Due to non-construction of Kalabagh Dam, the country was plunged into darkness
15 دسمبر 2020 (17:44) 2020-12-15

سیدہ نورالصباح ہاشمی

موسم سرما میں چونکہ بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے اور اسی تناسب سے بجلی کی پیداوار بھی ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے کم ہوتی ہے لیکن آئندہ موسم گرما کے سیزن میں متوقع ’’جان لیوا‘‘ لوڈشیڈنگ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ابھی سے ہی ملکی سطح پر بحث ومباحثے کیے جارہے ہیں۔ کہیں اس حوالے سے سیمینارز کا انعقاد کیا جارہا ہے اور کہیں کانفرنسز منعقد کی جارہی ہیں اور ہر سطح پر ڈھکے چھپے اور شکایت کے انداز میں کالاباغ ڈیم کا ذکر بھی کیا جارہا ہے۔ اسی حوالے سے کالاباغ ڈیم کی اہمیت پر تحقیق نئے انداز اور نئے مسائل کے انداز میں کی گئی ہے۔

کالا باغ ڈیم کے اس کثیر المقاصد منصوبے پر تحقیقاتی کام محمد علی بوگرہ کی وزارتِ عظمیٰ میں 1953ء میں شروع کیا گیا اور اس تحقیقاتی کام پر اس وقت کے کرنسی ریٹ کے مطابق ایک ارب سے زائد کی رقم خرچ کی گئی۔ ڈیم کی تعمیر کا کام 1983ء میں باقاعدہ شروع کیا جانا تھا مگر بدقسمتی سے اسے سیاسی ایشو بنا کر نہایت ظالمانہ طریقے سے پس پشت ڈال دیا گیا، جسے بے حسی اور ملک وقوم کے ساتھ بدترین غداری کہا جا سکتا ہے۔ 1984ء میں فیڈریشن آف انجینئرنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیم کی اس تاخیر کے باعث ملک کو سالانہ 2ارب روپے کا نقصان ہوا، جو آج کے کرنسی ریٹ کے مطابق ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد کا سالانہ نقصان یہ ملک برداشت کر رہا ہے۔ دُنیا کے تمام بڑے ممالک جن میں چین، جاپان، کینیڈا، فرانس شامل ہیں، اس منصوبے کو نہایت مفید اور کارآمد قرار دے چکے ہیں، مگر ہمارے سیاستدان اور حکمران اس منصوبے کو ذاتی مفادات کے تحت پاکستان کی تباہی قرار دینے میں پیش پیش ہیں۔ اندرون وبیرون ممالک کے انجینئرز نے اس پر بہت عرق ریزی سے کام کیا، اعتراضات لگانے اور اسے ملک کی تباہی قرار دینے والوں کی خوشنودی، تسلی اور انہیں راضی ومطمئن کرنے کے لیے اس کے نقشے میں تبدیلی بھی لائی گئی، مگر ’’مرغ کی وہی ایک ٹانگ‘‘ کے مترادف وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اس منصوبے کی تعمیر کے لیے لاتعداد محب وطن افراد نے جلسے کئے، جلوس نکالے، پروگرام ترتیب دیئے، مختلف ذرائع سے رائے عامہ لی گئی، ووٹنگ کرائی گئی، عدالتوں میں کیسز دائر کیے گئے مگر کسی سیاستدان وحکمران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور ’’میں نہ مانوں‘‘ کی مثل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔

