قصہ ایامِ سلف کا…
15 اگست 2020 (23:29) 2020-08-15

 پچھلی ایک صدی میں خلافت عثمانیہ کا سورج غروب ہونے سے آج تک دنیائے کفر مسلم دنیا پر چیرہ دست رہی۔ مختلف مسلم کالونیوں میں جہاد کے شدید مزاحمتی تھپیڑے ہر جگہ کھانے کے بعد اسے دبانے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کردیکھی۔ روح جہاد اور فلسفۂ شہادت سے نمٹنے کو مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کاشت کی گئی۔ اسکالرز اور علمائے سوء کے ذریعے فکری بحثیں چھیڑ کر دھیان بٹائے گئے۔ تاہم سب سے مؤثر ہتھیار نظام تعلیم کا ثابت ہوا جس کا بنیادی فلسفہ یہی تھا    ؎

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر

یہاں ہم مشرف دور سے لے کر آج نیو مشرف دور تک ’یکساں نظام تعلیم‘ کے نام سے اگلی نسلوں کو شناخت کے بدترین بحران سے دوچار کرکے دجالی ہیومنزم کا نرم چارہ بنا رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے ساتھ مل کر نظام تعلیم کا دو آتشہ ’جاں بھی گروِ غیر، بدن بھی گروِ غیر‘ کا فریضہ بخوبی انجام دے گا۔ گلوبل ولیج کے بے رنگ، بے شناخت شہری ڈھالنے کو ادنیٰ غلام سازی کی یہ فیکٹریاں بنانی مقصود ہیں۔ اعلیٰ تر مقاصد کے لیے جینے والے، مردان حر پیدا کرنے والے مسلم مرد وزن سے امت کو محروم کردینا پیش نظر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان عورت کو سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور سیدہ خنساء رضی اللہ عنہا جیسی ماؤں کے تذکرے اور شناسائی سے بھی بچانا ہوگا، تاکہ وہ بہادر بیٹوں کو جنم دینے، پروان چڑھانے کا خواب کبھی نہ دیکھے۔صلاح الدین ایوبی، عمر المختار السنوسی، سیداحمد شہید، شاہ اسماعیل شہید جیسوں سے تو وہ واقف بھی نہ ہو۔ ان کے خواب بل گیٹس بننے، عالمی ملٹی نیشنل اداروں میں بھرتی ہوکر ڈالر کمانا، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان بن کر مغربی معاشروں کی گرتی آبادی اور بگڑی تباہ نسل کی جگہ ان کے ادنیٰ غلام بن کر خدمات فراہم کرنا ہوں۔ جہاں وہ دو قومی نظریہ گہرا دفن کرکے، اسلامیت بھلاکر، ڈالر یورو جائیدادیں بناتے خوشی سے پھلتے پھولتے رہیں۔ لیاقت، ذہانت نہ ہوتو کھلاڑی، اداکار، ماڈل، فیشن ڈیزائنر بن کر میڈیا کی اسکرینوں پر ناچتے گاتے اچھلتے رہیں۔ سیاست، حکومت کا اکھاڑا گوروں کے نسل در نسل فرمانبردار ٹوڈیوں، مسلم مفادات بیچنے والوں کے لیے مخصوص ہے۔ 

سامراجی دشمن نے ہماری تاریخ خوب پڑھ رکھی ہے۔ ہماری تاریخ ساز شخصیات والدین کے اونچے خوابوں، عزائم و تمناؤں کا ثمر رہی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خواب دیکھیے اور اس کی تعبیر بھی۔ انہوںنے بیدار ہوکر فرمایا: ’وہ کون ہے جو ہماری اولاد میں سے اشبح (زخمی) ہوگا اور میری سیرت اپنائے گا۔ میری اولاد میں ایک شخص ہوگا جس کے چہرے پر زخم کا نشان ہوگا اور وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔‘ ابن عمرؓ برابر کہتے: کاش مجھے معلوم ہوتا کہ اولاد عمرؓ میں سے وہ کون ہے جو زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ (ہماری طرح روئے زمین کی دولت سے اپنی جیب اپنا بینک بھر دینے کا خواب نہیں!) یہ قول اولاد عمرؓ میں، بنو امیہ میں پھیل گیا۔ بوڑھے، جوان، عورتیں، مرد سب اس زخم کے نشان والے کے منتظر تھے! فاروق اعظمؓ کے فرزند حضرت عاصمؓ نے گوالن کی امانت دار متقی بیٹی سے باپ کے اس فرمان پر شادی کرلی تھی کہ بیٹا! اس سے نکاح کرلو۔ یہ اس لائق 

