جشن مادرپدرآزادی! 
15 اگست 2020 2020-08-15

گزشتہ روز ہم پاکستانیوں نے اپنا یوم آزادی ”روایتی جوش وجذبے“ سے منایا۔ یوم آزادی منانے کے لیے پاکستانیوں کا پاکستان میں ”روایتی جوش وجذبہ“ یہ ہوتا ہے وہ اپنے اپنے مکانوں پر پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، جو گاڑیوں، موٹرسائیکلوں پر بھی لہرایا جاتا ہے، بعد میں یہی پرچم جھاڑ پونچھ وغیرہ کے کام آتا ہے، .... اس کے علاوہ ہمارا ”روایتی جوش وجذبہ “ یہ ہے ہماری نوجوان نسل، جسے یہ معلوم ہی نہیں، پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا ؟ اِس کے لیے ہماری ماﺅں، بہنوں اوربیٹیوں نے کیسے اپنی عزتیں اور جانیں لٹائی تھیں؟ کتنا خون بہا تھا؟ کتنا ظلم ہوا تھا؟،.... ہماری نوجوان نسل یہ سب اب جاننے کی ضرورت محسوس کرتی ہے، نہ ہی ہمارے بزرگ اُنہیں اب یہ بتانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، شاید اس لیے بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ آگے سے اُنہیں یہ سننے کو نہ مل جائے ”آپ کیا فضول داستانیں سنا کر ہمارا وقت ضائع کررہے ہیں؟“.... پہلے بچے اور بڑوں اور بزرگوں سے ڈرتے تھے، اب بڑے اور بزرگ اپنے بچوں سے ڈرتے رہتے ہیں، کہیں غصے میں آکر وہ اُنہیں ڈانٹ نہ دیں، اُوپر میں نے ”مکانوں“ پر پرچم لہرانے کی بات کی، میں نے ”گھروں“ پر پرچم لہرانے کی بات اس لیے نہیں کی کہ مکان چھتوں، دیواروں اور فرشوں وغیرہ سے ہوتے ہیں، گھررشتوں سے ہوتے ہیں، جس گھر میں سلوک اتفاق نہ ہو، رشتوں کی قدرواہمیت نہ ہو، باہمی احترام کے جذبے نہ ہوں، وہ گھر نہیں ہوتے مکان ہوتے ہیں، افتخار عارف کی غزل کا یہ خوبصورت شعر ان ہی حالات کی عکاسی کرتا ہے،....”مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے .... میں جس مکان میں رہتا ہوں اُسے گھر کردے“ ۔پاکستان اور قیام پاکستان کے بارے میں کچھ جاننا ہماری نوجوان نسل کے نزدیک وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے، سو ایسے ”فضول کاموں“ میں وقت ضائع کرنے کا ہمارے اکثر نوجوان تصور بھی نہیں کرسکتے، اس سے ہزار درجے بہتر وہ یہ سمجھتے ہیں یہی وقت وہ مختلف اقسام کے عشق ونشے کرنے، اپنے بزرگوں کی بے ادبی و بے عزتی کرنے، خونی واخلاقی رشتوں کو پامال کرنے ناجائز کمائی کے لیے مختلف طریقے سوچنے، ترقی اور منزل تک پہنچنے کے لئے چور دروازے تلاش کرنے کے لیے وقف کردیں، ان حالات میں حضرت اقبالؒ کے نواسے ہمارے محترم بھائی میاں اقبال صلاح الدین اللہ جانے ہر دوسرے چوتھے روز کیسے اتنے نوجوانوں کو ایک مقام پر اکٹھا کرکے اقبالؒکا وہ پیغام ان تک پہنچاتے رہتے ہیں جو اپنی اور اپنے ملک کی تقدیر سنوارنے کے لیے ہی نہیں اپنی آخرت سنوارنے کے لیے بھی نوجوان نسل کو اپنی شاعری میں اُنہوں نے دیا، .... مجھے نہیں معلوم میاں اقبال صلاح الدین کو میری یہ بات اچھی لگے گی یا نہیں ؟ پر میں اس موقع پر یہ حقیقت بیان کیے بغیرہ رہ نہیں پارہا، اقبالؒ کی شخصیت اور شاعری کو زندہ رکھنے کے لیے جتنی محنت یا جو کردار اقبالؒ کے نواسے میاں اقبال صلاح الدین نے کیا، اُس سے آدھا کردار اقبالؒ کے پوتے بھی ادا کرتے خصوصاً اقبالؒ کا فلسفہ خودی اس قدر نوجوان نسل میں رچ بس گیا ہوتا، دولت کے پیچھے بھاگتے ہوئے اکثر نوجوان صرف عزت آبرو کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے،.... جہاں تک ہم پاکستانیوں کے یوم آزادی کو ”روایتی جوش وجذبے“ سے منانے کا تعلق ہے تو یہ ”روایتی جوش وجذبہ“ 13اگست کی رات کو ہی کھل کھلا کر سامنے آجاتا ہے، 13اگست کی رات کو لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی