ڈھاکہ میں ڈوبتے چہرے
15 دسمبر 2019 2019-12-15

وہ اس طالب علم کا پہلا سفر لاہور تھا ۔بوائے اسکائوٹس کا وفد ایمپریس روڈ پر واقع ڈان باسکو ہائی اسکول کی عمارت میں ٹھہراتھا …باغ جناح میں ’’ چاند میری زمیں پھول میرا وطن‘‘ کا ٹیبلو پیش کرنے کے بعد نگران نے لاہور دیکھنے کی آزادی دی تو وہ اپنے ندیم کے ساتھ بس اسٹاپ پر پہنچا ۔یہاں ’’ساندے ساندے ‘‘کی آوازوں نے ان کا استقبال کیا۔ کسی نے وین کنڈکٹر کی آوازسے قافیہ ملایا ’’ساندے ساندے… مفت جاندے‘‘ دونو دوست وین میں سوارہوئے اور مفت تو نہیں چند آنوں کا کرایہ دے کر انارکلی جاپہنچے… سن رکھاتھا کہ انارکلی میں کتابوں کا بازار لگتاہے۔ وین نے مال روڈ پرجہاں اتارا اس سے چند قدم کے فاصلے پر سڑک کا دامن کتابوں سے بھراپڑاتھا …ارے یہ کیا سیدحبیب کے ’’سفرنامہ یورپ‘‘ کا پہلا نایاب ایڈیشن ،فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ،ایوب خان کی خودنوشت ’’جس رزق سے آتی ہو پروازمیں کوتاہی‘‘ ہفت روزہ چٹان کا خاص نمبر اور بہت سی ایسی کتابیں اب تک جن کاصرف ذکرپڑھا تھا یہاں مل گئیں …ان میں سے بعض تو ایسی تھیں کہ اسکول کا یہ طالب علم ایک مدت سے جن کی تلاش میں تھا ۔یہاں سے جو کتابیں خریدیں ان میں ایک چھوٹی سی کتاب ’’ چہرے ‘‘بھی تھی ۔طالب علم اس نام کی ایک اور کتاب سے واقف تھاجس میں کچھ سیاسی ،ادبی اور صحافتی شخصیات کے تعارفی خاکے تھے لیکن اس کے مصنف کانام وہ نہیں تھا جو انارکلی بازار کے اس کہنہ فروش سے ملنے والی اس کتاب پر درج تھا ۔وہ کتاب شورش کا شمیری کے تحریرکردہ شخصی خاکوں کامجموعہ تھا لیکن انارکلی بازار سے ملنے والے ’’ چہرے‘‘ وہ تھے جو مصنف نے اس وقت دیکھے جب مشرقی پاکستان آخری ہچکیاں لے رہاتھا ۔مصنف، مشرقی پاکستان میں تعینات مغربی پاکستانی افسروں کے ساتھ پہلے گورنرہائوس اور پھر ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل میں پناہ گزین تھا۔جہاں سے ۱۹؍دسمبر ۱۹۷۱ء کی صبح انھیں ڈھاکہ چھائونی لے جاکر باقاعدہ جنگی قیدی بنالیاگیا ۔

یہ کتاب انٹرکانٹی نینٹل میں گزارے ہوئے انھی پانچ دنوں کی رودادہے ۔جوبہ قول مصنف ،مورخ کی تاریخ نہیں ،اخبارنویس کی سٹوری نہیں،سیاستدان کا تجزیہ نہیں بلکہ ایک ادیب کی آنکھ سے لوگوں کے دلوں میں جھانکنے کی ایک کوشش ہے ۔اس کے لیے واقعات ثانوی اور انسان بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔مغربی پاکستان کے اس حساس افسرکانام مسعود مفتی ہے۔ وہ ایک بیوروکریٹ ہے لیکن ایسا بیوروکریٹ جس کے سینے میں دل زندہ ہے جو انسانوں ہی کو نہیں عمارتوں اور مظاہرکو بھی جیتے جاگتے انکھوے کی طرح محسوس کر سکتا ہے ۔ وہ ہوٹل کی کھڑکی سے مسجدوں کے شہر پر نظر ڈالتا ہے تواسے رمناپارک کلوروفارم سونگھے آپریشن ٹیبل پر بے حس و حرکت پڑادکھائی دیتاہے۔ ڈھاکہ امپروو منٹ ٹرسٹ کی بلڈنگ کا گھڑی بردارمینار مریض کی سکتہ زدہ ماں کی طرح ویران آنکھوں سے گھڑیاں گن رہا ہوتاہے، یونی ورسٹی کی کئی منزلہ عمارت اپنی بلند وبالا ذات میںگم اور گورنمنٹ کوارٹرزکی پانی کی ٹنکی تقدیرکی آنکھ بن کرجھانکتی دکھائی دیتی ہے، ریڈیو پاکستان گورستان کی طرح خاموش اور شاہ باغ ہوٹل کی عمارت ماتھے پر ریڈ کراس چپکائے دعامیں ڈوبی ہوئی راہبہ کی طرح پرسکون دکھائی دیتی ہے

