Umar Khan Jozvi columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
15 فروری 2021 (11:18) 2021-02-15

ہمیںراہزنوں سے گلہ نہیں ان کاتوکام ہی جیبوں کی کٹائی ہے۔شکوہ توہمیں اس رہبرسے ہے جن کی نگرانی اور حکمرانی میں نا صرف قافلہ لٹابلکہ آج بھی قافلوں پرقافلے لٹتے جارہے ہیں۔کپتان کی ایمانداری،حب الوطنی اوراخلاص پر تو ہمیں شک نہیں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ میرے کپتان کے بلندوبانگ دعوئوں،میٹھے میٹھے وعدوںاورایماندارانہ تقریروں وتحریروں سے ہمیں کیا۔۔؟ آج ان کے اپنوں کوبھی یقین نہیں۔چھاننی جب اٹھ کے کوزے کوکہے کہ آپ میں دو سوراخ ہیں توپھرلوگ کوزے کے دوسوراخوں کونہیں بلکہ چھاننی کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ماناکہ ماضی میں ہمارے سابق حکمرانوں نے برا کیا لیکن سوال یہ ہے کہ پچھلے ڈھائی سال سے یہ جو ایماندار وزراء سابق حکمرانوں کے ایک ایک گناہ گنتے جارہے ہیں آخر ان ایمانداروں نے میدان سیاست میں خودکیاکیا۔؟ہمارے بڑے اوربزرگ کہاکرتے تھے کہ اپنا ہاتھ اوردامن اگرصاف نہ ہوتوپھردوسروں کی طرف انگلی نہیں اٹھانی چاہیے۔سیاست میں لین دین ،ضمیروں کی خرید و فروخت اوراچھے بھلے انسانوں کی لوٹ سیل کووزیراعظم عمران خان کی طرح ہم بھی بہت بڑا جرم اورگناہ سمجھتے ہیں ۔سیاست کو نجاست کے درجے تک پہنچانے والے اس طرح کے جرائم اورگناہوں کی نہ اس سے پہلے ہم نے کبھی حمایت کی اورنہ اب ہم ایسے اقدامات کواچھی نظرسے دیکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کوتوصرف سینیٹ انتخابات میں ’’سیاسی گھوڑوں‘‘ کی خریدوفروخت یادہے لیکن ہم تو2018کے عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی کے سائے تلے پورے ملک میں سیاستدانوں کی خرید و فروخت کیلئے لگنے والی منڈیوںاورپھرجہازکے ذریعے فضاء میں لوٹ سیل کوبھی آج تک نہیں بھولے۔ جس طرح سینیٹ انتخابات میں نوٹوں کی لش پش گڈیوں پردوسروں کے ضمیرخریدناجرم اورگناہ ہے اسی طرح عین انتخابات یاچیئرمین سینٹ کے انتخاب کے موقع پردوسروں کے ضمیرخریدنااورسیاسی وفاداریاں تبدیل کرانابھی اس سے بڑا جرم اورگناہ ہے۔آج صبح وشام لوگوں کوایمانداری پریہ جوبھاشن دے رہے ہیں یہ ایمانداراگر2018کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اوردیگرسیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نامی گرامی سیاستدانوں کی قیمتیں نہ لگاتے تو کیا۔؟ یہ آج اقتدارمیں ہوتے۔؟ماناوزیراعظم عمران خان ایمانداربھی ہوں گے اورامانت داربھی۔ لیکن اس ملک کے اندر’’سیاسی گھوڑوں’’کی خریدوفروخت میں جتناکرداراورہاتھ سابق وزیراعظم نوازشریف،آصف علی زرداری اور دیگر کا ہے اتناہی بلکہ اس سے بھی زیادہ خودہمارے اس ایمانداروزیراعظم کابھی ہے۔سینیٹ انتخابات کوشفاف بنانے کے حوالے سے ہم وزیراعظم عمران خان کے عزائم،نیت اوراخلاس پرشک نہیں کرسکتے لیکن تحریک انصاف کے سائے تلے ماضی قریب اوربعیدمیں سیاسی گھوڑوں کی خریدوفروخت اورپکے ٹکے مخالفین سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے عمل کو دیکھتے ہوئے ہم وزیراعظم صاحب کے اس اخلاص اورنیت پریقین بھی نہیں کرسکتے۔جوشخص خودایک منڈی سے بار بار ضمیروں کی خریداری کرے وہ پھر اس منڈی کوختم کرنے میں کیسے مخلص ہوسکتے ہیں۔؟ ہمارے نادان کپتان مانیں یا نہ۔ اس ملک میں میاں نوازشریف اورآصف علی زرداری سے لیکرخودوزیراعظم عمران خان تک ہمارے سب لیڈروں اور رہنمائوں نے سیاستدانوں کی خریدوفروخت اورایک دوسرے کے ممبران وپارٹی عہدیداروں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے 

