پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے: شاہ محمود قریشی
15 دسمبر 2018 (13:57) 2018-12-15

کابل: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے ، خطے کی خوشحالی کیلئے تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے ، بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ،کابل اور لوگر میں جلد ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں ، دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کیلئے تحفہ ہیں، پاکستان شروع سے افغانستان میں حصول امن مذاکرات کا حامی رہا ہے ، افغانستان کی صورتحال سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہوا،، فورم پشاور کابل موٹروے اور کوئٹہ قندھار ریلوے لائن بنانے کیلئے اہم ہے ، چین کی جانب سے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے ، چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری اور امن و استحکام چاہتے ہیں۔

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سہ فریقی تعاون اس سلسلے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے ، پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے ، پاک چین اور افغانستان کی معیشت آپس میں جڑی ہوئی ہے ، پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ، ہمیں تعاون بڑھانے اور انٹیلی جنس روابط بڑھانے کی ضرورت ہے ، دہشت گردی کے چیلنج کا بہترین حل روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ترقی ہے ،چالیس سال سے افغانستان جنگ وجدل کا شکار ہے ، افغانستان کی صورتحال سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہوا ، ہمیشہ افغان قیادت کی سربراہی میں مذاکرات کی حمایت کی ، تینوں ممالک کے باشندوں کے درمیان گہرے روابط ہیں ، خطے کی خوشحالی کیلئے تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے ، بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ تین ماہ میں کابل کا یہ دوسرا دورہ ہے ، افغان صدر کے طالبان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں ، افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں ، کابل اور لوگر میں جلد ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں ، دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کیلئے تحفہ ہیں ، اب دنیا ہمارے مذاکرات کے موقف کی تائید کرتی ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی معاونت بروئے کار لا کر افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار کی جائے ، افغانستان میں قیام امن خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کیلئے ناگزیر ہے ، پاکستان شروع سے افغانستان میں حصول امن مذاکرات کا حامی رہا ہے ۔

 سہ فریقی مذاکرات کا مقصد الزام تراشی اور منفی بیان بازی سے گریز کرنا ہے ، انسداد دہشت گردی ، سیکیورٹی ، بارڈر منیجمنٹ کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہے ، معلومات کے تبادلے سے باہمی معاونت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے ، فورم پشاور کابل موٹروے اور کوئٹہ قندھار ریلوے لائن بنانے کیلئے اہم ہے ۔ قبل ازیں کابل روانگی سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین کی جانب سے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے ۔ چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری اور وہاں امن و استحکام چاہتے ہیں۔


ای پیپر