مصنف نے ہوٹل پہنچنے پر چہروں کا مطالعہ کیااور انھیں اپنی یادداشت میں لکھتارہا جیسے جیسے چہروںکے تاثرات، مشاہدے میں آتے وہ انھیں اس مضمون میں محفوظ کرتارہتا پاکستانی فوج کے ہتھیارڈالنے کے ساتھ ہی یہ مضمون مکمل ہوگیا اورحالات کی روشنی میں مصنف نے اسے ایک پاکستانی صحافی کے حوالے کردیا خیال تھا کہ وہ رہاہوکر مغربی پاکستان چلے جائیں گے لیکن ان صاحب نے یہ تحریر گم کردی جس پر مصنف نے ایک ٹوٹے ہوئے بنگلے کے انبارسے کچھ سادہ کاغذ لے کر سارامضمون دوبارہ لکھا ۔یہ تحریر۲۵؍دسمبر کو شروع کرکے تین جنوری ۱۹۷۲ء کو مکمل ہوگئی۔ پہلے مسودے کا گم ہوجانا اس اعتبار سے بہت اچھا ثابت ہواکہ دوبارہ لکھاگیا مضمون ،پہلے مسودے کے مقابلے میں دس گنا طویل ہے ۔

ان چہروں میں چار طرح کے بے نام چہرے ہیں :ان غیرملکیوں کے چہرے جو جو نامہ نگاروں اخبار نویسوں اور تاجروں کا نقاب اوڑھے ہوئے تھے۔ ان مغربی پاکستانیوں کے چہرے جن میں سرکاری ملازم پی آئی اے کا سٹاف ،اور پرائیویٹ فرموں کے ملازمین شامل تھے ۔مشرقی پاکستانیوں کے چہرے جنھوںنے پاکستان کے لیے اپناتن من دھن دائو پر لگادیاتھا جو پاکستان کے آئیڈیل پر یقین رکھتے تھے اور اب بھی ایک ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے اپناسب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آگئے تھے ۔ان بہاریوں کے چہرے جو تقسیم ہندکے وقت بہار، آسام، یوپی ،سی پی سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آگئے تھے لیکن انھیں اس معاشرے نے قبول نہیں کیا اور وہ یہاں دوسرے درجے کے شہر ی بن کررہنے پر مجبور رہے …یہ چارو چہرے مصنف کے اردگرد موجود تھے اوروہ ان سب کی داخلی کیفیات کا مشاہدہ کررہاتھا۔ ’’ چہرے ‘‘انھی داخلی مشاہدات کی رودادہے۔ ایک ایسی رودادجو تجزیے اور تفکرکا دعوی نہیں کرتی لیکن اس کے اوراق تجزیے اور تفکرسے خالی نہیں۔مصنف نے ایک بنگالی کی زبان سے ہمیں جس خیال سے آشناکیاہے وہ کیسے گہرے تجزیے سے بھرپور ہے دیکھیے بنگالی کہتاہے : ہم نے اپنے ملک کو آئیڈیولوجیکل کہا اور سیکولر اندازمیں چلایا ہندوستان نے اپنے ملک کو سیکولرکہااور آئیڈیولوجیکل اندازمیں چلایا۔ (ص۲۷)اسی طرح جب بھٹو صاحب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں یہ کہہ کر پولینڈ کی قرار داد پھاڑ دی اور اجلاس سے واک آئوٹ کر گئے کہ میرا ملک ختم ہو رہا ہے اور آپ یہاں بیٹھے باتیں بنارہے ہیں(ص۵۷) تو مصنف اس واک آئوٹ کو تاریخی پس منظر میں دیکھتے ہوئے کہتاہے کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے شاہ ہیل سلاسی نے اپنے دونوہاتھ اٹھاکر لیگ آف نیشنزکے سامنے یہی الفاظ کہے تھے مگرکیااثرہواتھا۔ اٹلی، من مانی کرتا رہا تھا۔ جوقومیں اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی کوشش نہیں کرتیں ان کے لیے نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں … (ص۵۸)ابتلاکی اس گھڑی میں اہل وطن کسی بحری بیڑے کی آمدکے منتظررہے تھے ماضی کے گراں خوابوں کی جانب سے بھی امدادکی توقع باندھی گئی تھی۔ اس سادہ لوحی پرمصنف کا یہ جملہ خاصابلیغ ہے کہ ’’جس سر نے صرف کندھے پر ٹکنا سیکھاہو وہ سربلندی بھول جاتاہے‘‘( ص ۲۶)یہ پڑھ کر طالب علم کو جنرل امیر عبداللہ خان نیازی سے ہونے والی اپنی ملاقات یادآتی ہے۔ جب اس ’بوائے اسکائوٹ‘ نے سقوط ڈھاکہ کے اس اہم ترین کردارسے سقوط کاسبب پوچھاتو جہاندیدہ جرنیل نے یہ نہیں کہا کہ مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے تین انفنٹری ڈویژن ناکافی تھی ،نہ ہی یہ کہا کہ راول پنڈی والوں نے آٹھ پلٹنیں بھیجنے کا وعدہ کیاتھا مگر مجھے صرف پانچ پلٹنیں بھیجیں،نہ ہی یہ کہا کہ ہتھیارڈالنے کے سوا اگرکوئی دوسراآپشن تھا تو فقط یہ کہ ڈھاکہ شہرکی اینٹ سے اینٹ بج جاتی، لاشوں کے انبارلگ جاتے اور نالیاں لہو سے بھرجاتیں بلکہ سردوگرم چشیدہ جرنیل نے طالب علم کے ہاتھ میں تھامی’’ سسی پنوں ‘‘کی کتاب اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس پر اپنے قلم سے لکھا …’’جواوروں کے چراغوں سے تیل لیتے ہیں ہمیشہ اندھیرے میں رہتے ہیں‘‘امیرعبداللہ خان نیازی …’’ چہرے ‘‘کا مصنف جب یہ کہتاہے کہ ’’جب خوداحتسابی نہ ہوتو خدامحتسب باہرسے بھیجاکرتاہے ‘‘( ص۳۸) تو طالب علم کو اپنی’ پارلیمنٹ ‘سے خطاب کرتے ہوئے ابلیس کی پکار یاد آتی ہے جس میں وہ بڑی تشویش سے کہتاہے کہ ؎

