Sameera Malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
15 فروری 2021 (11:14) 2021-02-15

پاکستان میںجیپ ریلی کے ہر سال دو ایونٹ بہت شاندار طریقے سے منعقد ہوتے ہیں۔جن میں سے  ایک چولستان ڈیزرت جیپ ریلی ہے۔دوسری جیپ ریلی تھر میں منعقد ہوتی ہے۔چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے اسپورٹس ایونٹ میںہوتا ہے۔رواں سال ان دنوں بھی صحرائے بہاول پور میں 16ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی 2021 کا ایونٹ اپنے شیڈول کے مطابق جاری ہے۔یوں تو ڈیزرٹ ریلی کے انعقاد کی تاریخ 16سالوں پر محیط ہے۔تاہم ٹی ڈی سی پی نے 2005میں پہلی بار چولستان جیپ ریلی کو گود لیا۔حسب سابق اس سال بھی چولستان جیپ ریلی کے دلچسپ مراحل اور رنگارنگ تقریبات 12فروری سے جاری ہیں۔جس کے تحت پہلے روز فرسٹ رائونڈموڈیفائیڈ ریس ہوتی ہے۔ جس میں 100سے زائد گاڑیا ں حصہ لیتی ہیں۔13فروری کو اسٹاک اور خواتین کیٹگری ریس اور بائیک ریس ہوتی ہے جبکہ ریلی کا فائنل رائونڈ 14فروری کو ہوا۔ بعد میںتقریب تقسیم انعامات منعقد ہوئی۔ اس موٹر اسپورٹس کے ذریعے صحرائے چولستان میں جنگل میںمنگل کا سماں ہے۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلی جام کمال رواں سال جیپ ریلی کے ایونٹ میں چار سے پانچ دن یہاں رہے ہیں۔اسی طرح وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے پچھلے سال جیپ ریلی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔اس سال کیونکہ کہ سنیٹ انتخابات ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان لاہور کا دورہ کررہے ہیں۔جس کی وجہ سے وزیراعلی پنجاب چولستان ریلی میں شرکت دوسرے دن کی۔اور خود جیپ بھی چلائی۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا۔جس طرح وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک میں ٹورازم کو پروموٹ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔اس حوالے سے ملائیشیاکی مثال دیتے ہیں۔ اتنا زیادہ ریونیو سیاحت کے شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح وزیراعظم پاکستان میںسیاحت کے شعبے کو اجاگر کرتے ہوئے سوات اور گلگت کی تصویریں ٹویٹر پر شیئر کرتے ہیں۔لیکن ان کی نظر شفقت سے بہاول پور میں منعقدہ چولستان جیپ ریلی ابھی تک محروم ہے۔وہ اس ریلی کی افتتاحی یا اختتامی تقریب میں شرکت کرنا تو دور کی بات کبھی اس بارے میںایک ٹویٹ تک نہیں کیا ہے۔ کیا ریاست بہاو ل پور کا حق نہیں ہے۔ کیاوہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔

اس سال 16ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کے موقع پر میں نے خود بھی ریس ٹریک پر گاڑی چلا کر دیکھی ہے۔ اس کے 165کلومیٹر ٹریک کا فاصلہ طے کیا۔ اس دوران مجھے نہ صرف دلچسپ تجربہ ہوا بلکہ اعتماد بھی حاصل ہوا ہے۔ریلی کے ٹریک پر چلتے ہوئے جب جیپ کو ریت کے ٹیلوں پرسے گذارتے ہیں۔ اس کے بعد سیدھا ٹریک ملتا ہے۔ پھر ریت کے ٹیلے فاصلے کا حصہ ہوتے ہیں۔پرتجسس اور سنسنی خیز ڈرائیونگ عزم و حوصلے بلندکردیتی ہے۔میںیہ سمجھتی ہوں کہ جیپ ریلی میں شرکت کرنے والے مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں۔ جیپ ریلی کے ٹریک پر گاڑی چلا کر احساس ہوا۔جیپ ریلی کا ٹریک زندگی کے سفر میں آنے والے نشیب وفراز سے مماثلت رکھتا ہے۔جس طرح ایک انسان عام زندگی میںکبھی چیلنج آتے ہیں تو کبھی آسانی حاصل ہوتی ہے۔ جیپ ریلی کا ٹریک بھی کچھ ایسا ہی پیغام دیتا ہے۔ ایک عورت بھی خود میں اعتماد محسوس کرتی ہے۔ میرے خیال میں جنوبی پنجاب کی خواتین کو اس شوق کو ضرور پورا کرنا چاہئے تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہوسکے۔ویسے تو چولستان جیپ ریلی میں ہرسال 4خواتین مستقل حصہ لیتی ہیں۔جن کا تعلق جنوبی پنجاب کی بجائے پاکستان کے دوسرے صوبوں سے ہے۔جیپ ریلی میں شرکت اتنا مہنگا شو ق ہے۔ جس میں ایک جیپ کی تیاری میں کروڑوں روپے لگتے ہیں۔اس شوق کو پورا کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔بہاو ل پور کے لوگ دو وقت کی روٹی کھالیں۔بڑی بات ہے۔ان کے لیئے جیپ ریلی میںشرکت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ 

بہاول پور  میں چولستان جیپ ریلی کو ایک انٹرنیشنل ایونٹ بنا کر بین الااقوامی سطح پر کوریج دی جاسکتی ہے۔ بیرون ملک کے سیاحوں کے لیئے چولستان جیپ ریلی کو پرکشش بنایا جاسکتا ہے۔مگر اس اہم ایشو کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ چولستان جیپ ریلی کے میگا ایونٹ کو جیسے پیش کیا جانا چاہئے ویسے اجاگر نہیںکیا جارہا ہے۔چولستان جیپ ریلی کا فائنل پچھلے سال نادر مگسی نے اپنے نام کرلیا جبکہ خواتین میںٹشنا پٹیل پہلے نمبر پر تھیں۔چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی 2021اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔اتوار کو فیصلہ ہوجائے گا۔رواںسال پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے خوش نصیب کون ہوں گے۔چولستان جیپ ریلی ایونٹ ہو یا تھر کی جیپ ریلی ہو۔ میرے خیال میںوزیر ا عظم پاکستان عمران خان کو جیپ ریلی کے ان دونوں ایونٹس میں اپنی شرکت یقینی بنانی چاہئے۔اس سے نہ صرف ان پسماندہ علاقوں کااحساس محرومی دور ہوگا بلکہ سیاحت کے شعبے کو بھی فروغ ملے گااورپاکستان کا پرامن تشخص بین الااقوامی سطح پر اجاگر ہوسکے گا۔ اس سے بڑھ کر قومی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے۔


ای پیپر