”لاہور پولیس نہیں بدلے گی ۔۔“
15 اگست 2020 2020-08-15

ہر کسی کو زمانے سے تغیر کا شکوہ ہے کہ وہ دور ہی نہیں رہا، نئے نئے گیجٹس آ گئے اورانداز و اطوار بدلے گئے لیکن اگر کسی نے حرکتوں میں ثبات اور روئیے میں ہٹ دھرمی کی حد تک مستقل مزاجی دیکھنی ہو تو وہ پنجاب پولیس کو دیکھے، میرے شہر کی لاہور پولیس کو دیکھے۔ بڑی بات کیجئے تو اسے سانحہ ماڈل ٹاون بھی نہیں بدل پایا اور چھوٹی بات کیجئے تو اس کی گاڑیاں آج بھی گلبرگ کے علاقے میں سیون اپ پھاٹک کے پاس ، معروف ڈی جے، ڈی جے بٹ کے دفتر سے چند قدم پر اسی غیر تھڑے پر بنے غیر قانونی پٹرول پمپ پر پٹرول بیچتی ہیں جہاں وہ’ نیوز نائیٹ‘ کے وائرل پروگرام سے پہلے بیچتی تھیں۔اس پروگرام کے صرف دو کلپس ہی بیس، بیس ملین کے قریب دیکھے جا چکے ہیں،اسی پروگرام کے آن ائیر ہونے پر سپورٹس بورڈ سمیت دیگر اداروں نے اپنے پٹرول چور ڈرائیور بدل دئیے مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی تو وہ لاہور کی پولیس ہے جس کے سی سی پی او تو بدلتے رہے مگر نہیں بدلے تو کمائی کے اندار نہیں بدلے، شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری نہیں بدلی، انگریز دور کے طریقے نہیں بدلے۔

مجھے یہ احساس اس وقت ہوا کہ لاہور پولیس ایک اور سانحہ ماڈل ٹاون برپا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے جب میں نے اس کے شیر جوانوں کو سابق وزیراعظم کی اس گاڑی پر پتھر برساتے ہوئے دیکھا جس میں ان کی صاحبزادی مریم نواز سوار تھیں۔ انہیں گیارہ اگست کو نیب کے ہیڈکوارٹرز میں خریدی گئی زمین کے بارے میں وضاحتیں دینے کے لئے پیش ہونا تھا اور پارٹی نے ان سے اظہار یکجہتی کے لئے کارکنوں کو ٹھوکر نیازبیگ پہنچنے کی کال دے رکھی تھی۔ میں نے لیگی رہنماوں سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا جواز تھا کہ آپ وہاں پہنچتے۔ سوالوں کے جواب مریم نواز نے دینے تھے ،کیا آپ کی موجودگی شر انگیز نہیں تھی تو اس کی مدلل وضاحت تھی کہ احتساب انتقام بن چکا، جس کی دلیل ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے وہ فیصلے بن چکے جو شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کی ضمانتوں پر دئیے گئے۔ اب ہیومن رائٹس واچ نے باقاعدہ طور پر حکومت کو وارننگ دے دی ہے کہ وہ نیب کو اپنے مقاصد کے لئے حصول کے لئے استعمال نہ کرے لہذا جب ایک سیاسی عمل کی راہ روکنے ہی نہیں بلکہ پولیٹیکل انجیئرنگ کے لئے ایک ادارہ استعمال ہو رہا ہے تو پارٹی کے عہدےد اروں اور کارکنوں کا یہ حق ہی نہیں بلکہ ذمے اری ہے کہ وہ اپنی قیادت سے اظہار یکجہتی کریں۔

