قاسم سلیمانی کو آخر کیوںہلاک کیا گیا ،وائٹ ہاﺅس سے بڑی خبر آگئی
15 فروری 2020 (23:32) 2020-02-15

واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ماضی میں کیے گئے حملوں کا جواب قرار دےدیا۔

غیر ملکی میڈیاکے مطابق وائٹ ہاو¿س کی جانب سے ایک میمو جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کا حکم ماضی میں ان کی طرف سے کیے گئے حملوں کے جواب میں دیا اس سے قبل امریکا کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی وجہ ایک بڑا خطرہ بتائی گئی تھی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو 2 جنوری کے آپریشن سے متعلق ایک وضاحتی رپورٹ بھیجی جس میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران، اس کی حمایت یافتہ ملیشیا کے امریکی فورسز اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے جواب میں اس کارروائی کا حکم دیا۔امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی نے یہ میمو امریکی سینیٹ کی جانب سے ٹرمپ کی سرزنش اور امریکی صدر کے ایران کے خلاف جنگ کے اختیارات محدود کرنے کے اگلے روز جاری کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے کا مقصد امریکا، اس کے شہریوں کا تحفظ، ایران کو باز رکھنے، اس کی حمایت یافتہ ملیشیا کی حملوں کی صلاحیت کم کرنے اور ایران کے حملے بڑھانے کی حکمت عملی کو ختم کرنا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی آئین صدر کو یہ اختیار دیتا ہےکہ وہ فورسز کو ملک کو کسی خطرے سے محفوظ رکھنے یا خطرے کے پیش نظر براہ راست ہدایات دے سکتے ہیں۔وائٹ ہاو¿س کی رپورٹ پر خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور ڈیموکریٹک رکن ایلیٹ اینجل کے مطابق میمو صدر ٹرمپ کے حملہ کسی بڑے حملے کو روکنے کے پچھلے دعوے کی نفی کرتا ہے۔خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نے وائٹ ہاو¿س کی رپورٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید جوابات دینے کا بھی مطالبہ کیا۔


ای پیپر