کالاباغ کا معاملہ اب کافی گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف ہم ہیں کہ قومی ترقی کے حامل اس پراجیکٹ پر تقسیم ہوئے بیٹھے ہیںتو دوسری طرف بھارت اپنے بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور ہر طرح کے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈیم پر ڈیم بنائے جا رہا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے۔ بھارت کا گنگاکشن ڈیم جہاں پر ایک ایسے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے یہ دریا کو ایسی سرحد عبور کرنے سے روک سکے گا جو اس وقت دُنیا کا بہت بڑا فوجی بارڈر خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے عالمی عدالت میں اپنی شکایت درج کرا رکھی ہے کہیہ غیرقانونی ہے۔ جس پر عالمی عدالت نے بھارت کو فی الوقت اس پر کام کرنے سے روک دیا۔ یہودیوں ونصرانیوں کی عدالت بالآخر کوئی نہ کوئی جواز پیدا کر کے اس کی تعمیر کی اجازت دے ہی دے گی جیسا کہ بھارت نے اس کے خلاف اپنی اپیل بھی دائر کر رکھی ہے جس میں اس نے پاکستان کی اس اپیل کو بلاجواز قرار دیا ہے۔ بھارت ہو یا اسرائیل یا پھر امریکہ، یہ تینوں ایک ہی میدان کے کھلاڑی ہیں اور یہ تینوں قوتیں ایک شیطانی تکون کی صورت میں عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف اپنا ایک ہی نظریہ رکھتے ہیں۔ پانی کا معاملہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے بلکہ پوری دُنیا اس کی لپیٹ میں آتی جا رہی ہے۔

ماضی میں بھی اگر دیکھا جائے تو ایران، عراق، ترکی اور شام کے درمیان بھی دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے مسئلہ پر جنگیں ہو چکی ہیں۔ واشنگٹن میں ووڈ رولسن انٹرنیشنل سنٹر فار سکالرز کے سائوتھ ایشیا ایسوسی ایٹ مائیکل کوگل مین کے مطابق 2050ء تک ہم دُنیا کو جنگوں کی طرف مائل دیکھ رہے ہیں کیونکہ پانی کے معاملہ میں اس میں بہت پوٹینشل پایا جاتا ہے۔ کوگل کے مطابق ’’اس وقت کم وبیش دس افریقی ممالک دریائے نیل پر شراکت دار ہیں۔ جنوبی مشرقی ایشیا میں چین اور لائوس دریائے میانگ پر ڈیم بنا رہے ہیں۔ اسی طرح دریائے اُردن نے ان جنگوں کے باعث اردن، لبنان اور اسرائیل کو تقسیم کیا۔ حالیہ امریکی انٹیلی جنس سی آئی اے کے مطابق آئندہ عشرہ میں پانی پر جنگیں ہو سکتی ہیں، جن میں پاکستان اور بھارت سرفہرست ہیں‘‘۔ جنوبی ایشیا میں اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو دریائے سندھ، دریائے گنگا اور دریائے برہم پترا ہیں، اس کے ساتھ نئی دہلی، اسلام آباد اور بنگلہ دیش ملوث ہیں، جن کا ان دریائوں کے ساتھ براہ راست تعلق ہے جبکہ گنگاکشن پراجیکٹ نے ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کو اس بات کی فکر اور خدشہ ہے کہ بھارت دریائے جہلم اور دریائے چناب کے پانیوں کو اپنے قبضے میں لے رہا ہے۔ بھارت نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ہر وہ کام کرتا دکھائی دیتا ہے جو اس کے قومی مفاد میں ہے۔ اسے کسی عالمی قانون، آئین یا اخلاقیات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں مگر ہم یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔

چند ماہ قبل لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس صورتحال پر اپنی فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھوک، ننگ، قحط اور غربت سے بچنے کے لیے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے۔ اگر اس پر کوتاہی برتی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ صدر چیمبر عرفان قیصر شیخ نے اپنی حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں وہ ملک دُشمن ہیں اور وہ ملک وقوم کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں، کالاباغ ڈیم پر حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور اس غفلت کے باعث ملک کو ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کالاباغ ڈیم سے نوشہرہ شہر کو کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ یہ ڈیم سے 150فٹ بلند ہے۔ انہوں نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ کالاباغ ڈیم سے صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر کو فائدہ ہو گا۔ کے پی کے میں 8لاکھ ایکڑ زمین زیرکاشت آئے گی اور اس ڈیم کے ذریعے بجلی صرف ایک روپے یونٹ دستیاب ہو سکے گی۔

