نیم پخت انڈہ اور ملاوٹ کی گرم بازاری
15 اگست 2020 (23:30) 2020-08-15

اگلے روز علی الصبح بادل چھائے ہوئے تھے مطلع ابر آلود تھا… چند لمحوں کے اندر چھم چھم بارش شروع ہو گئی… موسم سہانہ تھا… میں گھر کے برآمدے میں بیٹھا آسمان سے کھلے صحن میں ابر رحمت کے نزول سے لطف اندوز ہو رہا تھا… جی میں خیال چرایا بچپن اور جوانی کے سالوں میں موسم اچھا ہوتا تو نیم پخت انڈوں (HALF BOILED EGG) کا اپنا مزہ ہوتا تھا… کیوں نہ آج بھی ان کا لطف لیا جائے… گھر والوں سے خواہش ظاہر کی… تھوڑی دیر میں بیٹی دو انڈوں کو نیم پخت کر کے اور بڑے سلیقے کے ساتھ پلیٹ میں سجا کر نمک دانی، چمچ اور چھری کے ساتھ لے آئی… انڈے کو تھوڑا سا ٹھنڈا کر کے اوپر سے چھلکا اتارا… بڑے شوق سے دو تین چمچ حلق سے نیچے اتارے تو وہ ذائقہ محسوس نہ ہوا جو نیم پخت انڈوں کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے… ایک چمچ مزید منہ میں ڈالا مگر وہ مولوی مدن والی بات کہاں… اہلیہ کو بلایا… اسے اپنے تاثر سے آگاہ کیا اور ایک چمچ بھر انڈہ چکھنے کو کہا… اس نے منہ میں ڈالا تو کہنے لگی اصلی نہیں چائنہ سے امپورٹ شدہ مشینی انڈہ لگتا ہے… مت کھایئے… میں نے کہا انڈے تو میں نے گراسری کی دوسری اشیاء کے ساتھ معیاری سامان فروخت کرنے والے فلاں مشہور سٹور سے خریدے تھے… جن کے بارے میں لکھا تھا ہمارے خاص فارم کے تازہ انڈے ہیں… کیا اتنا بڑا سٹور بھی دو نمبر اشیاء بیچتا ہے… اہلیہ نے جواب دیا بڑے سٹور والے اور دوسرے امیر تاجروں کے اندر بے تحاشا منافع کمانے کی ہوس ہی انہیں امیر بناتی ہے… وہ دو نمبر مال کو ایک نمبر کی پیکنگ میں بیچنے کی خاطر تمام ہتھکنڈے زیادہ فن کاری کے ساتھ استعمال کر کے جن کی بھونڈی نقالی کر کے چھوٹے اور محلوں کے دکاندار گاہکوں کو لوٹتے ہیں… بات چل نکلی تو اہلیہ کہنے لگی خالص اشیاء سے تو ایک صدی سے پہلے کے دیہاتی ماحول میں ہماری دادیاں اور نانیاں کھانے تیار کر کے اپنے کنبوں کو کھلاتی ہوں گی… جب دودھ گھر کی بھینس یا گائے کا ہوتا تھا… اسی سے گھی اور مکھن نکلتا تھا… ہر گھرانے نے مرغیاں پال رکھی تھیں… ان کے انڈوں کے جعلی ہونے کا سوال نہیں پیدا ہوتا تھا… تازہ سبزیاں ساتھ کے کھیتوں سے آ جاتی تھیں… گوشت بھی قصاب سرعام صحت مند بکرے کی کھال اتار کر گائوںکے جان پہچان رکھنے والے گاہکوں میں فروخت کرتا تھا… اب یہ باتیں داستانوں کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں… عین بیچ گفتگو کے من چلا آن ٹپکا… اس نے جوانی کا پیشتر حصہ دیہاتی ماحول میں پل کر بسر کیا ہے… ہنس کر کہنے لگا اب تو یہ کیفیت ہے دیہات میں بھی الٹی شہروں سے کھانے پینے اور دوسری اشیائے صرف بکنے کے لئے جاتی ہیں… جو آمیزش شدہ ہوتی ہیں… چنانچہ دو نمبر اشیاء کی وہاں بھی فراوانی ہے جو اکثروپیشتر معیار کے لحاظ سے زیادہ ہلکے درجے کی ہوتی ہیں کیونکہ عام دیہاتی کی قوت خرید میں پہلے کے مقابلے میں بہت فرق آ گیا ہے… میں نے سوال کیا ، کیا پرانے زمانے کے عام دیہاتی زیادہ امیر ہوتے تھے… من چلا بولا معلوم ہوتا ہے تم قدیم دیہاتی نظام زندگی اور معاشرت سے واقف نہیں ہو جو اب تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے… ہم میاں بیوی نے پوچھا وہ کیا تھا…

