15 دسمبر 2019 (07:41) 2019-12-15

میں نے لاہور بار کے صدر جناب عاصم چیمہ سے پوچھا کہ آپ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیوں آئے جب ڈاکٹروں کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں باقاعدہ معافی مانگی جا چکی تھی۔ ہم لوگ اس وقت جیل روڈ پر کھڑے تھے جہاں ہر طرف وکیل ہی وکیل تھے۔انہوں نے دو اہم نکا ت اٹھائے، پہلا نکتہ یہ تھا کہ ڈاکٹروں نے معافی مانگنے کا عمل پورانہیں کیا، ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ایوان عدل کے بار روم میں آئیں، وہاں پورے ہاو¿س کے سامنے معافی مانگیں،پھر ہاو¿س فیصلہ کرے گا کہ انہیں معافی دینی ہے یا نہیں۔دوسرا نکتہ تھا کہ انہیں ڈاکٹر عرفان چاہئے جس کی ڈاکٹروں، پیرا میڈکس اور نرسوں سے خطاب کی ایک انتہائی تضحیک آمیز ویڈیو وائرل ہوئی ہے، ہم دیکھنا چاہتے ہیںکہ اس کو کتنی شعرو شاعری آتی ہے۔ یہ وہ ماحول تھا جب وکلاءپی آئی سی کے سامنے نعرے لگا رہے تھے کہ ڈاکٹرو باہر نکلو ہم تمہاری موت ہیں، ویڈیوز بنا رہے تھے،اس کے بعدجو کچھ ہوا وہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھ دیا گیا ہے۔

تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب تین وکیلوں نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے اپنی مریض خاتون کے لئے دوا لینی چاہی تو پی آئی سی سٹاف کے مطابق غلط ونڈو پر ہونے کی وجہ سے فارماسسٹ ظفر سے جھگڑا ہو گیا۔ اس جھگڑے میںپیرا میڈکس،سکیورٹی گارڈز اور سویپرز کے ساتھ مریضوں کے لواحقین نے وکیلوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ تنازع اے ایم ایس آفس پہنچا تو معافی تلافی ہوئی اور معاملہ ابتدائی طور پر رفع دفع ہو گیا مگر وکلاءکے خیال میں یہ مناسب فیصلہ نہیں تھا، تشدد کرنے والوں کوسخت سزا ملنی چاہئے تھی، ان کے ساتھی پی آئی سی پہنچے تو پھر لڑائی ہو گئی۔وکیلوں نے اس جارحیت کے خلاف سیکرٹریٹ اور آئی جی آفس کا گھیراو¿ شروع کر دیا اوروہ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کروانے میں کامیاب ہو گئے جس پر جی ایچ اے نے بھی ہڑتال کر دی۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے معاملے پر اس وقت ڈاکٹروں سے پیرا میڈکس تک ہسپتالوں کا پورا سٹاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کے نام پر متحد ہے۔ حکومت ابتدائی طور پر وکیلوں کا ساتھ دے رہی تھی کیونکہ ایم ٹی آئی ایکٹ پر مزاحمت کے جرم میں ڈاکٹروں کو سزا دینی ضروری تھی۔ معاملہ گھمبیر ہوتا چلا جا رہا تھا کہ میڈیکل کمیونٹی نے اچانک یوٹرن لیا اور مظاہرے کرتے کرتے اچانک ایک پریس کانفرنس میں وکیلوں سے معافی مانگ لی۔ یہ کسی بھی پیشہ ور تنظیم کی طرف سے ایک بڑااقدام تھا کیونکہ ہماری تنظیمیں صرف چڑھائی کرنا جانتی ہیں۔ یہی وائے ڈی اے ہے جس نے کبھی کسی جمہوری حکومت یا غریب عوام سے معافی نہیں مانگی۔

معاملہ بظاہر ختم ہو چکا تھا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس پی آئی سی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عرفان کے خطاب کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں وہ وکیلوں کے ردعمل اور کوششوں کا مضحکہ اڑا رہے تھے۔ ان کا پڑھا ہوا شعر زبان زد عام ہو گیا کہ ’ وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا، اب روتا ہے کہ چپ نہیں ہوتا“۔ وکلاءکمیونٹی اسے اپنی توہین کے طور پر لے رہی تھی اور اسی پرگزشتہ منگل کو وکیلوں اور ڈاکٹروں میںا یک بار پھر رابطہ ہوا۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے دفتر میں میٹنگ ہوئی اور ڈاکٹرعرفان نے بتایا کہ ان کی یہ ویڈیو معافی اور صلح سے پہلے کی ہے جب خود ووکیلوں کی طرف سے ڈاکٹرز کو ڈاگز کہا جا رہا تھا۔ وہ اس صلح اور معافی کے بعد کراچی چلے گئے تھے لہٰذا کسی نئی ویڈیو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر عرفان نے انہیں بتایا کہ ان کے والد وکیل تھے اور ان کے دو چاچو وکیل ہیں اور وہ کالے کوٹ کا احترام کرتے ہیں۔ وکیلوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک مرتبہ پھر معافی مانگی جائے اور اس کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جائے۔ ڈاکٹر عرفان کہتے ہیں کہ ان کا یہ مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عرفان نے میرے پروگرام میں ایک مرتبہ پھر معذرت کی۔

