آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ ،مولانا فضل الرحمن نے خاموشی توڑتے ہوئے اہم اعلان کر دیا
15 فروری 2020 (18:47) 2020-02-15

ڈیرہ اسماعیل خان:جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی امیر مولانا فضل ا لرحمن نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت اپنے اوپر مقدمہ نہ بنانے کےلئے کسی کی منت نہیں کرونگا ،جس کو شوق ہے مقدمہ بنائے ،پھر میں بتاﺅنگا کون آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئے ہیں،ہم رائے سے اختلاف رکھتے ہیں،ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے،قبائل کی نمائندگی جمعیت علمائے اسلام کے پاس ہے اور وہ قبائل کے مسائل سے آگاہ ہے،دھاندلی کی بنیاد پر الیکشن کے نتائج حاصل کئے گئے،جبر اور طاقت کے زور پر فیصلے نہیں مانتے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کہ فاٹا کو انضمام کے بعد کچھ نہیں ملا ایک جھوٹی رپورٹ کی بنیاد پر فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کیا گیا ہمیں ریاست اور ریاستی اداروں سے بھی ہمدردی ہے،ہم آزاد ریاست میں ہرگز نہیں رہ رہے ہیں،موجودہ سلیکٹیڈ حکومت ناجائز ہے، دھاندلی کی بنیاد پر الیکشن کے نتائج حاصل کئے گئے،جبر اور طاقت کے زور پر ہونے والے فیصلے نہیں مانتے۔حکومت جمہوریت کی بنیاد پر ہو تی ہے،پوری قوم کو غلام بنایا جارہا ہے۔

ملک کوسیاسی،جغرافیائی اور مالی طور پر تباہ کر دیاگیا ہے،معیشیت کی بدحالی پر عوام خودکشی کررہی ہے اوربچے برائے فروخت کے اشتھار لگائے جارہے ہیں۔قبائل اپنے حقوق کے حصول کیلئے لڑرہے ہیں، جس طرح پاکستان کے اندر پاکستان کا آئین غیر موثر ہے اسی طرح ہندوستان کا آئین مقبوضہ کشمیر میں غیر موثرہے۔ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ قبائل کے انضمام کے حوالے سے قبائل کی رائے کا احترام کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جے یوآئی فا ٹا کے امیر ایم این اے مفتی عبد الشکور نے کہا کہ ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں 2 مارچ کو پشاور میں حقوق قبائیل کانفرنس میں قبائیل کے حوالے ٹھوس فیصلے کرینگے مولانا شوکت اللہ نے سپاسنامہ پیش کیا۔


ای پیپر