سونے میں سرمایہ کاری آخر کب تک
15 اگست 2020 (23:27) 2020-08-15

 پاکستان سمیت پوری دنیا میں سونے کی قیمت کبھی آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہے اور کبھی منہ کے بل نیچے گرتی محسوس ہوتی ہے۔اس بے یقینی کے ماحول میں ہر دوسرا شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ سونے کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر کیوں بڑھ رہی ہے اور یہ اضافہ کہاں جا کر رکے گا۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ سونے کو بیچ کر فوری فائدہ اٹھا لیا جائے یا قیمتیں مزید بڑھنے کا انتظار کیا جائے۔ یہ کشمکش جاری ہے کہ اگر سونے کی قیمتیں نیچے آ گئیں تو آج کی قیمت کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے چند حقائق کو مد نظر ضرور رکھیں۔

 کسی بھی ملک میں پیٹرولیم کمپنیوں میں سرمایہ کاری محفوظ اور منافع بخش سمجھی جاتی تھی۔ لیکن کورونا کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی نے یہ امید توڑ دی۔ سرمایہ کاروں نے پراپرٹی کے کاروبار کی طرف نظر دوڑائی تو علم ہوا کہ دنیا کی بلند وبالا عمارتیں خالی ہو رہی ہیں اور آدھے کرائے پر بھی کوئی لینے کو تیار نہیں ہے۔ یہاں سے مایوسی کے بعد آخری حل سونے میں سرمایہ کاری تھا۔ صدیوں سے سونا معاشی طاقت کے طور پر استعمال ہوتا آرہا ہے۔ کاغذکرنسی سے پہلے سونا بطور تجارت استعمال ہوتا رہا ہے۔ بلکہ آج بھی کاغذ کرنسی کی طاقت ملک میں سونے کے ذخائر پر منحصر ہوتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے دنیا کی بڑی معیشیتیں خصوصا امریکہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکی الیکشنز تک یہی صورتحال رہی تو ڈالر اپنی قدر کھو سکتا ہے اور دنیا میں پیپر کرنسی پر انحصار ختم ہو سکتا ہے۔ جب مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بڑھ جائے تو سرمائے کو محفوظ کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور دنیا آج اس مسئلے سے نبردآزما ہے۔ آج جس کے پاس سرمایہ موجود ہے وہ اسے سونے کی شکل میں محفوظ کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ جس کی وجہ سے طلب و رسد میں فرق آ گیا ہے اور سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ 

12 اگست کو روس نے کورونا کی پہلی ویکسین رجسٹرڈ کر لی۔ اس خبر کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً سو ڈالر نیچے گر گئی۔ 2013کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک دن میں سونے کی قیمت اتنی تیزی سے نیچے گری ہے۔ یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ مارچ 

سے جولائی تک سونے کی قیمت میں تقریباً %43 اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ کورونا ویکسین کی تیاری کے دعوے نے مصنوعی قیمتوں کے چڑھاؤ کو وقتی طور پرروکا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں خصوصا امریکہ اس مسئلے کو طْول دینا چاہتا ہے۔ روس کی ویکسین تیاری کے بعد امریکی سائنس دان نے عوام کو تسلی دینے کی بجائے شک و شبہات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس نے اعتراض اٹھایا ہے کہ اس دوائی کے کلینکل ٹرائلز مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ عمومی طور پر کسی بھی ویکسین کو تین مرحلوں میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے جبکہ اسے صرف دو ٹرائلز سے گزرا گیا ہے جس میں چند سو افراد پر اس کا ٹیسٹ کیا گیا ہے جبکہ تیسرے مرحلے میں اسے ہزاروں افراد پر ٹیسٹ کیا جانا تھا جو کہ نہیں کیا گیا۔ اس پروپیگنڈا کے پیچھے یہ خوف ہے کہ اگر روس کی ویکسین امریکہ سے پہلے مارکیٹ میں آجاتی ہے اور اس کے بہتر نتائج بھی سامنے آ جاتے ہیں تو یہ خبر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن کمپین کے لیے زیادہ اچھی نہیں ہے۔