بڑی بڑی سڑکوں وشاہراہوں پر یہ ”روایتی جوش وجذبہ“ اُبل اُبل کر دیکھنے کو مل رہا ہوتا ہے، سڑکوں پر گاڑیوں کے ہارن بجا بجا کر مختلف اقسام کے باجے بجا بجا کر، اور دیگر بہت کچھ بجا بجا کر دوسروں کا سکون وآرام برباد کرنے کا عمل عروج پر پہنچا ہوتا ہے، بے شمار گاڑیوں میں انڈین گانے لگاکر پاکستان کی آزادی کا جشن منایا جارہا ہوتا ہے، اِس روز پاکستان کو مزید گندا کرنے کے عمل کو بھی جشن آزادی کا اک ”حصہ“ سمجھا جاتا ہے، سڑکوں پر بے ہنگم اور اودھم مچاتی ہوئی نوجوان نسل کھانے اور پینے پلانے کے بعد بچ جانے والا کچرا سڑکوں پر پھینکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، علاوہ ازیں سڑکوں پر گاڑیوں سے منہ باہر نکال نکال کر جس انداز میں پان والی و سادہ تھوکیں باہر پھینکی جاتی ہیں اُسے بھی پاکستان سے محبت ہی تصور کیا جاتا ہے، جگہ جگہ تھوکنے کا رحجان جس تیزی سے پاکستان میں بڑھ رہا ہے مجھے لگتا ہے ہر برس بارشوں کی وجہ سے کوئی سیلاب آئے نہ آئے تھوکوں کی وجہ سے ضرور آیا کرے گا، .... یہ جو ہم سب نے مل کر پاکستان کو برباد کردیا یہ اصل میں ہم نے پاکستان سے اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے ہی کیا کیونکہ ہم نے ”پرانے پاکستان“ کی جگہ ” نیا پاکستان “ بنانا تھا جس کے لیے پہلے پرانے پاکستان کو برباد کرنا ضروری تھا، اب نیا پاکستان تو پتہ نہیں بنتا ہے یا نہیں، اللہ کرنے ہمارا پرانا پاکستان ہی بچ جائے، یا ہمیں واپس مل جائے، جس میں رشتوں کی قدرہوتی تھی، بڑوں کی عزت ہوتی تھی، خوف صرف خدا کا ہوتا تھا، شرم وحیا ہوتی تھی، لالچ، ہوس، حرص ، طمع جیسی لعنتیں بہت کم ہوتی تھیں، گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کسی تقریب میں پرانے پاکستان کی ایک اچھائی بیان فرمارہے تھے، کاش میں اُنہیں یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ہوتا ہمیں نیا پاکستان نہیں چاہیے، ہمیں ہمارا بہت پرانا پاکستان کہیں سے ڈھونڈ کر لادیں، وہ پاکستان جس میں سہولتیں اتنی نہیں ہوتی تھیں جتنی محبتیں، محنتیں اور صحتیں ہوتی تھیں، ان تمام نعمتوں سے اب ہم محروم ہوگئے ہیں، اب صرف دماغ کا استعمال ہوتا ہے، وہ بھی اتنا غلط ہوتا ہے کہ ہرشخص دماغی امراض میں مبتلا ہوتا جارہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان ایک ”پاگل خانہ“ ہے، قوت برداشت ختم ہوتی جارہی ہے، فرسٹریشن اتنی بڑھتی جارہی ہے، نوچنے کو کوئی اور یا کچھ اور نہ ملے لوگ خود کو نوچنا شروع کردیتے ہیں، ان بداخلاقیوں میں بہت سا کردار ہمارے میڈیا خصوصاً ہمارے ڈراموں کا ہے، .... پاکستان کی آزادی کے جشن میں کہیں یہ عمل دکھائی نہیں دیتا کہ مسجدوں میں یاگھروں میں اجتماعی یا انفرادی طورپر شکرانے کے نوافل کا اہتمام بھی کرلیا جائے، .... کیا پاکستان صرف ناچ گانے کے لیے، شورشرابے کے لیے، اپنی طاقت یا اختیارات کا غلط استعمال کے لیے دھونس دھاندلی ظلم اور ملاوٹ کے لیے یا رشتوں کی پامالی کے لیے ہی قائم کیا گیا تھا؟ ۔ شکر ہے بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ پاکستان بنانے کے کچھ عرصے بعد ہی وفات پا گئے، ورنہ جوکچھ آج ہم پاکستان کے ساتھ کررہے ہیں وہ اذیت یقیناً اُنہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیتی پاکستان بناکر انہوں نے ٹھیک کیا تھا یا غلط؟ اُنہوں نے ہندوستان سے ہمیں آزادی دلائی ہم اپنی خرابیوں کے غلام ہوکررہ گئے، مجھے تو اس ”غلامی“ سے چھٹکاراحاصل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، جشن ہم شاید اِسی بات کا مناتے ہیں !!


ای پیپر