من چلے نے جواب دیا پنجاب کا ہر دیہات (اور شائد دوسرے علاقوں میں بھی ) ایک ننھی منی ریاست ہوتا تھا… اس میں بسنے والے کیا چودھری کیا ان کے مزارعے اور کیا دوسرے پیشوں یا ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی تقریباً تمام اشیائے ضرورت دیہات کے اندر کے پیداواری نظام سے حاصل کرتے تھے… یعنی اس چھوٹی سی ریاست کی معیشت خودکفیل ہوتی تھی… جسے گائوں کے باسی صدیوں سے چلے آ رہے ریاستی نظام کے تحت چلاتے تھے… یہ ریاستی نظام کیا تھا… من چلے نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا یہ اپنی جگہ دلچسپ موضوع ہے جس سے شہروں کے اندر پروان چڑھنے والی نئی نسلیں ناواقف ہیں… ہر دیہات کے اندر ایک یا دو بڑے چودھری ہوتے تھے… جو اپنی حدود کے اندر بادشاہ جیسے اختیارات رکھتے تھے… رعایا کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے لیکن رحم دلی کا بھی بہت مظاہرہ کرتے تھے… گائوں 

کے باسیوں یعنی اپنی چھوٹی سی رعایا کے ہر فرد کے لئے سایہ شفقت ہوتے تھے… حکم بھی چلاتے تھے… سخت سزائیں دیتے تھے… دادرسی بھی کرتے تھے… ان کے مزارعوں کی فوج ظفرموج ہوتی تھی… جو ان کی زمینوں پر فصلیں اور سبزیاں اگاتے تھے… ایک تہائی کے قریب حصہ پاتے تھے … جو اگرچہ کم ہوتا تھا لیکن دیہاتی ماحول کے اندر ان کی کفالت کرتا تھا… اس کے ساتھ دوسرے پیشوں سے جڑے ہوئے لوگ ہوتے تھے جو اہل ہنر کہلاتے تھے… مثلاً لوہار ترکھان جولاہا موچی اور نائی وغیرہ ان سب کی موجودگی میں عام دیہاتیوں کو روزمرہ کے اشیاء کے حصول کے لئے دوسرے مقامات پر نہیں جانا پڑتا تھا… اس کے ساتھ مسجد کے امام صاحب اور خطیب ہوتے… جن کے دم درود سے افاقہ ہوتا تھا اور بیماروں کو سکون ملتا تھا… ان میں سے کئی باقاعدہ حکیم ہوتے تھے… مریض کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہی بیماری کی تشخیص کرتے اور اپنے مطب میں تیار شدہ دوا سے اس کے مرض میں خاطر خواہ افاقے کا اہتمام کرتے تھے… باپ کا پیشہ بیٹا اختیار کر لیتا تھا… اس نے ہوش سنبھالتے ہی اس کے یہاں سے تربیت حاصل کی ہوتی تھی… باپ کے ہنر کو اپنے اندر سمو کر اس کی کرسی سنبھال لیتا تھا… گائوں کے تمام لوگ ایک دوسرے اور اس کے گھرانے سے بخوبی واقفیت رکھتے تھے… اس کے دکھ درد اور خوشیوں میں باقاعدہ شریک ہوتے تھے… یہاں تک کہ ان کے دوسرے دیہات میں بسنے والے رشتہ داروں کی بھی مکمل جان پہچان رکھتے تھے… چنانچہ کسی اجنبی کی آمد ہوتی تھی تو ہر کوئی اس کا نوٹس لیتا تھا… اس ماحول اور نظام کے اندر من چلا کہنے لگا ملاوٹ شدہ اشیائے ضرورت کی موجودگی ناقابل تصور تھی… ہر بڑا گائوں جیسا کہ میں نے کہا ہے اپنی جگہ اور خودکفالت کے درجے کو پہنچا ہوا چھوٹے درجے کی ریاست ہوتا تھا… کنویں کے رہٹ کی طرح اگرچہ زندگی کی رفتار سست تھی… مگر صدیوں سے چلے آ رہے ایک نظام کا پرزہ بن کر حرکت میں رہتی تھی… اس ماحول میں ہر چھوٹے بڑے، امیر اور غریب کو خالص غذائوں کی دستیابی فطری بات تھی…

