شہباز شریف سمیت ملکی سیاسی قیادت کا نعیم الحق کے انتقال پر اظہار افسوس
15 فروری 2020 (23:56) 2020-02-15

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور اور قریبی دوست نعیم الحق کے انتقال پر ملکی سیاسی قیادت نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

عمران خان کے قریب سمجھے جانے والے نعیم الحق تحریک انصاف کے بانی ارکان میں سے تھے اور وہ جنوری 2018 سے خون کے سرطان میں مبتلا تھا۔ 70 سالہ نعیم الحق کراچی کی نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ انتقال کرگئے۔ نعیم الحق کے انتقال پر ملکی سیاسی قیادت نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے نعیم الحق کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نعیم الحق کی وفات کا سن کر بہت دکھ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نعیم الحق کے اہل خانہ اور تحریک انصاف کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم )پاکستان کے کنوینر اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے نعیم الحق کے صاحبزادے امان الحق کو ٹیلی فون کیا اور افسوس کا اظہار کیا۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نعیم الحق کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری سے لڑے، تحریک انصاف کے بانی رہنما کی سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کی جمہوریت کے لیے قربانیاں قابل ستائش ہیں۔تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے بھی نعیم الحق کے انتقال پر دکھ و تعزیت کا اظہار کیا۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے نعیم الحق کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے مخلص دوست اور تحریک انصاف کے محسن نعیم الحق کا انتقال پارٹی کے ہر کارکن اور عوام کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کارکنان کے حقوق کے چیمپئن تھے، ان کا خلا کھبی پر نہیں ہو سکتا۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے بھی پارٹی رہنما نعیم الحق کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ نعیم الحق کے ساتھ ناصرف گہرا سیاسی تعلق تھا بلکہ ایک ذاتی قربت بھی تھی اور وہ ہمیشہ شفقت و محبت سے پیش آتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف آج جس مقام پر ہے، اس میں نعیم الحق کی بے انتہا محنت اور لگن شامل ہے، ان کی شخصیت اور خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔

نعیم الحق 11جولائی 1949 کو کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے جامعہ کراچی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز، ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کیا تھا۔نعیم الحق پیشے کے اعتبار سے بینکر اور کاروباری شخصیت تھے اور وہ نیویارک کے یو این پلازہ میں نیشنل بینک کی شاخ قائم کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے، انہوں نے 1980 میں بطور مرچنٹ بینکر لندن میں رہائش اختیار کی۔نعیم الحق نے 1984 میں ائیرمارشل اصغرخان کی تحریک استقلال جوائن کی اور کراچی آگئے، انہوں نے 1988 میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی ٹان سے الیکشن بھی لڑا تاہم بعدازاں 1996 میں عمران خان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔

2012 میں نعیم الحق تحریک انصاف چیئرمین کے چیف آف اسٹاف بن کر اسلام آباد منتقل ہوگئے، نعیم الحق پارٹی کی کور کمیٹی کا حصہ اور انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان نے معاون برائے سیاسی امور مقرر کیا اور آخری وقت تک پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔


ای پیپر