لیے جوس، بسکٹ لینے کے لیے یہ جو دو تین سو روپے بڑی مشکل سے جیب میں بچا کے رکھے ہوئے ہیں تو آج ان کا آخری وقت آ گیا ہے۔ کسان بیچارے نے تو موٹرسائیکل کے کاغذات گھر میں ٹرنک یا پیٹی میں دو تین شاپر چڑھا کے ایسے محفوظ کر رکھے ہوتے ہیں کہ جیسے حکومت نے آئی۔ایم۔ایف سے قرضہ یہ موٹرسائیکل کے کاغذات گروی رکھ کے لینا ہو۔ کاغذات پاس نہ ہونے کی وجہ سے کسان ٹریفک پولیس اہلکار کے بڑے منت ترلے کرتا ہے مگر سرکار اگر ہر کسی پر رحم کرے تو اپنی بڑھی ہوئی توند میں دوزخ کا ایندھن کیسے ڈالے۔ سرکار نیلے نوٹ سے ڈیمانڈ شروع کرتی ہے اور پھر حالات کے مطابق بات سبز نوٹ تک کچھ دیر کے لیے ٹھہرتی ہے۔ مگر کسان کی جیب میں یہ سبز نوٹ بھی کہاں۔ منت ترلوں  اور کسی ہری بھری شخصیت کے حوالوں میں ناکامی کے بعد کسان خود ہی جیب میں موجود تمام یعنی دو تین لال نوٹ نکال کے،جیب کو الٹا کر کے اور خالی بٹوہ ٹریفک پولیس اہلکار کے ہاتھ پر رکھ کے ہاتھ جوڑ لیتا ہے کہ بس یہی کچھ ہے،یہ رکھ لیں اور مجھے جانے دیں۔ ایسی صورتحال سے نکل کر کسان کی خوشی ایسے ہوتی ہے کہ جیسے وہ ضیاء الحق کے طیارے میں بم رکھنے کے الزام سے بچ آیا ہو۔ سبزی اور بچوں کے بسکٹ، نمکو کے پیسے تو ٹریفک پولیس اہلکار نے بٹور لیے لہٰذا اب کسان کا لنچ سالن کے بجائے ہری مرچ کی چٹنی کے ساتھ اور بچوں کے لیے بسکٹ نمکو کی بجائے بسکٹ نمکو کے صحت پر نقصانات کا لیکچر اور پھر دو دو تین تین لتر۔ یہ تحریر بڑے شہروں میں بسنے والے لوگوں کی سمجھ میں شاید نہ آئے مگر چھوٹے شہروں اور گاؤں میں بسنے والے لوگ تقریباً روزانہ ہی سڑک کنارے ’کسان اور ٹریفک پولیس‘‘ کا یہ تماشا بغیر ٹکٹ کے دیکھتے ہیں۔ کسان کی سادگی اس کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ با ہر کے مما لک  سے ہمیں ز مین سے فی ایکڑ پیداوار بڑھا نے کی خبر یں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ ہما رے ز را عت کے محکموں کا فر ض بنتا ہے کہ وہ ز مین کی پید ا وا ر بڑ ھا نے کی ٹیکنا لو جی کو ہما رے کسا نو ں کو منتقل کر نے پہ کا م کر یں۔ مگر نہیں۔ یا د آ یا کہ کبھی کپا س کی اعلیٰ پیدا وا ر پا کستان کی پہچا ن تھی۔ مگر ہو ا یہ کہ ہمارے زرا عت کے محکمو ں نے  ہمارے شو گر مل ما فیا کی خوشنودی کے لیئے بہتر ین کپا س پید ا کر نے وا لی ز مینو ں کو گنے کی کا شت کے لیئے مخصو ص کر دیا۔ اس سے کپا س کا نقصا ن ہو اسو ہوا ، لیکن اس سے ایک  دوسرا بڑا نقصا ن زرعی پا نی کی کمی کی صو رت میں ہوا۔ گنے کی نشو نما زمین کا بہت سا پا نی چو س لیتی ہے۔ اسی طر ح شو گر ملو ں کے مالکا ن ہما رے سا دہ لو ح کسا نو ں کا خو ن چو س لیتے ہیں۔بات وہیں آ جا تی ہے جہاں سے شر و ع ہو ئی تھی۔ شا ید کسا نو ں کو اب علا مہ ا قبال کے اس فر ما ن پہ عمل کر نا پڑ جا ئے۔

جس کھیت سے دہقا ں کو میسر نہ ہو رو زی

 اس کھیت کے ہر خو شہِ گند م کو جلا دو


ای پیپر