مجھے اپنے ملک میں پولیس اور سیاسی کارکنوں کو آمنے سامنے آتے دیکھتے ہوئے طویل عرصہ ہو گیا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ تصادم وہیں ہوتا ہے جہاں انتظامیہ اور پولیس کی مرضی ہوتی ہے ورنہ نہیں ہوتا۔ آپ حالیہ سیاسی تاریخ میں جی ٹی روڈ کی ریلی دیکھ لیں کہ کہیں کوئی توڑ پھوڑ ہوئی ہو۔ آپ مسلم لیگ نون کے رہنماوں کی ہر ہفتے ، دو ہفتے بعد پیشیاں دیکھ لیںوہاں ہزاروں نہیں توسینکڑوں کی تعداد میں کارکن ضرور آتے ہیں مگر وہاں کارکنوں سے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار ہونے کے باوجود کبھی لڑائی نہیں ہوتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ بعض مقامات پر لیگی کارکنوں نے کچھ آگے بڑھنے کی کوشش کی ہو لیکن یہ معاملہ بات چیت سے حل ہوسکتا تھا۔ جہاںتک یہ بات ہے کہ مریم نواز کی سیکورٹی کی گاڑی میں پتھر لائے گئے تو اس کی حقیقت بینش سلیم اپنے پروگرام میں دکھا چکی ہیں کہ سرکاری گاڑی میں سرکاری ملازمین کی موجودگی میں پتھر رکھے جا رہے تھے، بہرحال، یہ پروپیگنڈہ ہے جس کا حق تمام فریقین کو حاصل ہے مگر بنیادی بات یہ ہے کہ پروپیگنڈے کی بنیاد سچ اور ثبوت ہونے چاہئیں جیسے مریم نواز کی گاڑی کے اندر سے بنی ہوئی ویڈیوز صاف ظاہر کررہی ہیںکہ ان کی گاڑی پر پولیس اہلکار پتھراو کر رہے تھے۔حیرت انگیز اور ناقابل یقین بات یہ ہے کہ پتھراو سے اس بلٹ پروف گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی جو عملی طور پر ناممکن ہے۔ یہ بلٹ پروف گاڑی سابق وزیراعظم کے زیر استعمال رہی ہے ۔ یہ شک ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ اس گاڑی پر محض پتھر نہیں برسائے گئے بلکہ گولی بھی چلائی گئی کہ ایک بلٹ پروف گاڑی کی ونڈ سکرین گولی سے ہی ٹوٹ سکتی ہے جس کا مطلب بہت خوفناک ہے۔ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہم نے بہت سارے سیاستدانوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے۔ کیا یہ مریم نواز کو قتل کرنے کی سازش تھی، اس سوال کے ساتھ ساتھ بہت ساری دوسری باتوں کا جواب لاہور پولیس کے سربراہ ہی دے سکتے ہیں جیسے کہ اب تک سامنے آنے والی بہت ساری ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں نے بالکل اسی طرح لیگی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس طرح ان کی ویڈیوز ماڈل ٹاون کی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت پاکستان عوامی تحریک کے کارکن نشانہ تھے اور اس وقت مسلم لیگ نون کے کارکن ہٹ لسٹ پر ہیں۔ پولیس نے مار پیٹ کرتے ہوئے ارکان اسمبلی اور سابق مئیرلاہور سمیت کسی معروف شخصیت کا بھی لحاظ نہیںکیا جس سے ان کے غیض و غضب پر مبنی ایجنڈے کا پتا چلتا ہے۔ یہ کہا جاسکتاہے کہ وہ لیگی کارکنوں کی طرف سے پتھراو اور مزاحمت پر غصے میں تھے مگر معاملہ صرف اتنا نہیں تھا۔ پولیس والے ٹک ٹاک کے مسلم لیگی سٹار سعود بٹ کو پکڑ کے لا رہے تھے اور ان میں نقاب پوش بھی تھے جو کیمروں کی پرواہ، شرم یاخوف کئے بغیر مار رہے تھے۔ پولیس والوں نے کمال چالاکی کے ساتھ کچھ اہلکاروں کی پتھروں سے زخمی ہونے کی ویڈیوز جاری کی ہیں مگر حیرت انگیز پرہسپتال پہنچنے والے تمام اہلکار وں کے صرف پاوں زخمی ہوئے ہیں، یہ کیسا مودبانہ اور خاکسارانہ پتھراو تھا جس نے کسی کا سر نہیں پھاڑا، صرف پیر زخمی کئے جو بھاری بوٹوں میں محفوظ ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف تمام سیاسی کارکنوں کے سر، چہرے، سینے، بازووںاور ٹانگوں پر زخم آئے۔