ہے کہ اس سے ایک شہ سوار پیدا ہو اور عرب کا سردار بنے۔ بنی ہلال کی اس خاتون سے اللہ نے انہیں ایک بیٹی دی، جن کا نام باپ نے ام عاصم رکھا۔ یہ عبدالعزیز بن مروان کے نکاح میں آئیں اور اللہ نے انہیں چار بیٹے دیے، جن میں سے ایک عمر بن عبدالعزیز ہوئے۔ یہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ اپنے اخیافی بھائی اصبغ کے ساتھ گھوڑوں کے اصطبل گئے۔ اچانک خچر نے لات ماری اور پیشانی خون میں نہاگئی۔ اصبغ نے بھائی کو زخمی دیکھا تو بے اختیار ہنسنے لگا اور پکار اٹھا: اللہ اکبر اشبح بنی مروان! یہی وہ عادل حکمران ہوگا! اس دور کے بچوں کی آنکھیں ایسے خوابوں کی تعبیر کی یوں منتظر ہوتی تھیں۔ (آکسفورڈ، کیمبرج کے داخلوں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف کی ملازمتوں، بھارتی فلموں میں آفروں کی بجائے!) خواب کی یہ تعبیر پوری ہوئی اور خلیفۂ راشد عمر بن عبدالعزیزؒ کی صورت تاریخ میں گہرے نقوش ثبت کرگئے، جو اسلامی تاریخ کا زریں باب ہے!

ایک خواب گورنر نجم الدین ایوب کی جاگتی آنکھوں میں بھی بس رہا تھا۔ شادی میں دیر کررہے تھے۔ شاندار، خاندانی اعلیٰ نسب رشتے ٹھکرا رہے تھے۔ بھائی اسد الدین شیرکوہ نے بالآخر پوچھا۔ آخر کیا چاہتے ہو؟ نجم الدین نے کہا: ’مجھے ایسی نیک بیوی چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑکر مجھے جنت لے جائے اور اس سے میرا بیٹا پیدا ہو، جس کی وہ بہترین تربیت کرے، وہ شہ سوار ہو اور مسلمانوں کا قبلۂ اول واپس لے!‘ یہ خواب پورا ہونے کی سبیل رب تعالیٰ نے تکریت کی ایک مسجد میں شیخ کے پاس بیٹھے ہوئے کردی۔ پردے کے پیچھے ایک لڑکی شیخ سے گفتگو کررہی تھی۔ یہ لڑکی ایک خوبصورت اعلیٰ رتبے والے نوجوان کا رشتہ ٹھکراتے ہوئے کہتی ہے: ’یا شیخ! مجھے ایسا شریک زندگی چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑکر مجھے جنت لے جائے اور اس سے اللہ مجھے ایسا بیٹا عطا کرے جو شہ سوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے!‘ نجم الدین دم بخود رہ گیا۔ شیخ سے کہا، میری اس لڑکی سے شادی کروا دیں۔ شیخ نے بتایا کہ یہ محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ہے۔ نجم الدین نے کہا مجھے منظور ہے۔ (دونوں ہی ’دہشت گرد‘ تھے!) اور یوں گوالن کی نسل سے عمر بن عبدالعزیزؒ اور فقیر گھرانے کی متقی لڑکی سے دنیا کو صلاح الدین ایوبیؒ عطا ہوئے، جنہوںنے قبلۂ اول بیت المقدس آزاد کروایا!

 نظام تعلیم اور میڈیا نے مل کر ہمیں ہاتھ مل مل کر ملال کرنے کو ملالائیں دیں جو ہماری آزادی مسلسل گوروں کے ہاتھ گروی رکھے رہنے والے حکمرانوں کی لائن میں لگی کھڑی ہے، تربیت پا رہی ہے۔ جب وہ چاہیںگے انگریزی اور آکسفورڈ کے ٹھپے کے ساتھ میڈیا کے غلغلے میں یہاں سیاست میں لانچ فرما دیں گے! یہی اہلیت کی بنیادی شرائط ہیں یہاں۔ بے نظیر، زرداری، عمران خان، بلاول سبھی اس ایک شرط کی بناپر ہمارے حکمران رہے ہیں یا سیاست فرماتے ہیں۔ دیسی نہ ہو ولایتی ہو بس۔ گورے آقاؤں کا پسند فرمودہ۔ سو مسلم دنیا، عدل سے بھر دینے والوں اور قبلۂ اول آزاد کروانے والوں سے محروم غلامی ونکبت کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ جو … ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری! 