اب ایشو یہ تھا کہ گیارہ جنوری کو لاہور بار کے انتخابات ہو رہے ہیں اور اس تنازعے کے پہلے حصے کو عاصمہ جہانگیر مرحومہ سے منسوب گروپ انڈی پینڈنٹ گروپ نے خوب فائدہ اٹھایا اور عملی طور پر اسی کے لوگ قیادت کرتے رہے یہ حامد خان صاحب کے پروفیشنل گروپ کے لئے ایک مشکل صورتحال تھی کہ عام وکیل کہہ رہا تھا کہ انہوں نے وکلاءمفاد کی ترجمانی اور پاسبانی نہیں کی۔ مجھے وکلا ءنے بتایا کہ حامد خان صاحب کا گروپ اس وجہ سے بھی مشکل میں ہے اس مرتبہ دو صدارتی امیدوار کھڑے ہو گئے ہیں لہٰذا عاصم چیمہ اور رانا انتظار کے لئے کچھ کرنا ضروری تھا۔ میں نے جب دونوں طرف کا موقف سنا تو مجھے حیرانی ہوئی کہ وکلا پی آئی سی کی طرف کیوں آئے جب ویڈیو والا معاملہ بھی طے ہو چکا تھا اور آپس میں جپھیاں ڈالی جا چکی تھیں۔ کہتے ہیں کہ ایک اس میں انتخابی مہم کے ایک کھانے میں ایک خاتون وکیل کی تقریر کا بھی اہم کردار ہے یعنی بنیاد ی طور پر اس ایشو کو الیکشن ایشو بنا لیا گیا۔وکلا چاہے میڈیا کو دھمکیاں دیتے رہیں مگر وہ اچھی طرح جانتے ہیںکہ انہوں نے اس تنازعے میں کیا کمایا ہے۔

بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ بنیادی ذمہ داری ڈاکٹروں پر ہے جس سے مکمل انکار نہیں کیا جا سکتاکیونکہ پہلا واقعہ ہسپتال میں ہوا حالانکہ اس میں بھی شروع کی ویڈیو میں ہمیں کوئی ڈاکٹر نظر نہیں آتا بلکہ یہ وکلا پر پیرامیڈکس، سیکورٹی گارڈز اور سادہ لباس والوں کا تشدد ہے مگر چونکہ معاملہ ہسپتال کا تھا لہٰذا ڈاکٹروں کو شامل کیا جا سکتا ہے کیونکہ جہاں کچہریوں اور عدالتوں میں وکلا کی حکمرانی چلتی ہے ویسے ہی ہسپتالوں پر وائے ڈی اے کی مرضی کے بغیر پتابھی نہیں ہل سکتا مگر ہمیں ڈاکٹروں کی طرف سے معافی کی پریس کانفرنس کو نہیں بھولنا چاہئے۔ یہی لوگ پھر کہتے ہیں کہ فساد کی جڑ ڈاکٹر عرفان ہے جس نے وہ ویڈیو بنوائی اور وائرل کی۔ ڈاکٹر عرفان سے میری بات ہوئی تو اس نے کہا کہ وہ ایک غیر رسمی سی تقریر تھی جیسے دوستوں میں ہوتی ہے اورانہوں نے نہ تواس کی کوئی ویڈیو بنائی اور نہ ہی شیئر کی ۔ یہ معاملہ طے ہونے سے پہلے کی بات تھی جب دونوں طرف کے جذبات عروج پر تھے۔ اس کے بعد ویڈیو پر دوبارہ معافی مانگ لی گئی۔ وائے ڈی اے ، پی آئی سی، کے صدر ڈاکٹر اعجاز سے میں نے پوچھا کہ آپ بار میں جا کے معافی مانگنے پر تیار تھے، انہو ں نے کہا کہ ہم اس پر بھی تیار تھے کیونکہ ہم لڑائی کو ختم کرنا چاہتے تھے اگرچہ وہاں سیکورٹی کے ایشوز تھے۔ میں نے پولیس والوں سے پوچھا کہ آپ لوگ تیارکیوں نہیں تھے تو جواب ملا کہ جب ڈی آئی جی آفس میں ویڈیو والا معاملہ بھی طے پا گیا تھا تو پھر ہمیں وکلا کی انٹیلی جنس رکھنے اور نفری لگانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ سب سے اہم یہ ہے کہ پی آئی سی خود چل کر وکیلوں کے پاس نہیں گیا تھا کہ مجھ میں توڑ پھوڑ کرو، وکیل وہاں جتھوں کی صورت میں پہنچے تھے۔

میں ان معاملات کو عشروں سے دیکھ رہا ہوں اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس میں سے اب کچھ بھی نہیں نکلے لگا سوائے لاہوربار کے انتخابات کے نتیجے کے۔ انڈی پینڈنٹ گروپ کے لوگ ہسپتال پر حملے کی مذمت کر رہے ہیں مگر وہ وگرفتار وکلا کی ضمانتیں کروانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون سا گروپ اس پھڈے کو ووٹوں کی صورت میں کیش کروانے میں کامیاب ہوتا ہے کہ گذشتہ برس چیمبرز کی الاٹ منٹ کا تنازعہ مین ایشو تھا جس کا فائدہ پروفیشنل گروپ کو پہنچا تھا اور اس برس ڈاکٹروں کے ساتھ تنازع ہاٹ ہے۔ یہ دھڑے بندیوں کی سیاست بہت خوفناک ہوتی ہے، انسان کو ہر صورت میں اپنے دھڑے اور پروفیشن کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے چاہے دھڑااور پروفیشن کہیں بھی کھڑا ہو۔ میں نے یہی دیکھ کر صحافیوں کی سیاست سے توبہ کر لی تھی۔


ای پیپر