یہاں پر یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دورِحکومت میں 1982ء میں اس پر دوبارہ کام شروع ہوا۔ جنرل ضیاالحق کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں کے باعث اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP) نے فنڈز کی یقین دہانی کرائی چنانچہ فنڈز کی فراہمی کے بعد رپورٹس تیار کرنا شروع ہوئیں۔ چھ سال کی عرق ریزی اور ایک ارب دس کروڑ روپے کی لاگت سے جون 1988ء میں یہ رپورٹس تیار ہو گئیں اور ماہرین نے اس منصوبے کو نہایت مفید، قابل عمل اور پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔ قابل عمل ہونے کی رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ عرصہ چھ سال کی مدت میں 128ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونا تھا۔

ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ منصوبہ روبہ عمل آنے کے بعد سالانہ 23ارب 20کروڑ روپے کی آمدنی فراہم ہو سکے گی۔ اس منصوبہ کی تکمیل روبہ کار آنے کے بعد بجلی کے شعبہ میں تقریباً 25ارب روپے سالانہ زرّمبادلہ کی بچت ہونا تھی۔ جنرل ضیاالحق نے جون 1988ء میں جب یہ رپورٹس دیکھیں تو اس کارآمد منصوبے پر عملدرآمد کے احکامات جاری کیے کہ یہ منصوبہ باقاعدہ طور پر ماہ نومبر میں شروع کر دیا جائے، جس پر تیاریاں شروع ہوئیں مگر اسے بڑی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹھیک ڈیڑھ ماہ بعد وہ ایک فضائی حادثہ میں جاں بحق ہوگئے اور اس طرح یہ منصوبہ بھی ان کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔ یہاں پر یہ بات بھی نہایت قابل ذکر ہے کہ جب جنرل ضیاالحق نے کالاباغ ڈیم بنانے کا حتمی فیصلہ اور ان تمام مخالفین کے ساتھ سختی سے نپٹنے کا عہد کر لیا (راقم اس بات کا عینی شاہد ہے) تو وزیراعظم محمد خان جونیجو نے 14مارچ 1986ء کو اچانک کالاباغ ڈیم کی تعمیر روکنے کے احکامات جاری کر دیئے، جو پھر جنرل ضیاالحق اور محمد خان جونیجو کے درمیان اختلافات کی بنیاد بنے۔ محمد خان جونیجو نے جنرل ضیاالحق کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ سیاسی طور پر اس کی شدید مخالفت ہے۔ لہٰذا ڈیم کی ڈیزائننگ تبدیل کرنے کے لیے یہ قدم اُٹھانا پڑا۔ محمد خان جونیجو کے جاری کردہ ان احکامات کے ٹھیک بارہ دن بعد محترمہ بینظیر بھٹو (جو ان دنوں امریکہ میں مقیم تھیں) نے 26مارچ 1986ء کو وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’جونیجو حکومت جمہوریت کے استحکام کی طرف پہلا قدم ہے‘‘، حالانکہ محمد خان جونیجو محترمہ کے اس بیان سے ٹھیک ایک سال قبل 23مارچ 1985ء کو بطورِ وزیراعظم پاکستان حلف اُٹھا چکے تھے۔ اگر کوئی ایسا بیان دینا ہی تھا تو اس وقت دیتیں جب انہوں نے بطورِ وزیراعظم حلف اُٹھایا۔ ڈیم کے سلسلہ میں جنرل ضیاالحق نے میاں نواز شریف کو مکمل اعتماد میں لیا ہوا تھا اور میاں نواز شریف اس بارے میں اپنی بڑی جذباتی اور قومی رائے رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جنرل ضیا کی وفات کے بعد جب میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو 2ستمبر 1988ء کو انہوں نے ایک جم غفیر کے سامنے نہایت جذباتی انداز میں للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں جنرل ضیاالحق کا مشن ضرور پورا کروں گا‘‘ اور پھر جب وقت گزرتا گیا تو ان کا ایک یہ بیان بھی شہ سرخی کی صورت میں نظر سے گزرا کہ ’’ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ ہم نے ایک فوجی آمر کا ساتھ دیا‘‘۔