ہر نفس ڈرتاہوں اس امت کی بیداری سے میں

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات

یہی بات فارسی میں برنگ دگریوں بیان کی ہے کہ فقرقرآن احتسابِ ہست و بود…قرآن کا فقریہ ہے کہ اس دنیاکا احتساب کیاجائے ۔فقر، چنگ و رباب، مستی و رقص وسرود نہیں ہے۔المیہ مشرقی پاکستان ،سوچنے والے ذہنوں پر دستک دیتے ہوئے کہتاہے کہ وہ قوم جس کے دین کی حقیقت فرد کے ہر لمحے کا احتساب تھااور جس کاکام فردکے دل میں ذوق نمو پیداکرناتھاکیاسے کیاہوگئی۔

دردلش ذوقِ نمو از ملت است

احتسابِ کارِاواز ملت است

اقبال نے اپنی زندگی میں شائع ہونے والی آخری کتاب پس چہ بایدکردمیں مردانِ حال سے سیکھاہوا یہ نکتہ بیان کیاتھا کہ امتوں کے لیے لا جلال کی حیثیت رکھتاہے اورا لّاجمال کی اور یہ لاوالّا ہی فتح ِبابِ کائنات ہیں اور یہی احتسابِ ِکائنات ہیں لیکن احتساب فردکا ہو یا قوم کا، اس کی کچھ شرائط اور اس کے کچھ قواعدہیں ۔ فردکے باطن کی یکسو ئی جن میں سے ایک ہے، جسے عصرحاضر نے ہم سے چھین لیاہے ۔اقبال اس احتساب کے لیے تنہائی میں بیٹھ کر خود پر غورکرنے کو ضروری قراردیتے ہیںلیکن رنگ و بومیں الجھی ہوئی نظروں کے لیے ایسا کیونکر ممکن ہوسکتاہے کہ وہ خود سے ملاقات کریں اورتنہائی کے لمحوں میں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں ؎

