اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
15 فروری 2020 2020-02-15

(گیارہویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)

میں اپنے کالموں کے سلسلے” اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں “ عرض کررہا تھا 2018ءکے الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کی خوشخبری میں نے کینیڈا میں سُنی۔ میں بے چین تھا کسی طرح میری خان صاحب سے بات ہو جائے اور میں اُنہیں مبارک دوں، میں نے دو تین بار کوشش کی بات نہ ہوسکی، پھر میں نے اُن کے واٹس ایپ پر مبارک کا میسج بھیج دیا، اُنہوں نے مسیج پڑھ لیا مگررپلائی نہیں کیا، مجھے اُن کی مصروفیت کا اچھی طرح اندازہ تھا، سو میں نے اِس بات کو نظرانداز کردیا کہ اُنہوں نے میسج پڑھنے کے باوجود رپلائی نہیں کیا، کینیڈا اور پاکستان کے وقت کا بہت فرق ہے، دو تین روز بعد میں صبح اُٹھا میں نے دیکھا خان صاحب کی کال آئی ہوئی ہے، مجھے خوشی ہوئی، کچھ دیر بعد اُن سے بات ہوئی، اُس وقت تک الیکشن کے مکمل نتائج آچکے تھے، اُن کی باتوں سے میں نے محسوس کیا وہ بہت خوش ہیں، ہم بھی خوش تھے پہلی بار پی ٹی آئی نے اتنی زیادہ نشستیں حاصل کیں، میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا ”مجھے خوشی ہے آپ کی سالہا سال کی جدوجہد کے بعد پی ٹی آئی نے اتنی نشستیں حاصل کرلی ہیں، پر یہ نشستیں اتنی نہیں کہ آپ بغیر کسی کی مدد اور حمایت کے آسانی سے حکومت بناسکیں، حکومت بنانے کے لیے آپ کو کچھ ایسی جماعتوں کو ساتھ ملانا پڑے گا جن پر ماضی میں آپ بڑی تنقید کرتے رہے ہیں، مختلف سیاسی واخلاقی حوالوں سے اُنہیں بُرا بھلاکہتے رہے ہیں، اب اُن روایتی سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر حکومت تو شاید آپ بنالیں، پر حکومت چلانا مشکل ہوگا، خاص طورپر ”تبدیلی“ یا نیا پاکستان بنانے کا جو خواب گزشتہ کئی برسوں سے آپ دیکھ رہے ہیں وہ پورا نہیں ہوگا، اس ملک میں ستربرسوں خصوصاً گزشتہ تیس چالیس برسوں سے جو گند پڑا ہے اتنے کمزور مینڈیٹ کے ساتھ اسے صاف کرنا ناممکن ہے، اور دوسروں کا ڈالا ہوا گند آپ صاف نہ کرسکے یہ سارا آپ کے کھاتے میں پڑ جائے گا، .... مجھے یہ بھی خدشہ ہے ان حالات میں بجائے اِس کے آپ سسٹم کو تبدیل کریں کہیں سسٹم آپ کو تبدیل نہ کردے، اور آپ بھی روایتی سیاستدانوں یا حکمرانوں جیسے بن جائیں “.... انہوں نے میری ساری باتیں غور سے سنیں، حالانکہ وہ عموماً ایسے نہیں کرتے، وہ دوسروں کے ایک دو جملے سننے کے بعد ہی بیچ میں ٹوک کر اپنی بات شروع کردیتے ہیں، اُن کے بارے میں مشہور ہے وہ کانوں کے بڑے کچے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد یہ امرکھل کر سامنے آگیا وہ زبان کے بھی بڑے کچے ہیں،.... انہیں روز میں نے اُن سے بہت کچھ کہا، ایک کمزور مینڈیٹ کے نتیجے میں متوقع طورپر جنم لینے والی ساری خرابیوں سے اُنہیں آگاہ کیا، بڑا حوصلہ کرکے اُنہیں یہ مشورہ بھی دے دیا کہ ” بجائے اِس کے وزیراعظم بن کر آپ کچھ نہ کرسکیں، بہترہے فی الحال آپ وزیراعظم نہ بنیں اور ایک اُمید کی صورت میں قائم رہیں، آپ ہماری آخری اُمید ہیں۔ اُمید ٹوٹ گئی کچھ باقی نہیں بچے گا“۔ میں نے اِس موقع پر ایک اور خدشے کا اظہار بھی کیا، میں نے اُن سے کہا ”پتہ نہیں کیوںمیں اِس احساس میں مبتلا ہوں اِس ملک کی ”اصل قوتیں“ آپ کو اقتدار میں لاکر مکمل طورپر ناکام بنانے کے بعد پاکستان کے عوام کو یہ پیغام نہ دینا چاہتی ہوں کہ اس ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان اقتدار کے لیے مکمل طورپر ”مِس فِٹ“ ہیں، وہ اتنی اہلیت ہی نہیں رکھتے بگڑے ہوئے حکومتی معاملات کو درست کرسکیں،.... میری یہ ساری ” بکواس“ سننے کے بعد وہ فرمانے لگے ” میں تمہاری کچھ باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، مگر اِس سے اتفاق نہیں کرتا کہ مجھے وزیراعظم نہیں بننا چاہیے یا یہ کہ وزیراعظم بن کر میں کچھ نہیں کرسکوں گا“ ....پھر وہ اپنے روایتی انداز میں بڑی بڑی چھوڑنے لگے، کہنے لگے ”کپتان ٹھیک ہو کھلاڑی خراب بھی ہوں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں، پہلے سو دنوں میں ہم کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ دیں گے، یہ میرا مشن ہے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں اِس ملک کو سب سے زیادہ نقصان کرپشن نے پہنچایا ہے“ .... میں نے عرض کیا ” کہیں جذبات میں آکر یہ سو دنوں میں کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے کی بات کسی تقریر یا بیان میں نہ کہہ دیجئے گا،یہ ایک ناممکن عمل ہے، سو دِنوں میں کیا سو مہینوں میں بھی اِس لعنت کو آپ ختم نہیں کرسکتے“۔ انہوں نے پوچھا ” تم نے واپس کب آنا ہے؟“۔ میں نے بتایا میں ان شاءاللہ دس اگست کو واپس آﺅں گا، اُنہوں نے فرمایا فوراً آﺅ کیونکہ میڈیا کا محاذ