سونے کی قیمت بڑھنے کی ایک وجہ امریکہ چائنا ٹریڈ وار بھی ہے۔ چائنا دنیا میں سونا پیدا کرنے والاسب سے بڑا ملک ہے۔ امریکی رویے کے پیش نظر چائنا نے سونے کے ذخائر بڑھانے پر کام تیز کر دیا ہے۔ تاکہ مشکل وقت میں کام آسکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن کمپین کے لیے چائنا کو نیچا دکھانا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے لیے اس نے چائنا پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ ٹک ٹاک کو خریدنے اور چائنیز شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ آنے والے چند ماہ میں ان واقعات میں کمی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ نومبر میں ہونے والے امریکی الیکشن سے پہلے مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مستحکم پالیسیوں کی وجہ سے امریکی سرمایہ کار بھی پریشان ہیں۔ ان کی ساری امیدیں امریکی الیکشنز پر ہیں۔ زیادہ تر سرمایہ کاروں نے امریکی الیکشنز تک سونا خریدنے کو ترجیح دی ہے۔ بعض ماہرین نے سونے کی قیمت اڑھائی ہزار ڈالر فی اونس تک جانے کی بھی پیشن گوئی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جوبائیڈن الیکشن جیت گیا تو چائنا امریکہ ٹریڈ وار ختم ہو سکتی ہے اور سونے کی پرانی قیمت بحال ہو سکتی ہے۔ شرح سود کا کم ہونا بھی سونے کی قیمت بڑھنے کی مضبوط وجہ ہے۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پوری دنیا میں شرح سود بیک وقت انتہائی نچلی سطح پر چلی گئی ہے۔ بلکہ کچھ ممالک میں صفر کر دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے بینکوں سے سود کی آمدن ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ بعض بینکس اکاونٹ میں رقم رکھوانے والوں سے چارجز وصول کر رہے ہیں۔ میوچل فنڈز، لانگ ٹرم ڈپازٹس جیسی پراڈکٹس بے معنی ہو گئی ہیں۔ ان حالات میں صارفین نے بینکوں سے پیسہ نکال کر سونے میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ سونا واحد دھات ہے جو وقت کے ساتھ ضائع نہیں ہوتی اور پوری دنیا میں بغیر کسی دقّت کے فروخت کی جا سکتی ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو سونے کی قیمت بڑھنے کی بڑی وجہ ٹیکس کا غیر موئثر نظام بھی ہے۔پچھلے سال شبر زیدی نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں سنیاروں کے فائدہ اٹھانے کے لیے ایمرجنسی میں ایک کالم شامل کروایا تھا۔جس میں سونے کی مالیت ظاہر کر کے اس پر ایمنسٹی حاصل کی جا سکتی تھی۔لیکن خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔ چونکہ سونے کی ٹریڈنگ پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اس لیے کالے دھن کا زیادہ حصہ سونے کی خریدوفروخت پر خرچ کیا جارہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ سونے کی ٹریڈنگ کو رجسٹر کر کے اسے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے لیکن کورونا کی وجہ سے اجلاس فی الوقت تاخیر کا شکار ہو گیا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ جلد یا بدیر پاکستان کو سونے کی ٹریڈنگ ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گی۔ اس سے سونے کی مقامی قیمتوں کونیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں سونے کی قیمت کا انحصارکورونا ویکسین پر منحصر ہے۔ اگر روسی ویکسین کامیاب نہ بھی رہی تو امریکی کمپنی موڈرنا کی تیار کردہ ویکسین کے دو کامیاب ٹرائل ہو چکے ہیں اور پندرہ جولائی سے وہ تیسرے ٹرائل میں داخل ہو گئی ہے جو کہ اگست کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے۔ کامیاب ویکسین کی دستیابی کے بعد کاروبار کھلیں گے۔شرح سود اوپر جائے گی۔خالی عمارتیں استعمال میں آئیں گی۔ پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ سونے میں سرمایہ کاری کم ہو گی اور اصل قیمت بحال ہو جائے گی۔


ای پیپر