قانون کے رکھوالے ،دستورِپاکستان اور حیا کی ڈگری
15 دسمبر 2019 2019-12-15

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہو جو اس قدر جوش و خروش کے ساتھ اپنے قتل کا ساماں خود کر رہی ہو لیکن ہمیں اس کاوش پر فخر ہے ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کا قاعدہ نمبر 28 کہتا ہے کہ ’’طبی مقاصد کے لئے قائم میڈیکل یونٹس کا احترام اور حفاظت ہر حال میں ضروری ہے ۔ اس وقت تک جب تک وہ دشمن کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ ہوں ‘‘۔

اسی طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کا قاعدہ نمبر 35 اس معاملے کو مزید واضح کرتے ہوئے اصرار کرتا ہے کہ

’’بیمار اور زخمی شہریوں کو پناہ دینے کے لئے قائم زون ( یعنی ان کے علاج معالجے کے لئے قائم علاقے یا عمارت)پر حملہ یا حملے کی ہدایت دینا منع ہے ‘‘۔

یاد رہے یہ حقوق وضع کرنے والوں کے پیش نظر جنگی حالات تھے لیکن دنیا بھرنے دیکھاکہ یہ فخر مملکت خداداد پاکستان کو حاصل ہوا کہ ہم نے زمانہ امن میںہی یہ تمغہ اپنے سینے پر سجایا کہ دل کے مریض بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ شہریوں اور ان کے معالجوں پر ڈنڈوں سوٹوں اور اسلحے سے لیس ہو کر چڑھ دوڑے ۔ وجہ کیا تھی ؟ڈاکٹر عرفان کی تقریر؟ میری دانست میں تو یہ جواب درست نہیں ۔اصل جواب تو یہ ہے کہ کہانی 23نومبر کو ایک معزز وکیل کا قطار میں لگ کراپنی باری پر دوا لینے کی بجائے پروٹوکول کے ساتھ سب سے پہلے دوا طلب کرنے سے شروع ہوئی ۔ قصہ مختصر جو بھی ہوا معاملہ نبٹ گیا لیکن پھر ڈاکٹر عرفان نامی ایک موصوف کی تقریر کو بنیاد بنا کر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ہلہ بولا گیا۔

چھ چھ فٹ اچھل کروکلا کی ہجو کہتے شعر پڑھتے ہوئے چار فٹ کے ان موصوف کی کہانی ایک دوست صحافی نے بیان فرمائی ہے کہ بہاولپورسے تعلق رکھتے ہیں اور والد کی وفات کے بعد ایک وکیل نے ہی ان کی تعلیم کا خرچ اٹھا کر انہیں اس مقام تک پہنچایا ۔کچھ تو اس سرپرست کی ہی لاج رکھی ہوتی ۔

پولیس کی حالت تو پوچھئے ہی مت ، کوئی عام شہری ہو تو اس کی درگت بنتے دیر نہیں لگتی ۔ ایوان عدل میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے بعد قانون کے رکھوالے شیر جوان بائی پاس کرنے اور سٹنٹ ڈالنے کی للکار کے ساتھ ہائی کورٹ ، پنجاب اسمبلی ، ایوان وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس کے سامنے سے گزرتے ہوئے تقریباََ سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہسپتال تک پہنچے اور پولیس ان کے ہمراہ تھی لیکن مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ کوئی ایس پی ، ایس ایس پی ، سی پی او ، ڈی پی او نظر نہیں آیا۔ہسپتال تباہ ہوچکا،بے گناہ مریض مارے جا چکے تو ان کو ہوش آیا کہ آنسو گیس نام کی بھی کوئی چیز ان کے پاس موجود ہے ۔ تیسرے دن ایک پولیس افسر کا بیان ٹی وی سکرین پر دیکھا جو قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ واللہ !اب سمجھے ابھی تک جو ہوا قانون کے عین مطابق ہوا۔

اعتزاز احسن اور بیرسٹر بابر ستار جیسوں کی صدابصحرا ہوئی ۔ حامد خان اور لطیف کھوسہ تو بار الیکشن کے محتاج تھے لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم کے موجد ،جمہوریت کے علمبردار، ایوان بالا کے چیئرمین اور ریاست پاکستان کے سابق قائم مقام صدر عزت مآ ب رضاربانی صاحب فرماتے ہیں وکلا کے ہسپتال پر حملے کا جواز موجود تھا۔ صد حیف ، ہم اس دن کے لئے زندہ تھے ۔ بڑے دعوے ہورہے ہیں کہ ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنادیں گے لیکن لکھ لیجئے کچھ نہیں ہوگا۔ 14دسمبر کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے الفاظ نقل ہیں ’’ سینئر اور نوجوان وکیل گلدستے لے کر پی آئی سی جائیں اور ڈاکٹروں سے گلے مل کر معاملہ ختم کریں ‘‘۔ یہ ایک جملہ ہمارے سماج، نظام حکومت اور عدل کی بہترین ، مختصر مگر جامع تشریح ہے ۔ لیجئے بن گئے ذمہ داران نشان عبرت ۔

شکوہ ہمیں یہ ہے کہ دنیا ہمارے خلاف سازشیں کرتی ہے۔ کبھی ہم نے اس زاویے سے بھی سوچا ہے کہ دنیا کے پاس اتنا وقت ہی کیوں ہے کہ وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتی پھرے اور سازشیں کرے بھی تو کیوں ؟۔تعلیمی اداروں میں کس قسم کی نسل ہم تیار کررہے ہیں ۔ ابھی اس واقعے کا شور تھما نہیں کہ اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے طلبا تصادم اور اس میں ایک طالب علم طفیل الرحمن کے جاں بحق ہونے کی خبر موصول ہوئی ۔ اسلامی جمیعت طلبا اور سرائیکی سٹوڈنٹ کونسل کے کرتا دھرتا ایک دوسرے پر الزام دھر رہے ہیں ۔لیکن طفیل الرحمن کے والدین سے کوئی پوچھے کہ انہوں نے گھرسے کوسوں دوراپنی اولاد کو تعلیم کے حصول کے لئے بھیجا تھا یا طلباکی گروہی سیاست کے لئے ؟دارالحکومت میں قائم یہ جامعہ بھی اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ سعودی عرب سے درآمد کئے گئے ایک صاحب صدر جامعہ ہیں جن کو نہ اردو آتی ہے نہ انگلش اور پاکستانیوں کو عربی سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ یہ گتھی سلجھائے نہیں سلجھتی کہ ان کو کس کھاتے میں برسوں سے اس جامعہ کا کرتا دھرتا بنا چھوڑا ہے ؟۔ خود سعودی عرب نیوم جیسے شہر بسا رہا ہے ، سینما گھر کھول رہاہے ، خواتین پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جارہا ہے لیکن اس جامعہ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول کی مخلوط کلاسز بھی گناہ کے زمرے میں آتی ہیں کہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے ۔پھر ایک مخصوص طبقے نے قوم کو اخلاق اور حیا سکھانے کا خود ساختہ ٹھیکہ لے رکھا ہے جسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔


ای پیپر