مانگ رہی ہے آزادی۔۔۔ کشمیر کی وادی
15 فروری 2019 2019-02-15

1931 ء میں جموں میں نماز عید کے لیے جمع مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا کشمیری مسلمانوں نے اپنی مذہبی آزادی پر اس سنگین حملے کے خلاف مظاہرے شروع کر دئیے۔ عبدالقدیر نامی ایک نوجوان نے ڈوگرہ راج کے خلاف تقریر کی تو بغاوت کا مقدمہ بنا کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ 13 جولائی 1931 ء کو عبدالقدیر کے مقدمے کی کارروائی سری نگر کی مرکزی جیل میں جاری تھی۔ لاکھوں مسلمان کارروائی دیکھنے کے لیے جیل کے باہر جمع تھے۔ جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو ایک شخص نے اذان ظہر کے لیے ابھی اللہ اکبر کی صدا بلندہی کی تھی کہ گولی چل گئی دوسرا موذن آگیا پھر تیسرا لیکن گولی نہ رکی۔ اس بے مثال تاریخی اذان کو مکمل کرتے کرتے 22 کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔ ظلم کا یہ سلسلہ چلتا ہی رہا اور بڑھتا ہی گیا۔ افضل گورو ایسے کئی بے گناہوں کو پھانسیوں کے پھندوں پر لٹکایا گیا۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و جارحیت جاری ہے ۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج نہتے کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے ۔ تحریک آزادی کشمیر کے متوالوں پہ گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب عید کے ایام میں مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کمانڈر برہان مظفر وانی کو شہید کر دیا گیا۔ کئی سال گزر جانے کے باوجود آج بھی کشمیری مسلمان اپنے حق خود ارادیت کے لیے جانیں قربان کر رہے ہیں۔ شہید برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ شاید آزادی کے حصول تک جاری رہے گا۔ غلام محمد قاصر کے الفاظ میں:۔

زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

دیو کے چنگل میں شہزادی یہ کشمیر کی وادی

چھینتے ہیں ہونٹوں سے دعائیں او ر سروں سے ردائیں

دشمن نے جن بھیڑیوں کو جنگی وردی پہنا دی

شاید ایسے اک میت پامالی سے بچ جائے

ماں نے کم سن بچی کی دریا میں لاش بہا دی

برہان مظفر وانی کی شہادت سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے ۔مظاہرین پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے سینکڑوں بے گناہ کشمیری مسلمان شہید اور زخمی ہو چکے ہیں ۔ اندھا دھند فائرنگ سے کئی نوجوان بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ جگہ ہی نہیں رہی ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ ایک ایک بیڈ پر دو دو زخمی پڑے ہیں۔ بے گناہ کشمیر ی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا۔ جارحیت جاری ہے کوئی روکنے والا نہیں۔ بربریت‘ سفاکیت اورفسطائیت آج مقبوضہ وادی میں ننگی ناچ رہی ہے ۔ پاکستانی پرچم اُٹھائے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگاتے مظاہرین اور کشمیری مسلمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے سوائے پاکستان کے۔سا بق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نیکہا ہے کہ دنیا مسئلہ کشمیر حل کرائے اور خطے میں امن لانے کیلئے کشمیریوں کی جد وجہدِ آزادی اور ان کی امنگوں کا احترام کرئے۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ بھارتی حکومت گولیوں سے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کبھی بھی کچل نہیں سکتی۔ بھارتی فوج کے مظالم نے آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی ہے ۔ عالمی برادری کو بھارت پر کشمیر میں آگ اور خون کا یہ کھیل بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا، حکومتِ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پہ اُٹھایا ہے ۔ سیکرٹری جنرل ورلڈ مسلم کانگرس و چےئرمین مسلم لیگ ن سینیٹر راجہ ظفر الحق (قائدِ حزبِ اختلاف سینٹ ) فرماتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کسی قراداد کو سابق سویت یونین نے ویٹو کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں کل 25 قراردادیں پیش کی گئی ہیں اور تمام کی تمام اتفاق رائے سے منظور بھی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی ۔ محترم راجہ ظفر الحق صاحب کی یہ بات صد فیصد درست ہے لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے بھاگ رہا ہے اور نہ ہی کبھی اقوام متحدہ کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کروائے اور انصاف و امن کی بات منوا کر دکھائے۔آج ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں ’’سیکولر‘‘ بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ بھارتی افواج کا جبرو بربریت انتہاؤں پہ ہے ۔ وہ معصوم جو آزادی مانگتے ہیں ان پہ گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ و دیگر عالمی ادارے جو امن کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں وہ امن کے دعویدار کہاں ہیں۔؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟۔ یہ بھارت کی خام خیالی ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حق کی صدائیں دبانے سے کبھی دبی ہیں نہ دبیں گی۔ نوائے حق دبانے سے تو مزید اُبھرتی ہے اور اس میں جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری صحیح ثالث کا کردار ادا کرے اور بھارت پہ دباؤ ڈالے۔ دو ایٹمی ممالک میں تنازع کشمیر پہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔ امن کا محض راگ الاپنے والوں کواس بات پہ خصوصی توجہ اور دھیان دینا ہو گا۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریکِ آزادی کشمیر کا یہ تیسرا باب شروع ہوا ہے ۔ بلا شبہ کشمیری مسلمان اللہ کے سپاہی اور حق کے راہی ہیں‘ نہ صرف پاکستان بلکہ پورا عالمِ اسلام شہدائے کشمیر کو سلام پیش کرتا ہے اور ہم سب کشمیر اور کشمیریوں کے سنگ سنگ ہیں اور انشاء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔آخر میں اپنی ہی ایک نظم کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں:۔

کشمیر ظلم کی آگ میں چل رہا ہے

انڈیا چال دیکھو کیسی چل رہا ہے

گھر گھر سے جنازے نکل رہے ہیں

نوجوانوں کے خون اُبل رہے ہیں

عزتین لٹ رہی ہیں بچے مر رہے ہیں

دعوے دار امن کے کیا کر رہے ہیں


ای پیپر