بہرکیف! ہم سب مصلحتوں کا شکار ہیں، جو کام ہم نہ کرنا چاہیں یا جو ہم سے نہ ہو سکے ہم اسے مصلحت کا نام دے کر اپنے بدترین دُشمن کے ساتھ بھی مصالحت کر لیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایسے بہت سے ماہرین جن سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے اکثریت کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ منصوبہ جنرل ضیاالحق کے دور میں باقاعدہ شروع کیا گیا، لہٰذا یہ وہ بغض وعناد ہے جس کے باعث اسے پس پشت ڈال دیا گیا۔ کچھ ماہرین جو اس پر کھل کر بات نہ کر سکے ان کا خیال یہی تھا کہ چونکہ ایک جرنیل یا آمر نے اس پر کام کیا، ہو سکتا ہے اس کے نہ بننے کی یہی ایک وجہ ہو۔

کالاباغ ڈیم پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا، لہٰذا اس سلسلہ میں گوجرانوالہ شہر کے نواح میں واقع نندی پور کی ہائیڈل تجربہ گاہ میں ایک بہت بڑا ماڈل ایک سال کی مسلسل محنت اور زرّکثیر کے خرچ سے تیار کیا گیا جس کے ذریعے کالاباغ ڈیم کی جھیل میں پانی بھرنے اور نوشہرہ شہر کو لاحق خطرات کا طبعی معائنہ کیا گیا۔ مسلسل تجربات سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ کالاباغ ڈیم کی جھیل نوشہرہ شہر کے لیے کسی بھی طرح سے خطرے کا باعث نہیں بن سکتی۔ اگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر صوبوں کو اعتراضات ہیں تو حکومت اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جا کر حل کیوں نہیں کرتی۔ یہ رٹ لائرز فائونڈیشن فار جسٹس کے پلیٹ فارم پر کی گئی تقریباً تمام وکلاء برادری اس قومی مفاد کے حامل کارآمد پراجیکٹ پر جناب اے کے ڈوگر کی سرپرستی میں متحد ومنظم ہے۔ مگر سیاستدانوں کی طرف سے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کی بجائے مشترکہ ذاتی مفادات کی کونسل میں طے پا گیا کہ کالاباغ ڈیم نہیں بنے گا چاہے اس کے لیے ہمیں اپنی جانوں کے نذرانے ہی کیوں نہ پیش کرنے پڑیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود عدالت کی طرف سے ابھی تک اس بارے کوئی تفصیلی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ چند ماہ قبل 26ستمبر کو سابق وزیراعلیٰ کے پی کے اور سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے کہا کہ ’’کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے خیبرپختونخوا میں ریفرنڈم کرایا جائے اور یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ کے پی کے کی عوام کالاباغ ڈیم بنانے کے خلاف ہیں۔ پاکستان میں 74فیصد پانی سیلاب کے دنوں میں جبکہ 26فیصد پانی عام دنوں میں آتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بینک کسی شخص کے اچھے دنوں کی کمائی کو محفوظ بنا لیتا ہے اور وہ بُرے دنوں میں کام آتی ہے اسی طرح ڈیم بینک کا کام دیتے ہیں اور سیلابی دنوں میں ذخیرہ کیا گیا پانی سوکھے موسم میں قومی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نصف صدی قبل ہی دُنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے منصوبہ بندی کر کے توانائی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ڈیم تعمیر کر لیے تھے لیکن ہماری یہ حالت ہے کہ ہم مشکلات کا شکار ہو کر بھی ابھی تک کشمکش میں مبتلا ہیں کہ ڈیم بنائے جائیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بات بڑے واضح طور پر کہی کہ جو لوگ یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا وہ سراسر جھوٹ بولتے ہیں اور حقیقت حال سے واقف نہیں۔ انہوں نے تو شاید ڈیم کبھی دیکھے بھی نہیں ہوں گے کہ ڈیم ہوتے کیا ہیں۔ قدرت بہترین فیصلہ کرتی ہے، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ کے پی کے میں سب سے بڑا اور بدترین سیلاب 1929ء میں آیا مگر نوشہرہ شہر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور کالاباغ ڈیم میں جمع پانی کی مقدار اس سیلاب سے لاکھوں کیوسک کم ہے۔ اوّل تو اس کے ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر خدانخواستہ ٹوٹتا بھی ہے تو اس کا پانی نوشہرہ شہر میں داخل بھی نہیں ہو پائے گا۔ کالاباغ ڈیم کا سب سے زیادہ فائدہ بھی کے پی کے کو ہو گا۔ کالاباغ ڈیم کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق 1992ء تک مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔

کالاباغ ڈیم کی بلندی 240فٹ (80میٹر) ہو گی۔ یہ بلندی اصل منصوبہ میں 275فٹ تھی مگر چند حلقوں کی طرف سے تشویش ظاہر کیے جانے پر نظرثانی کے بعد 15فٹ کم کر دی گئی۔ اگر یہ بلندی 275فٹ رہتی تو بھی اس سے سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ یہ ڈیم 11000فٹ (3ہزار 350میٹر) طویل ہو گا۔ اس کی تعمیر میں 18کروڑ مکعب فٹ (4کروڑ 50لاکھ مکعب میٹر) کی بھرائی کی جائے گی۔ اس کی جھیل 164مربع میل (425مربع کلومیٹر) پر محیط ہو گی، جس میں 61لاکھ ایکڑ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا۔ ڈیم کی جھیل میں پانی کی زیادہ سے زیادہ سطح 915فٹ (279میٹر) اور کم سے کم سطح آب 825فٹ (251میٹر) ہو گی۔ اس کے دو ’’سپل وے‘‘ ہوں گے۔ ایک سپل وے دروں پر مشتمل ہو گا اور بوقت ضرورت دونوں میں سے ہر ایک سپل وے 12لاکھ کیوسک پانی خارج کر سکے گا۔ ایک سپل وے زیرزمین سطح کا ہو گا جس کے باعث پانی کے ساتھ گار بھی خارج ہو جائے گی۔ (یہ خصوصیت منگلا اور تربیلا ڈیم میں نہیں، یہی وجہ ہے کہ گار بھر جانے کے باعث ان ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ نہایت کم ہو چکا ہے)۔

ملک کو اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جبکہ صرف گیارہ فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس اطلاع کے مطابق وفاقی وصوبائی محکمہ برقیات کے پاس 65ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی بنانے کی رپورٹس موجود ہیں مگر ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ تھرکول جیسے منصوبے پر عملدرآمد کر کے ملک میں بجلی کے شعبے میں خود کفالت حاصل اور اس سے 60ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ تمام وفاقی حکومتوں نے گزشتہ دس برسوں میں سرکاری فائلوں میں دبے متبادل توانائی کے 40ہزار میگاواٹ کے قابل عمل منصوبوں میں (آخر 2012ء تک) فقط دو منصوبوں پر کام کیا ہے جو صرف 310 میگاواٹ پر مشتمل ہیں جبکہ 8ہزار میگاواٹ تھا۔ دوسری طرف سینٹ کی قائمہ کمیٹی پانی وبجلی نے الزام عائد کیا کہ بجلی کا بحران واپڈا کے بس کی بات نہیں۔ حالیہ دنوں میں بجلی کا خسارہ 50سو میگاواٹ سے زیادہ رہا جس کو پورا کرنے کے لیے 18، 18 اور بعض گائوں اور چھوٹے شہروں میں 20، 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی گئی۔ یہ سب کچھ ہو جانے اور ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے کے باوجود حکمران ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ ایران، چین ہمیں سستی بجلی دینے پر آمادہ ہیں بلکہ ایران کا تو یہ کہنا ہے کہ ہم سے فائدہ حاصل کرلیں مگر امریکہ کے یہ پٹھو امریکی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار نہیں۔ چین کے ساتھ بجلی کے معاہدے ہوئے مگر سابق وفاقی وزیر بجلی وپانی خواجہ آصف کو اسلام آباد چھوڑنے کی اجازت نہ ملی، میاں برادران کے نزدیک ان سے زیادہ اہل یا پھر اسحاق ڈالر (ڈار) کے سوا حساب کتاب کا ماہر ان کی نگاہ میں کوئی نہیں۔

اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو جاتا تو آج بجلی فی یونٹ صرف 9پیسے میں دستیاب ہوتی اور پھر 20سال کا یہ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اگر یہ منصوبہ ستمبر 2013ء میں بھی مکمل ہو جاتا تو بھی سستی ترین بجلی ایک روپے 54پیسے فی یونٹ دستیاب ہوتی مگر کالاباغ ڈیم نہ ہونے کے باعث عوام پر بجلی کا بم نہیں بلکہ ایٹم بم گرا دیا گیا ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے کہ 16روپے تا 18روپے فی یونٹ بجلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ آئندہ جب عوام کو ہزاروں روپے بجلی کی مد میں بل ادا کرنا پڑے اور کھانے کو کچھ نہ ملا تو عوام یا تو اپنے میٹر کٹوانے پر مجبور ہو جائیں گے یا پھر حکومت کے سامنے ہاتھ پائوں جوڑ کر کھڑے ہو جائیں گے کہ ہمیں بجلی نہیں لوڈشیڈنگ ہی چاہیے۔ ہم 24گھنٹے کا نہیں وہی چار پانچ گھنٹوں کی بجلی کا بل ہی دے سکتے ہیں۔ ہمارے عوام بس یہی کر سکتے ہیں اس لیے کہ انقلاب تو قومیں لاتی ہیں اور ہم من الحیث القوم، قوم رہے ہی نہیں۔ کسی نے بہت خوبصورت بات کہی کہ ’’اُس وقت ہمارے پاس ملک نہیں تھا مگر قوم تھی، آج ہمارے پاس ملک تو ہے مگر قوم نہیں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران بلاروک ٹوک، بے خوف وخطر دل کھول کر قوم پر ظلمتوں کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں۔ نہ انہیں ملک کی فکر، نہ قوم کی۔ لوٹ مار کی، قوم کو کچلا دیا اور اپنا راستہ لیا۔ ہمارے حاکم ہمیں کالاباغ ڈیم تو نہ دے سکے مگر قدم قدم پر سبز باغ ضرور دکھا دیئے جن کی گھنی چھائوں میں پوری قوم نہایت بے فکری کے ساتھ سکھ اور چین کی نیند سو رہی ہے۔

جون 1988ء میں جب یہ رپورٹس تیار ہو گئیں اور اس پراجیکٹ کو حتمی شکل دے دی گئی تو منصوبے کو عرصہ چھ سال میں مکمل کرنے کے لیے 123 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP) نے فنڈز کی فراہمی کی یقینی دہانی کرا دی کہ پراجیکٹ کی تکمیل تک حصوں میں فنڈز کی فراہمی جاری رہے گی۔ 1988ء میں ڈالر کی قیمت 18.60روپے کے لگ بھگ تھی اور برطانوی پونڈ 23روپے کی قیمت خرید پر تھا جبکہ آج ڈالر اور برطانوی پونڈ کی قیمت کہاں پہنچ گئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 1988ء میں اگر 123ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل ہونا تھا تو آج اس منصوبے کے لیے کم وبیش 70 سے 80کھرب روپے درکار ہیں۔ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ اس منصوبے سے تقریباً 33ارب 20کروڑ روپے کی سالانہ آمدنی فراہم ہو سکے گی اور بجلی کے شعبہ میں 25ارب روپے سے زائد سالانہ زرّمبادلہ کی بچت ہو گی۔ تازہ ترین صورتحال کے تحت استعمال میں آنے والا زرعی پانی 62ماف (MAF) سالانہ سے بڑھ کر 250ماف ہو جائے گا اور بارشوں کی صورت میں 38ماف سے بڑھ کر 100ماف سے بھی زائد ہونے کے امکانات ہیں۔ فصلوں کے لیے بہترین پانی مہیا کرنے کی صورت میں زرعی پیداوار میں 8 سے 10گنا تک اضافہ ممکن بنایا جا سکے گا۔ کالاباغ ڈیم ہونے کی صورت میں پٹرول، ڈیزل، گیس اور کوئلہ وغیرہ پر انحصار کم ہو جائے گا اور ان پر اُٹھنے والے کھربوں روپے کے اضافی اخراجات کو بچایا جا سکے گا۔ حالیہ صورتحال اور ایک اندازے کے مطابق اس وقت 0.6ملین ٹن پٹرول، 0.6ملین ٹن ڈیزل، 1.9ملین ٹن کوئلہ روزانہ استعمال میں لایا جا رہا ہے جبکہ پانی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے سے ان پر اُٹھنے والے تمام اخراجات کی بچی ہو گی جنہیں پھر گھریلو، صنعتی اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لیے استعمال میں لایا جا سکے گا، جس سے ملک میں خوشحالی کی ایک لہر دوڑ سکتی ہے۔ پاکستانی ماہر انجینئر ملک محمد نذیر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ متذکرہ بجلی، کوئلہ اور تیل وغیرہ کی بجائے پانی سے حاصل کرنے سے روزانہ تقریباً 2.6ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ، 0.7ملین ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ فضا میں داخل ہو کر فضائی آلودگی کے اضافے کو روکے گی۔ متذکرہ پانی (100+250) 350ماف آبی بخارات میں تبدیل ہوتے ہوئے سالانہ تقریباً 1.25x18بی ٹی یو گرمی روزانہ کے حساب سے بالائی فضا میں منتقل ہو گی، جس سے کرۂ ارض کی فضا کا 1.25ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت سالانہ کم ہو گا۔ 86000میگاواٹ سے زائد بجلی حاصل ہو سکے گی۔ پاکستان اگر 110ماف پانی ذخیرہ کر کے زرعی استعمال میں لے آئے اور اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنالے تو اس کو موجودہ 62ماف کی جگہ 250ماف سالانہ (اوسطاً) پانی زرعی استعمال کے لیے حاصل ہو سکتا ہے۔ جس سے سارا سندھ بشمول تھرپارکر، بلوچستان کا تہائی سے زائد علاقہ جو میدانی ہے، بہاولپور بشمول چولستان، سارا جنوبی پنجاب، سارا بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سیراب ہو سکتا ہے۔ اس کی مقامی بارشیں تقریباً 37ماف سے بڑھ کر 100ماف تک، جو کافی حد تک سارے سال پر محیط ہوں، مل سکیں گی۔