مگر ہمارے شہروںمیں آ کر یہ کیفیت باقی نہ رہی… ماحول یکسر بدل گیا… زندگیوں میں تصنع در آیا اور خالص اور ناخالص اشیاء میں فرق تیزی کے ساتھ مٹتا گیا… درحقیقت ہمارے زیادہ تر شہر غلہ منڈیوں کے طور پر آباد ہوئے… جہاں دیہات سے لائی گئی گندم، چاول، کپاس اور دوسری اجناس کی تجارت ہوتی تھی… اس کاروباری لین دین میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس سرائیت کرتی گئی… پہلے سودے بازی میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوا پھر فطری طور پر ملاوٹ نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا… دو نمبر اشیاء کا چلن عام ہوتا گیا آج یہ عالم ہے ملاوٹ شدہ اشیاء صرف یوں کہئے کہ ہماری زندگیوں کا شعار (WAY OF LIFE) بن گئی ہیں… باوجود ہزار کوشش کے ان سے چھٹکارا پانا مشکل ثابت ہو رہا ہے… لیکن امریکہ اور یورپ وغیرہ کے شہروں میں بھی کیا ایسا ہوتا ہے… وہاں سے آنے والے لوگ تو بتاتے ہیں اور ہم اخبارات میں بھی پڑھتے ہیں ملاوٹ شدہ اشیاء بیچنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی کو مجال نہیں ہوتی… میری اہلیہ نے بیچ گفتگو کے سوال اٹھایا… میں نے جواب دیا اس کی ایک بڑی وجہ سخت قوانین اور سزائوں پر عملدرآمد کے ساتھ ہر سطح پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہے… جگہ جگہ CONSUMERS' SOCIETIESبنی ہوئی ہیں جو فروخت کے لئے ہر آنے والے مال کی سختی سے جانچ پرکھ کرتی ہیں… ان کے نرخوں کے اتار چڑھائو پر کڑی نگاہ رکھتی ہیں… دوسری اہم وجہ لین دین میں جھوٹ کا چلن نہ ہونا ہے… ہمارے یہاں بھی جھوٹ کو برائی سمجھا جاتا ہے… لیکن جو شخص بھی چالاکی کے ساتھ جھوٹ بولنے کا ہنر جانتا ہو اسے ذہین اور کامیاب سمجھا جاتا ہے… اس کے برعکس مغربی معاشروں میں جھوٹا شخص ثابت ہو جائے اور اس میں دیر نہیں لگتی قابل نفرت قرار پاتا ہے اور اس کے ساتھ ذہین کی بجائے CROOK کا سا سلوک اور رویہ اختیار کیا جاتا ہے… یہ امر ملاوٹ شدہ اشیاء بیچنے میں بڑی رکاوٹ کا کام دیتا ہے… میں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا 1995ء میں جب پہلی مرتبہ امریکہ گیا تو وہاں نیویارک میں وال سٹریٹ جنرل کے ایک تازہ شمارے پر نگاہ پڑی… جس کے اندر اس موضوع پر رائے عامہ کا ایک جائزہ چھپا تھا کہ گزرے سال کے دوران کتنے امریکی کنبوں کی دعائیں قبول ہوئی ہیں… جواب میں تقریباً ستر فیصد نے کہا جی ہاں خدا کے حضور ہماری دعائیں سنی گئیں… میں یہ پڑھ کر بہت حیران ہوا کہ شراب پینے والے زنا کے عادی یہ لوگ کیسے مستجاب الدعا ہو گئے… اپنا یہ مخمصہ لے کر واپس آیا… ان دنوں جامعہ اشرفیہ لاہور میں مولانا محمد موسیٰ روحانی البازی نام کے ایک استاد ہوا کرتے تھے جن کی روحانی تصرفات کے مالک کی حیثیت سے بڑی شہرت تھی… مرحوم سائل سے اپنے دم درود یا تعویز کے عوض دھڑلے کے ساتھ لاکھوں روپے وصول کرتے تھے اور اسے شرعی طور پر جائز سمجھتے تھے… کسی کو منہ نہیں لگاتے تھے… لیکن میرے ساتھ اچھرہ کا رہائشی یعنی ہمسایہ ہونے کی وجہ سے رعایت برتتے اور اذن باریابی مل جاتا… میں امریکہ سے واپسی پر سیدھا ان کی خدمت میں حاضر ہوا… اپنا مخمصہ بیان کیا… وہ اٹھ کر علم تصوف کی ایک پرانی کتاب نکال لائے… جس میں لکھا تھا مستجاب الدعا ہونے کی دو شرائط ہیں… اکل حلال اور صدق مقال… یعنی آدمی حلال کا لقمہ کھائے اور ہمیشہ سچ بولے… میرا عقدہ حل ہو گیا… مغرب کے لوگ شرعی لحاظ سے نافرمان سہی… لیکن وہاں کا نظام اور معاشرت ایسی ہے جس کے اندر رزق حلال کماتے ہیں اور عام زندگی میں جھوٹ کم بولتے ہیں… لہٰذا ملاوٹ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا… ان کے مقابلے میں ہم اسلام کے پیروکار ہونے کے تمام تر دعووں کے باوجود عملی زندگیوں میں کہاں کھڑے ہیں… یہ سوال وضاحت کا محتاج نہیں… اس کی وجہ سے صرف جھوٹ نہیں منافقانہ رویے بھی ہمارے اندر رچ بس گئے ہیں اور طرفہ تماشا یہ دوسروں کی منافقت ہر دم نظرآتی ہے اپنی نہیں…


ای پیپر