اب تم نے سنبھالنا ہے“ .... میں نے سوچا مجھے فوراً واپس آنے کی بات ایسے ہی انہوں نے کہہ دی ہے۔ برادرم عون چودھری خان صاحب کے ہرقسم کے معاون خصوصی تھے، الیکشن سے پہلے تک یہ تاثر عام تھا اُس کے مشورے کے بغیر خان صاحب کوئی قدم یا کوئی اور چیز اُٹھانے کا تصور تک نہیں کرتے، عون چودھری نے اُن کی جتنی عزت کی ، جتنی خدمت کی ، جتنی اُن سے محبت کی ، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے، اُس کی بنیاد پر ہم یہ سوچ کر بیٹھے ہوئے تھے خان صاحب اقتدار میں آنے کے بعد بھی اُسے اتنی ہی اہمیت دیں گے جتنی اقتدار سے پہلے دیتے تھے، پر ظاہر ہے خان صاحب ایک بے دید انسان ہیں، مطلب نکل جانے کے بعد کسی کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے، سو عون چودھری کے ساتھ بھی سلوک اپنی فطرت کے مطابق ہی اُنہوں نے کیا، کچھ لوگوں کا خیال تھا جس طرح عون چودھری کو خان صاحب نے الگ کیا ممکن ہے وہ بھی کوئی کتاب لکھ مارے جیسی ریحام خان نے لکھی اور اُس میں کئی ”انکشافات“ کیے، ریحام خان نے تو بہت کم وقت خان صاحب کے ساتھ گزارا۔ عون چودھری کا جتنا وقت خان صاحب کے ساتھ گزرا وہ ان کی رگ رگ سے واقف ہے، پر جتنا میں اُسے جانتا ہوں میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ رازوں کی حفاظت کرنے والا انسان ہے، خان صاحب کے ساتھ اس کی محبت میں اب بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، ممکن ہے مستقبل میں خان صاحب کو ایک بار پھر اُس کی ضرورت محسوس ہونے لگے، .... بہرحال عون چودھری نے خان صاحب کی طرف سے مجھے پیغام دیا آپ فوراً واپس آئیں، دنیا نیوز کے باخبر نوجوان صحافی، میرے عزیز چھوٹے بھائی حسن رضا کی مجھے کال آئی، اس نے مجھ سے کہا ”2اگست کو خان صاحب لاہور آرہے ہیں میرے ذرائع نے مجھے بتایا ہے اُنہوں نے آپ کے اور حسن نثار صاحب کے گھر آنا ہے“، حسن رضا نے بھی مجھے یہی مشورہ دیا آپ کو فوراً واپس آنا چاہیے، میں نے اپنے ٹریول ایجنٹ سے بات کی ، اُس نے بتایا لاہور سے ٹورنٹو کی اگلی تین ڈائریکٹ فلائٹیس میں ایک سیٹ بھی خالی نہیں ہے، میرے سسرالی عزیزوں نے 9اگست تک ہماری واپسی کے شیڈول کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ تقریبات کا اہتمام کیا ہوا تھا وہ نہیں چاہتے تھے ہم دس اگست سے پہلے واپس چلے جائیں، .... مجھے بہرحال بے چینی لگی ہوئی تھی کسی طریقے سے میں واپس چلا جاﺅں، اور پاکستان میں خان صاحب کے وزیراعظم نامزد ہونے کے جو جشن منائے جارہے ہیں اُن میں شرکت کروں۔ (جاری ہے)


ای پیپر