اس گھمبیر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں 23نومبر 2013ء کو لاہور چیمبر آف کامرس میں لاہور چیمبر اور سندھ طاس واٹر کونسل کے اشتراک سے ایک سیمینار ’’Economic Growth Through Kala Bagh Dam‘‘ منعقد ہوا، جس کی صدارت چیمبر آف کامرس کے چیئرمین سہیل لاشاری نے کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ملک کے نامور قانون دان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ایڈووکیٹ جناب اے کے ڈوگر تھے۔ تقریب میں ملک کے معروف سول، الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ینگ لائرز فائونڈیشن فار جسٹس کے صدر سیّد فیروز شاہ گیلانی اور جنرل سیکریٹری رب نواز بلوچ کی قیادت میں بھاری تعداد میں وکلاء بھی شریک ہوئے۔ تقریب میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک، سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر سلمان شاہ، سندھ طاس معاہدہ فیڈریشن کے چیئرمین محمد سلمان خان کے علاوہ دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ان تمام اہم شخصیات نے کالا باغ ڈیم کی افادیت سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کالاباغ ڈیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا کارآمد اور سودمند منصوبہ ہے جو ملک کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ جناب سہیل لاشاری نے کہا کہ ڈیم بنانے کے لیے اگر ہمیں اپنے پاس سے بھی رقم ادا کرنا پڑی تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ محمد سلمان خان نے کہا کہ اگر ہمیں اس کے لیے فنڈز بھی اکٹھا کرنا پڑے تو ہم دُنیا بھر کی مسلم تاجر برادری سے رابطہ کریں گے اور اس بات کا عہد کرتے ہیں ڈیم کے معاملہ میں ہم بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اس موقع پر جناب اے کے ڈوگر کی سرپرستی میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ ہم حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیتے ہیں۔ اگر اس نے اس پر کوئی پیش رفت نہ کی تو ہم 1991ء میں سپریم کورٹ میں دائرکردہ رٹ اور اس آرڈر کی روشنی میں حکومت پر توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ اس لیے کہ ہم پاکستان کی بقاء وسلامتی کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چند ایک سیاستدانوں کی ہٹ دھرمی اور مفادپرستی کے باعث پورا ملک اور اس عوام کو ایتھوپیا جیسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونے دیں گے، لہٰذا یہ وہ حالات ہیں جنہیں سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ایک باشعور قوم ہونے کا ثبوت فراہم کرنا ہے۔

٭…٭…٭


ای پیپر