احتسابِ خویش کن از خود مرو

یک دودم از غیر خود بیگانہ شو

جواس منزل کو سرکرلے وہی احتساب کائنات کا اہل ہوسکتاہے ۔احتساب کائنات کے منصب پر فائز قوم جب اپنا ہی احتساب نہ کرسکے ،اس کے افراد کی شخصیتیں جب مضائف شخصیت ( (MultiplePersonality Disorder کا شکار ہوکر رہ جائیں ، اس کے نام لیواخوداحتسابی کو فراموش کردیں تو پھر واقعی خدا محتسب باہرسے بھیج دیتاہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے المیے سے دوچار ہونے والی نسل کو تو کم از کم اس حقیقت کو سمجھ لیناچاہیے ۔

اسکول کا وہ بوائے اسکائوٹ جسے یہ’’ چہرے ‘‘انارکلی بازارکی فٹ پاتھ سے ملے تھے’’ چہرے‘‘ کے مصنف کے ساتھ ہولیتاہے ۔اس کا دل مصنف کے ساتھ دھڑکنے لگتاہے، اس کے جذبات ،مصنف سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ،اس کی آنکھیں ہر غم انگیز منظر پر اشک بارہونے لگتی ہیں اور اس کتاب کا کونسامنظر غم انگیز نہیں …اس بات پر چار دہائیاں بیتنے کو ہیں لیکن مشرقی پاکستان کے ذکرپر اس کا دل اب بھی اسی طرح ڈوبنے لگتاہے جیسے اس وقت ڈوباتھا۔وہ اس کتاب کے مصنف کا بیان پڑھتاہے اور تصوراتی سماعت سے تیرہ اور چودہ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات ریڈیو پاکستان لاہورسے نشر ہونے والی سورئہ فتح کی تلاوت اور ظفرعلی خان کاترانہ سنتاہے …

وہ زخم چن لیا ہے جنھیں پشت غیر نے

حصے میں تیرے آئیں تو چہرے پہ کھائے جا

مشرقی اور مغربی پاکستان کی فضائوں میں نعرئہ تکبیراور پاکستان کا مطلب کیاکے نعرے گونجتے سنائی دیتے ہیں لیکن سولہ دسمبر ۱۹۷۱ء کو یہ نعرے سنائی نہیں دیتے ۔ ڈھاکہ ریڈیو کی عمارت سے سبزہلالی پرچم کھینچ کراتاراجاتاہے، اس کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں، ان ٹکڑوں کوروندکر نذرآتش کیاجاتاہے اورکوئی آنکھ اشکبار نہیں ہوتی …یہ سب کچھ ڈھاکہ کی سرزمین پر ہوتاہے ۔سوسال تک آزادی کی جنگ لڑنے والے ڈھاکہ کی سرزمین پر …آخرایسا کیوں ہوا …وہ کم سن طالب علم جسے یہ کتاب انارکلی بازار کی سڑک سے مل گئی تھی چشم تصور سے لہورلانے والایہ منظر دیکھ کر مشرقی اور مغربی پاکستان کی تاریخ میں کھوجاتاہے ۔وہ آزادی کے لیے دونوں خطوں کی قربانیوںسے آگاہ ہوچکاہے ،پھر کیاہوا ،کیا زبان کا مسئلہ وجہ نزاع تھا؟ وسائل کی تقسیم میں ناانصافی ہوئی تھی؟اقتدار میں مناسب حصہ نہ ملنااس کا سبب تھا؟ مغربی پاکستانیوں کا احساس برتری قصور وار تھا؟کیا اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی تھی …؟ ’’چاندمیری زمیں پھول میرا وطن‘‘ گانے والا بوائے اسکائوٹ اس سوال کا جواب تلاش کرتاہے آخر ایسا کیوں ہوا،آخرکیوں…؟

کتاب کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے اسے اپنے سوال کا جواب مل جاتاہے جب ’’ چہرے ‘‘کا مصنف اس سے کہتاہے کہ ’’ہم نے ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا جس میں ایک دیانت دار آدمی کے لیے ذہنی اذیت اور ذاتی تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں …کچھ بھی نہیں …سقوط کی رات اس وعدہ خلافی کی سزاہے جو قوم نے ۱۹۴۷ء والی رات کا وعدہ پورا نہ کرکے کی ہے …‘‘ سقوط ڈھاکہ پر نصف صدی بیتنے کو ہے لیکن معاشرے کا رنگ وہی ہے اوراب وہی طالب علم اس ذہنی اذیت اور تکلیف کی سزا کاٹ رہاہے۔


ای پیپر