بہت بڑا حج سکینڈل
15 فروری 2019 2019-02-15

میرے پاس بنچ مارک نان رجسٹرڈحج آپریٹرز، آل پاکستان حج فورم ایسوسی ایشن، کا تیار کردہ تین لاکھ 75 ہزار850 روپے کا حج پیکج ہے جس میں مکہ مکرمہ میں تیس سے زائد دن کے لئے عزیزیہ کے اندر ہی مستقل رہائش دی گئی ہے ، سرکاری پیکج کی رہائش بھی عزیزیہ میں ہی ہے مگر سرکار کاپیکج چار لاکھ 36ہزار یعنی پرائیویٹ سے 60ہزار روپے مہنگا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ پرائیویٹ حج آرگنائزر اس میں 25ہزار روپے کا منافع بھی کمائے گا جبکہ حکومت سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ حاجیوں سے کاروبار کرے اور منافع کمائے تو فرق 85ہزار روپوں ہو گیا۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ سرکاری حج پیکج لاہور سے چار لاکھ 36ہزار روپوں کا ہے مگر اس میں آپ کو 19ہزار 451 روپے قربانی کے شامل کرنے کے بعد ذاتی اخراجات کے لئے دو ہزار تک ریال بھی ہونے چاہئیں ، مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ سرکاری پیکج لے رہے ہیں تو ہر حاجی کے پاس کم از کم پانچ لاکھ روپے ہونے چاہئیں۔

میں نے پو چھا کہ سرکاری حج گذشتہ برس کے دو لاکھ 80ہزار روپوں سے اچانک چھلانگ لگا کے چار لاکھ 36ہزار روپوں پر کیسے پہنچ گیا تو تفصیل دی گئی کہ سعودی حکومت کی طرف سے حج پر عائد ٹیکس کو پاکستانی 35ہزار سے بڑھا کے 70ہزار روپے کر دیا گیا ہے، ریال کی قیمت میں اضافے کے بعد مجموعی طور پر حج کے پیکج میں 40ہزار روپوں کا ضافہ ہوا، ائیرلائن کی ٹکٹ گذشتہ برس کے مقابلے میں 15ہزار روپے مہنگی ہو گئی اور سابق حکومت کی طرف سے حج پر دی گئی 45ہزار روپوں کی سب سڈی بھی واپس لے لی گئی اور یوں بنیادی اخراجات میں ہی ایک لاکھ 35ہزار روپوں کا اضافہ ہو گیا۔ اس برس پاکستان کو ایک لاکھ 84 ہزار210 حاجیوں کا کوٹا دیا گیا ہے جس میں سرکاری سکیم سے 60فیصد یعنی ایک لاکھ سات ہزار جبکہ رجسٹرڈکمپنیوں کے ذریعے 40فیصد یعنی71 ہزار 684پاکستانی جائیں گے اور یہاں پانچ ہزار کا کوٹا نان رجسٹرد ٹور آپریٹرز کو دیا جائے گا اور ایک عمومی خیال ہے کہ ہر نان رجسٹرڈٹور آپریٹر کو پچاس سے ایک سو کا کوٹہ مل سکتا ہے۔ اب یہاں سے ہماری اصل بحث شروع ہوتی ہے کہ اگر پچاس سے سو حاجیوں کا کوٹا رکھنے والے 25ہزار کی بچت کرتے ہوئے پونے چار لاکھ روپوں میں حج کروا سکتے ہیں تو سرکار کے پاس ایک لاکھ سے زائد حاجیوں کا کوٹا ہے، وہ کہیں بہتر بارگین کر سکتے تھے۔ ایک سے زائد ٹور آپریٹروں اور علمائے کرام نے تصدیق کی کہ رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر معاملات پر بھاو تاو بہت زیادہ ہوتا ہے لہذا اگر حکومت کے نمائندے وہاں تھوڑی سی محنت کرتے جیسی سابق دور میں کی جاتی رہی تو سرکاری زعما قیمتیں کم کرواسکتے تھے اور پرائیویٹ حج والوں کے ساڑھے تین لاکھ کے اخراجات کے مقابلے میں سرکار بہت آسانی کے ساتھ مزید پچیس سے پچاس ہزار تک کی رعائت حاصل کر سکتی تھی۔ اگر حکومت واقعی کام کرتی اور اب بھی سعودی ولی عہد کی آمد کے موقعے پر درخواست کر کے ٹیکس کو پرانے نرخوں پر لایا جا سکتا ہے یعنی مزید 35ہزار روپوں کی بچت، مجھے پورا یقین ہے کہ اگر حکمران واقعی حج سستا کرنا چاہتے تو سب سڈی کے بغیر ہی سابق اخراجات کے قریب قریب رہ سکتے تھے مگر معاملہ کچھ اور ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے حج پر سب سڈی پر شرعی اعتراضات کے رفع کرنے کے باوجودکابینہ کہتی ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت پر ہی فرض ہے اور جس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ حج نہ کرے ۔ اول معاملہ سب سڈی کا ہے ہی نہیںکہ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے حج اخراجات میں اضافہ کر رہی ہے اور دوم علامہ راغب نعیمی کے مطابق جب حکومت پی آئی اے سمیت مختلف شعبوں میں اڑھائی سو ارب روپوں کی سب سڈی دے رہی ہے تو اسے حاجیوں کو چار سے آٹھ ارب کے درمیان سب سڈی دینے میں کیا حرج ہے۔ یہاں ایک دوسری خبر بھی ذہن میں رہے کہ موجودہ حکمرانوں نے بڑے بڑے مگرمچھوں کو دو کھرب پندرہ ارب روپے کی گیس سیس پر ایمنسٹی دے دی ہے، جی ہاں، تحریک انصاف کی حکومت کی پہلی ایمنسٹی سکیم کے مطابق کھاد انڈسٹری، کے الیکٹرک، آئی پی پیز،سی این جی سیکٹر اور جنرل انڈسٹری کو رعائت دی ہے کہ اگر وہ اپنے ذمے چار کھرب سولہ ارب روپوں میں سے صرف آدھے ادا کر دیں تو باقی آدھے انہیں معاف کر دئیے جائیں گے۔ یہ تحریک انصاف کی طرف سے دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے کی واضح نفی ہے جس میں بگ گنز کو کھربوں روپے معاف کئے جا رہے ہیں مگر سرکاری سکیم میں حج کرنے والوں کو اس کا دو سے چار فیصد دینے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔

حج سکینڈل یہ نہیں کہ مگرمچھوں کو کھربوں روپے معاف کئے جا رہے ہیں کہ یہ معاملہ بالکل الگ ہے جس میں وزیر خزانہ کی طرف سے اس کمپنی کوسولہ ارب روپے معاف کرنے کا بھی ایشو ہے جس میں وہ خود ملازمت کرتے رہے ۔ یہاں معاملہ حج کے موقعے پر سعودی عرب میں رہائش گاہوں، ٹرانسپورٹ اور خوراک سمیت دیگر اشیاءکے انتہائی مہنگے داموں لینے کا ہے جس میں میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پرمشہور و معروف مانیکا خاندان کو ٹھیکا دیا گیا ہے اور اگر یہ ٹھیکا ان کے پاس نہ بھی ہو تو معاملہ اربوں روپوں کے زائد اخراجات کا ہے۔ ظاہر ہو رہا ہے کہ پٹھان کو پہلی مانگی ہوئی قیمت ہی ادا کر دی گئی ہے جس کے پیچھے یقینی طور پر کسی کا مفاد ہو گا۔ پرائیویٹ حج کے ساڑھے تین لاکھ کے اخراجات کے سامنے سرکار کے چار لاکھ چھتیس ہزار روپوں کی وصولی کو رکھتے ہوئے فرق نو ارب سے زائد روپوں کا آ رہا ہے اور اس میں وہ سود شامل نہیں ہے جو حاجیوں کی رقوم کو تین سے چار ماہ تک کمرشل بینکوں میں رکھنے پر کمایا جا ئے گا، یہ اربوں روپے کسی نہ کسی کی جیب میں ضرور جائیں گے۔

یہاں دو سوال کئے جا رہے ہیں کہ مذکورہ پرائیویٹ پیکج مستقل طور پر العزیزیہ کا ہے جبکہ حاجی قریبی عمارتیں خالی ہونے پر آگے شفٹ ہوجاتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ سرکاری رہائش گاہیں ، پرائیویٹ والوں سے بھی آگے ہیں مگر وہاں شٹل سروس ہے جو پندرہ سے بیس منٹ میں پور ے عزیزیہ سے بیت اللہ پہنچا دیتی ہے لہذا یہ کوئی ایشو نہیں ۔دوسرا سوال ہے پرائیویٹ حج پیکج تو پندرہ لاکھ روپوں تک بھی ہوتا ہے تو بات یہاں ارب پتیوں کی نہیںعام پاکستانیوں کی ہو رہی ہے جو یہ روپیہ روپیہ جوڑ کے استطاعت پیدا کرتے ہیں۔ کیا ستم ہے کہ مدینہ کی ریاست کے دعوے داروں نے غریبوں کے حج کو دوگنا مہنگا کر دیا ہے۔عین ممکن ہے کہ کسی آزاد اور غیرجانبدار عوامی دور میں کرپشن کا یہ سکینڈل اس سے بھی بڑھ کے سامنے آئے جسے پیپلزپارٹی کے دور میں حاجیوں کی جیب کاٹنے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، گمان غالب ہے کہ یہاں صرف جیب ہی نہیں کاٹی گئی بلکہ ان کے کپڑے تک اتروا لئے گئے ہیں۔


ای پیپر