سفید اور کالے کوٹوں کی لڑائی
15 دسمبر 2019 2019-12-15

سفید اور کالے کوٹوں والے ’’ہاتھیوں‘‘ کی لڑائی میں 6 کمزور دل مریض جان سے گئے۔ ہزاروں باتیں، سیکڑوں تبصرے، تاریخی سانحہ جس کی مثال پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اچھی بری مثالیں اسی طرح تاریخ کے سینے پر نقش ہوتی ہیں۔ ایک سینئر تجزیہ کار کا تبصرہ کمزور دل کو اچھا لگا کہ لاہور کے امراض قلب کے اسپتال پر وکیلوں کے حملے سے قوم کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔ بقول شخصے، ’’وہاں تم کیا مسیحائی کرو گے، جہاں لہجوں میں نشتر بولتے ہیں‘‘ انسانی حقوق کے تحفظ کے نعرے لگانے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ حقوق ’’ہیومنز‘‘یعنی انسانوں کے لیے ہوتے ہیں۔ دل کے مریضوں کے چہروں سے گیس ماسک اتارنے والے سیاہ بختوں کے لیے نہیں ۔ کالے اور سفید کوٹ دونوں سانحہ کے ذمہ دار، سفید کوٹ تقدس اور کالے کوٹ عدل و انصاف اور نجات کی علامت، مگر اسپتال پر حملہ میں ساری علامتیں مٹ گئیں، رنگ کچا تھا ذرا سی دیر میں دھل گیا۔ ڈاکٹروں نے صرف پتھر کی بات کی تھی وکیلوں نے پتھرائو کردیا۔ کسی امن دشمن نے ایک ماہ پرانی ویڈیو وائرل کردی وکیلوں کے خون نے جوش مارا جوش میں ہوش کھو بیٹھے اب اسپتال میں گلدستے لیے کھڑے ہیں۔ کاش حملے سے پہلے ہوش و حواس برقرار رکھے جاتے۔ بزرگ بتاتے تھے کہ ہندو کا سر پھٹنا ہو تو ایک ہفتہ پہلے سے محتاط ہو کر دشمن کا سراغ لگاتا ہے اور بچ جاتا ہے مسلمان کا سر پھٹے تو خون دیکھ کر اس کا خون کھولتا ہے اور جرم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ جبکہ سردار جی کا سر پھٹ جائے تو ہفتہ بعد پٹی کھلنے پر غصہ میں لال پیلا ہوکر پوچھتا ہے۔ ’’اوئے کس موری دے نے سر پھاڑیا سی‘‘ (کس کم بخت نے میرا سر پھاڑا تھا) روئے سخن کسی کی طرف نہیں، اس دوران اچھے تبصرے سننے کو ملے۔ ’’معاشرہ‘‘ عدم برداشت منفی رویوں کا شکار، یا وہ گوئی، ذاتی حملے، گالم گلوچ،غیر محتاط گفتگو، گالم گلوچ کے دوران والدین کو بھی نہیںبخشا جاتا۔ مرحوم لکھنو کی تہذیب کی بڑی دھوم، بانکے گالی دیتے ہوئے بھی تہذیب و اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ ’’دیکھیے حضرت ہمیںمجبور مت کیجیے، اپنی زبان دانتوں تلے ہی رکھیے ورنہ آپ کی یا آپ کی والدۂ محترمہ کی شان میں گستاخی ہوجائے گی۔‘‘ دبستان لکھنو قصہ پارینہ، تہذیب نصابی کتابوں میں دفن لیکن آج بھی ضرب المثل اس کے برعکس اپنے ’’وریام‘‘ جوش میںآ تے ہی گالیوں کا طوفان برپا کردیتے ہیں، طرہ یہ کہ ہرگالی میں کوما فل اسٹاپ بھول جاتے ہیں، عام زندگی میں تہذیب اخلاق و مروت کا دخل نہیں طبعاً بازاری، حالانکہ ’’مجھ کو میرے مذہب سے یہ تہذیب ملی ہے، دشمن جو نہتا ہو تو تلوار گرا دو، یہاں تلوار نیام سے نکلی تو کچھ کر کے ہی واپس جاتی ہے۔ وکلا کا جم غفیر کتنے لوگ ہوں گے سارے کالے کوٹوں والے تھے اس لیے زیادہ لگے ڈھائی تین سو افراد 6 کلو میٹر کا سفر طے کرتے نعرے لگاتے ٹریفک روکتے بڑھکیں مارتے امراض قلب کے اسپتال جا پہنچے۔ کمال ہے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، شیر شاہ سوری کے دور میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ریاست مدینہ میں تو بالکل ہی نہیں ہوا ،دلدوز مناظر دیکھنے کو ملے، پڑھے لکھے ایل ایل بی کی ڈگریاں لینے والے معاشرے کے محترم طبقہ سے تعلق رکھنے والے قانون کے محافظوں نے اسپتال پر دھاوا بول دیا۔ گیٹ توڑتے آلات تباہ کرتے آپریشن تھیٹر تک پہنچ گئے۔ اور زندگی اور موت کے دوراہے پر کھڑے مریضوں کو موت کی وادی میں دھکیل کر نعرے لگاتے وکٹری کا نشان بناتے کامیاب و کامران واپس لوٹ گئے، جاں بحق ہونے والے مریض شکایات لے کر اپنے خالق و مالک حقیقی کے دربار میں پہنچ گئے۔ سب نے رب کائنات کے حضور عرض کی۔ حقیقی عدل و انصاف کرنے والے پروردگار تو نے تو انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بنایا تھا۔ سارے فرشتوں نے اسے سجدہ کیا لیکن’’ تھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہے‘‘۔ شیطان لعین اسپتال پر حملے کی ویڈیو دیکھ کر خوشی سے بھنگڑے ڈال رہا ہوگا کہ اس نے رب کائنات کے سامنے تخلیق آدم پر اعتراض کیا تھا بڑھک ماری تھی کہ تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑوں گا اور انہیں انسانوں کی بجائے اپنی طرح بنالوں گا۔ رب ذوالجلال نے اسے راندہ درگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تیری اتباع کرنے والوں کو جہنم کا ایندھن بنا دوں گا۔ شیطان نے بڑا کارنامہ انجام دیا کہ وہ بھی ’’صاحب اولاد‘‘ ہوگیا۔ سانحہ کے ذمہ دار کون تھے تعین کیا جا رہا ہے۔ صرف 48 پکڑے گئے مگر کیا پکڑے گئے۔ درخواستوں کے پلندے، ضمانتوں کے لیے بڑے وکیل پہنچ گئے۔ بار کونسلیں سر گرم، ہڑتالیں، کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہوگا، ججوں کی حلف برداری میں جانے والوں کے لائسنس معطل ایک لاکھ 10 ہزار لائسنس رجسٹرڈ، ملک گیر ہڑتال کی کال۔ عدالتوں میں سناٹا، محترم جج صاحبان کیا کریں گے؟ پتا نہیں کیا کریں گے مگر بصد ادب سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ مالی کرپشن پر کڑا احتساب گاڈ فادر، سیسیلین مافیا کے تمغے، اخلاقی کرپشن اور اخلاقی اقدار کے انحطاط پر احتساب کیوں نہیں؟ عدالتیں بند اسپتال بند، شہری کہاں جائیں، اہم سوال، جنہیں کندھوں پر سوار کر کے لائے تھے وہ ان دنوں حواس پر سوار ہیں ان کے پاس جائیں وہاں بے نیازی کا یہ عالم کہ صبح کا سانحہ، رد عمل شام تک نہ دیا جاسکا۔ دوپہر شیر شاہ سوری سے راز و نیاز میں گزر گئی۔ مرنے والوں سے تعزیت کی ضرورت نہیں جو مر گیا اس سے کیا پوچھیں کہ کس حال میں ہو، ورثا کے شور و غوغا سے پہلے دس دس لاکھ کے چار چھ چیک تھما دیے گئے چیخیں سینوں میں دب کر رہ گئیں البتہ اپنے وزیر کی پیٹھ ٹھونکی شاباش دی ،کمال ہے اتنا درد کہ میدان میں کود پڑے کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔ وزیر با تدبیر بیچ بچائو کے لیے آئے تھے وکلا نے دھر لیا۔’’ شیریں گفتگو‘‘ کرنیوالے وزیر سے’’شایان شان‘‘ سلوک روا رکھا گیا۔ ’’گجی مار‘‘ کسے کہتے ہیں؟ شاید اس کے بعد ہڈیاں بہت دنوں تک اپنی جگہ پر نہیں رہتیں اور ہائے وائے کی تکرار جاری رہتی ہے۔ اپنے شیر شاہ سوری کو دیر میں پتا چلا اس وقت تک حملہ آور مشن مکمل کر کے جا چکے تھے انہوں نے فورا نوٹس لیا اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی۔ وہ کیا رپورٹ دیںگے۔ جو جائے حادثہ پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کی بجائے دیر تک خاموش تماشائی بنے رہیں۔ وہ کیا نشاندہی کریں گے۔ ایک اور جے آئی ٹی یا پھر کوئی کمیشن بنے گا۔ تسلی رکھیے کچھ نہیں ہوگا۔ جنہیں گرفتار کرنا تھا کرلیا، سیاسی رنگ دینے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ ایکشن میں تاخیر، مٹی پائو پالیسی پر عملدرآمد، دوسرے ہی دن پھر کشمیر کا مسئلہ چھیڑ دیا۔ یقین کیجیے لوگ اپنے مرنے والوں کو بھول کر زندوں کو بچانے کی فکر میں لگ گئے۔ شیر شاہ سوری کے دور میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ جلائو بھی ہوا گھیرائو بھی ہوا۔ پتا نہیں شیخ صاحب کی انا کو تسکین ملی یا نہیں، کنٹینر پر کھڑے ہو کر جلائو گھیرائو کی تلقین فرمایا کرتے تھے، سننے والوں نے فرمودات پر حرف بحرف عمل کیا، چار پانچ سالوںسے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ایک نکاتی ایجنڈا مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دو، حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا۔

سلطانئی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جمہور کا وجود نہیں سلطانی نمایاں ہے۔ البتہ نقوش کہن مٹائے جا رہے ہیں۔ اس کا بھی تعین باقی ہے کہ اس واقعہ یا سانحہ کو دہشتگردی قرار دیا جائے یا نہیں، ذمہ داروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اپنے اپنوں ہی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ پارٹی سے نکالنے کے لیے شوکاز نوٹس بھی دیے تھے۔ انہوں نے نکلنے سے انکار کردیا ایک حقیقہ یا لطیفہ سنتے جائیے کسی پیر و مرشد نے 40 دن تک قبرستان میں چلہ کھینچا اور گیان حاصل کرلیا کہ کچھ پڑھ کر مردے پر پھونکتے تھے تو وہ کفن سمیت باہر آجاتا تھا۔ قبرستان ہی میں انہوں نے چند قبریں مسمار کر کے 2 سو گز کے ایک پلاٹ پر قبضہ کرلیا اور قبروں سے نکلے مردوں کے ذریعہ مکان کی تعمیر شروع کردی، مکان مکمل ہوا تو مردوں کی واپسی کے لیے وظیفہ بھول گئے۔ نتیجہ ظاہر تھا کہ کفن بردوش مردوں نے ’’پیر جی‘‘ کی تکا بوٹی کر کے مکان میں ہی دفن کردیا۔ دروغ برگردن راوی، دو ڈھائی سو مردے اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں سمجھ نہ آئی ہو تو عقل پر ماتم، مگر ایک سینئر کالم نگار کا تبصرہ قابل غور کہ جب تک انداز فکر و عمل تبدیل نہیں ہوگا۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی کہہ کر مخالفین کی چیخیں نکلوانے کی سوچ ترک نہیں کی جائے گی۔ ایسے سانحات کو وقوع پزیر ہونے سے روکنا مشکل ہوگا۔ ریاست مدینہ بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ہنسنا رونا سب حالات سکھاتے ہیں۔ لیکن حالات سے بہت کچھ سیکھنا ہوگا۔ کسی بھلے مانس نے نصیحت کے انداز میں کہا تھا۔ ’’آجائے گا تم کو بھی حکومت کا سلیقہ، سیکھو علی عثمان و ابو بکر و عمر سے‘‘ وقت تیزی سے گزر رہا ہے پتا نہیں سلیقہ کب آئے گا۔


ای پیپر