سوال پھر یہی ہے کہ لاہور پولیس کس کے حکم پر یہ سب کر رہی تھی تو ایک مرتبہ پھر اس کاجواب سی سی پی او لاہور ہی دے سکتے ہیں جن کی کارکردگی کے بارے میں ’ڈان‘ میں ایک ہوش رُبا خبر شائع ہوئی ہے۔ میںسینئر صحافی آصف چوہدری کی گواہی مانتا ہوںکہ ذوالفقار حمید اچھے آدمی ہیں مگر بات پروفیشنل ازم اور نتائج کی ہے۔ انہی کے الفاظ میں بطور سی سی پی او لاہور ان کی تعیناتی ایک اچھا تجربہ نہیں رہا، اس سے نہ صرف لاہور پولیس کا امیج خراب ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کی جان و مال بھی محفوظ نہیں۔ بات صرف اب کی نہیں بلکہ پچھلی پانچ میٹنگوں میں ہی لاہور پولیس کی کارکردگی بہت بری رہی ہے۔ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی میٹنگوں میں ہر ضلع کو اس کی کارکردگی پر پوائنٹس دئیے جاتے ہیں۔ جب جھنگ نے 80بہاولنگر نے 58، چنیوٹ نے 56، خانیوال نے 53 اور اوکاڑہ نے49 پوائنٹسحاصل کئے تو صوبائی دارالحکومت کی بہترین بجٹ اور وسائل کے ساتھ پولیس کے پوائنٹسآپ کو علم ہے کہ کیا تھے، وہ زیرو بھی نہیں تھے،وہ نیگیٹو19 پوائنٹس تھے جو ایک شرمناک صورتحال ہے۔ یہ بات صرف ایک میتنگ کی نہیں بلکہ مسلسل پانچ میٹنگوںمیں یہ ہوتا آ رہا ہے اور سی سی پی او اس سے پہلے کہتے رہے ہیںکہ اعداد و شمار ہی غلط ہیں مگر اب وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور راولپنڈی پولیس نے اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے، شائد، یہ اضلاع ایسے ہوں جہاں کے سربراہ سرکاری گاڑیوں سے چوری کا پٹرول بیچے جانے کی ناقابل تردید شہادت آنے پر اس حرام کی کمائی سے دستبردار ہوجاتے ہوں مگر یہاں لاہور میں ایسا نہیںہے، یہ نہیں بدلتے، پکے رہتے ہیں، کماتے رہتے ہیں۔

میں نہیںجانتا کہ سیاسی کارکنوںپر فائرنگ، شیلنگ اور بے شرمانہ تشدد کے کوئی نیگیٹیو پوائنٹس ہیں یا نہیں، اگر نہیں ہیں تو ہونے چاہئیں کہ ایسے ہی یہ پولیس اپنے منہ پر تاریخ کی بدترین کالک مل چکی ہے۔ پولیس کو اپنا اندرونی احتساب کرنا ہو گا ورنہ یہ محکمہ اسی کارکردگی کے ساتھ محض سرکاری بدمعاشوں، کرائے کے قاتلوں، قبضہ گروپوں اور بھتہ گیروں کا محکمہ بن کے رہ جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ لاہور پولیس کے شیر جوانوں نے جو کارکردگی سیاسی کارکنوںپردکھائی اس کے نتیجے میں پولیس کی ساکھ کی چاہے ایسی تیسی ہوجائے ہمارے سی سی پی او ناقص ترین کارکردگی کے باوجود اپنی پوسٹ بچانے میں کامیاب ہوجائیںگے اور یہ اس پولیس کی واحد کامیابی ہو گی جو انگریز دور سے حاکموں کے ہاتھ کی چھڑی رہی ہے اور اس نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ خود کو بدلنا نہیں ہے۔


ای پیپر