کوباقاعدہ ایک قسم کی ’’سیاست‘‘کادرجہ دے رکھاہے۔ عمران خان اورہمارے دیگرلیڈراگرسیاست کونجاست بنانے والے ان عوامل کوثواب کادرجہ نہ دیتے توآج ملک میں ضمیروں کی خریداری کے لئے اس طرح منڈیاں نہ لگتیں۔ سیانے اسی لئے توکہتے ہیں کہ جوبوئوگے وہ کاٹو گے۔ عمران خان سمیت ہمارے ان لیڈروں نے جوبویاتھاآج وہی انہیں کاٹنا پڑ رہا ہے۔اسی وجہ سے توسیاسی مخالفین اور ناقدین وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ انتخابات کوشفاف بنانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کوکپتان کی گھبراہٹ اورخوف قراردے رہے ہیں۔کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان کوسینیٹ انتخابات کی شفافیت سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ انہیں فکرسیاسی اصطبل میں باندھے ہوئے اپنے ان ،،سیاسی گھوڑوں،،کی ہے جنہوں نے سینیٹ انتخابات کی آمدسے بھی پہلے دم ہلانے اورپائوں مارنے شروع کردیئے ہیں۔وہ حکومت جوخودقائم ہی لین دین، جوڑ توڑاور خریدوفروخت پر ہوئی۔ اس کی جانب سے سینیٹ انتخابات کوشفاف بنانے کیلئے اس طرح کی سنجیدگی کودیکھ کرواقعی لگتاہے کہ دال ساری نہیں توکچھ نہ کچھ ضرور کالی ہے ورنہ اس طرح کی سنجیدگی کے آثارکبھی دکھائی نہ دیتے ۔کیونکہ کپتان کی جانب سے جن کوہارس ٹریڈنگ کاذمہ دار قرار دیا جا رہاہے ان لوگوں،گروہوں،پارٹیوںاورقوتوں نے 

توصرف ضمیروں کے سودے کئے لیکن کپتان سے جڑے کھلاڑیوں نے توہارس ٹریڈنگ میں ان سے بھی سوقدم آگے نکل کرالیکشن سے قبل ضمیرہی نہیں بلکہ پورے پورے انسان خریدے۔عام انتخابات سے قبل امیدواروں کے انتخاب اورپھرالیکشن کے بعدحکومت بنانے کیلئے جہانگیرترین کے جہازکی آزاد امیدواروں کے پیچھے پروازوں پرپروازیں کس کویادنہیں ۔؟آج وزیراعظم صاحب کے سنگ میں بیٹھنے والے عمرایوب خان، فوادچودھری،شاہ محمودقریشی،شیخ رشید،غلام سرور خان، خسروبختیار،محمدمیاں سومرو،اعظم سواتی،زبیدہ جلال،فردوس عاشق اعوان اوران جیسے اوربہت سارے یہ وزیراورمشیر کیاآسمان سے اترے۔؟ پھر چیئرمین سینیٹ کاانتخاب اورعدم اعتماد تحریک میں اکثریت کے باوجوداپوزیشن کی جیت کوشکست میں کس شفافیت کے تحت بدلاگیا۔؟ہاتھ اوردامن ایمانداروں کے صاف ہوتے توشفافیت شفافیت کے ان نعروں اوردعوئوں پرہم بھی آنکھیں بندکرکے یقین کرلیتے لیکن یہاں تومعاملہ ہی الٹ ہے۔ویسے اصطبل میں باندھنے والے گھوڑے اگرمسلسل دم ہلاتے اورپائوں مارتے ہوں تو پھر مالک واقعی بے فکراوربے غم نہیں رہ سکتے۔شائدیہی وہ وجہ ہے جس نے سینیٹ انتخابات کیلئے حکمران جماعت کے بڑوں کو بے قراراوربے چین کردیاہے۔ وزیراعظم عمران خان کی طرح ہمیں بھی اس ملک میں سیاستدانوں کی خریدوفروخت اور لوٹ سیل والے کھیل اورمیلے اچھے نہیں لگتے۔ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ضمیروں کاکوئی سودانہ ہولیکن کیا کریں۔ یہاں توایک سے بڑھ کرایک سوداگراوربیوپاری بیٹھے ہیں۔اپنے پائوگوشت کیلئے کل بھی اس ملک کے اندرپوری کی پوری بھینس ذبح کی جاتی تھی اورآج بھی یہاں پائوگوشت کے لئے پوری بھینس ذبح کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کر رہا۔ چھانگامانگااورمری کے نام لیکرکوئی نوازشریف کوہارس ٹریڈنگ کاباپ کہیں یاآصف علی زرداری کوضمیروں کا بیوپاری۔ مولانا فضل الرحمن کوکوئی گالیاں دیں یاسراج الحق کوکوئی مفت میںبرابھلاکہیں۔اے این پی والوں کوکوئی ایزی لوڈکے طعنے دیں یا ق لیگ اورایم کیوایم والوں کوکوئی رنگ بدلنے والے گرگٹ کہیں۔لیکن حق اورسچ یہ ہے کہ خان ہے یانواب،شریف ہے یا زرداری،رئیس ہے یاچودھری،سائیں ہے یاکوئی غلام ،سیاست کے حمام میں سب،یہ سب ننگے ہیں۔ 


ای پیپر