ہماری لڑکیاں اب ذرا بہتر ’جہادی‘ خواب ارطغرل ڈرامے کے بعد دیکھنے لگ گئی ہیں۔ سو اس ’ڈرامے‘ (جو نرا ڈراما ہی ہے) کے اداکار چنگیز کوسکن (Cengiz ) کا کہنا ہے کہ کئی پاکستانی لڑکیوں نے اسے شادی کا پیغام بھیجا ہے لیکن وہ کسی اور لڑکی سے طویل عرصے سے پسندیدگی میں بندھے ہونے کی بنا پر ایسا کر نہیں سکتا۔ یہ ہے آج کا پاکستان! اس کے نوجوان ڈراموں ہی ڈراموں میں کشمیر، فلسطین کا مقدر بدلنے، آزاد کروانے کے ’خواب‘ دیکھتے ہیں۔ ہم کشمیر کی آزادی پر فلم بنا چکے، ٹیبلوز کالجوں کی لڑکیاں سج سنور کشمیری لباس پہن گا بجاکر پیش کرتی ہیں۔

اب تو مزید کئی اقدامات، کاغذوں، بینروں، اسکرینوں، اسٹیجوں پر کرچکے۔ کشمیر اب بھی آزاد نہیں ہوا تو یہ ان کا مقدر! 14 اگست پر مزید گا بجا لیا تاکہ آزادی کو اور چار چاند لگ جائیں۔ کورونا بندشیں بھی کھل رہی ہیں۔ قوم کا حال اس اونٹ سے مختلف تو نہیں جو نہیں جانتا کہ مالک نے اسے باندھا کیوں اور کھولا کیوں!

چلیے ماضی کی کچھ اور خوبصورت یادیں تازہ کریں

رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے

  قصہ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے

 تاریخ کے ایمان افروز لہلہاتے باغات کی سیر جہاں عظیم شخصیات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بشارتوں کو آنکھوں میں سجاکر انہیں پانے کے لیے پرعزم رہیں۔

لیکن آج سوشل میڈیا اور چھوٹی بڑی کالی اسکرینوں نے ہماری آنکھوں کو راتوں کی پرسکون نیند، اس میں دیکھے جانے والے اعلیٰ خواب، امت سے وابستگی کا گراں مایہ احساس، اعلیٰ فکر وتدبر کی صلاحیت سبھی کچھ چھین لیا۔ اب صرف بلی کو چھچڑوں کے خواب، امریکا سے وابستگی کی حسرت باقی رہ گئے۔ تصویری دنیا کی اسیری نے تخیلاتی حسیات شل کردی ہیں۔ ان کے غیرضروری استعمال سے بچنا صلاحیتوں اور ذہانتوں کے تحفظ کے لیے بھی نہایت ضروری ہے 

رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید

ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق لطیف

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں نے کتنے مسلمان لشکر اٹھائے، یہ دیکھنا ہوتو فتح قسطنطنیہ کے خواب دیکھنے والے سپہ سالاروں اور ان کے عساکر کو دیکھیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ: ’میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر چڑھائی کرے گا وہ مغفرت یافتہ ہے۔‘ (بخاری) اس بشارت کو پانے کے لیے 48ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوج کشی کا ارادہ کرکے اعلان کروا دیا۔ جلیل القدر صحابہ اس بشارت کو پانے کے لیے لپکے (حالانکہ وہ اللہ کی رضا کا پروانہ قرآن میں حاصل کرچکے تھے!) حضرت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن عباس، حسین ابن علی اور سیدنا ابوایوب انصاری رضوان اللہ علیہم لشکر میں آ شامل ہوئے۔ اسی میں میزبان رسول ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ قیصر کے دارالسلطنت پر چڑھائی کے معرکے میں واصل بحق ہوکر اپنی وصیت کے مطابق شہر کی فصیل کے ساتھ دفن ہوئے۔ 

اندازہ کیجیے کہ دور نبوی میں بدر تا حنین ۔ عہد فاروقی کے معرکوں میں بھی شریک رہے۔ اب 80 برس سے عمر اوپر ہوچکی لیکن بشارت پانے کے شوق نے پھر اٹھاکر کھڑا کیا! ان بوڑھوں کی جواں عزمی ملاحظہ ہو اور آج کے جوانوں کا بڑھاپا!


ای پیپر