کراچی میں سیلابی صورت حال کی وجوہات
15 اگست 2019 2019-08-15

حالیہ بارشوں کے دوران کراچی کو سیلابی صورتحال کا سامناکرنا پڑا۔ بجلی کے کھلے تاروں اور کھمبوں سے کرنٹ لگنے کے سبب کم سے کم 18 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر بچے تھے۔آج سے تقریباً دس سال قبل یعنی 2009 میں کراچی میں شدید بارش ہوئی تھی جس میں 26 افراد جاں بحق ہوگئے تھے ۔ جبکہ یہ شہر 2010 سے 2013 تک تین سال بارش کی زد میں رہا۔گزشتہ برسوں کے دوران اموات کی بڑی وجہ عمارتوں یاگھر وں کاگرنا ۔ اب بجلی کا کرنٹ لگنا وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔2017 میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے مرنے والوں کی تعداد 23 تھی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ معمول کا مون سون ہے، پاکستان میں مون سون بارشیں یکم جون سے لیکر 30 ستمبر تک ہوتی ہیں، گذشتہ برسوں میں بارشیں کم ہوئی تھیں اس لیے لوگوں کی نظر میں یہ بارشیں غیر معمولی ہیں۔ کراچی اتنی بڑی آبادی والا اور پچاس کلومیٹر پر پھیلا ہوا شہر ہے جس کو ایک انتظامی یونٹ سمجھ کر چلایا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا یا مین اسٹریم میڈیا پر ڈیفنس، کلفٹن کے علاقوں کو زیادہ متاثرہ دکھایا گیا ہے۔ لیکن لیاری اور ملیر ندیوں کی گود میں آباد بستیوں کوسوشل میڈیا پر جگہ مل نہ سکی کیونکہ یہاں دہاڑی کے کمانے والے مزدور اور اسی طرح کے مزدورجھگیاں ڈال کر رہتے ہیں ، یہ سوشل میڈیا کی دنیا اسے الگ دنیا ہے۔ غریب ترین لوگ رہتے ہیں۔

کراچی میں حالیہ صورتحال کے لئے صرف بارش وجہ نہیں۔اصل وجہ پانی کی نکاسی ہے۔ نکاسی کے اس عمل کو سمجھنے کے لئے پرانے برساتی نالوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ لیاری ندی پہلے صرف برساتی ندی تھی جو کیرتھر کے پہاڑی سلسلے سے نکلتی ہے اور اس کا اختتام سمندر میں ہوتا تھا، ۔ پھر کراچی میگا سٹی بنا اور اس میں سیوریج کا پانی شامل کر دیا گیا اور لوگوں نے گھر بنانا شروع کر دیے جس سے ندی کے بہاؤ میں رکاوٹ آتی گئی۔ ایک طرف پہاڑوں سے آنے والا بارش کا پانی دوسری طرف آبادی اور شہری برساتی پانی دونوں ندیوں میں طغیانی کا سبب بنتاہے ۔چند ماہ پہلے سپریم کورٹ کے احکامات پر ناجائز تجاوزات ہٹائے گئے تو کراچی شہر میں اورنگی نالہ ، شیر شاہ نالہ ، گجر نالہ اور نہر خیام سمیت 41 بڑے نالے بازیاب ہوئے جن کی نکاسی لیاری ندی اور ملیر ندی سمیت سمندر میں ہوتی ہے۔

تجاوزات تو ہٹالئے گئے لیکن برسہا برس سے بند نالوں کی صفائی نہیں کی گئی۔ گند کچرے کے انبار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بارش کے دوران بھی موسیٰ کالونی میں دو مشینوں کی مدد سے گجر نالے سے پورے طور پرکچرا نہیںنکالا جا سکا ۔ یہ کچرا کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے جس نے پانی کے بہاؤ کو روکے رکھا ۔ نالوں کی گزرگاہیں وقت کے ساتھ قانونی اور غیر قانونی تجاویزات کی وجہ سے سکڑ گئی ہیں، زیادہ تر علاقوں کے اطراف میں کیونکہ آبادیاں ہیں اس وجہ سے وہاں پر ندی نالوں پر دباؤ آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر چھ ماہ کے بعد نالوں کی مرحلہ وار صفائی کا سلسلہ اب تقریباً ختم ہو گیا ہے۔جہاں برساتی نالوں کی نکاسی ہوتی تھی وہاں بھی قبضے ہوگئے ہیں اور اس وجہ سے پانی جس رفتار سے گزرتا تھا اس میں کمی آ چکی ہے۔

شہر بہت پھیل گیا ہے، اس کے مطابق انفراسٹرکچر میں توسیع نہیں کی گئی۔ برساتی نالے بند کر دیے گئے اور ان پر تجاوزات آ گئیں، اب وہ صاف نہیں ہو رہے جس سے پانی کا بہاؤ متاثر ہواَ، شہر کو گندہ کرنے میں اداروں کے ساتھ ساتھ خود شہریوں کا بھی کردار ہے۔ جس کی وجہ سے خود شہری مصیبت میں آجاتے ہیں۔

جب بھی شہری سہولیات کے حوالے سے مصیبت آتی ہے توتان آکر کراچی بلدیہ پر یا پھر سندھ حکومت پر ٹوٹتی ہے۔ جبکہ اس صورتحال کے لئے کم از کم درجن بھر ادارے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ کراچی میں بلدیاتی نظام کے علاوہ کلفٹن، کراچی ، فیصل، کورنگی، ملیر اور منوڑہ کے نام سے کنٹونمنٹ بورڈز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کراچی پورٹ ٹرسٹ جیس، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اتھارٹی ، کراچی بلڈنگ کنٹرول، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی موجود ہیں جو اپنے نظام خود چلاتے ہیں اور ان کا اپنے سینیٹری اور دوسراسٹاف ہے۔برسات کے دنوں میں ان اداروں کا نہ عملی کام نظر آتا ہے اور نہ ہی ان پر بات آتی ہے۔ یہ سب ادارے اپنے ماتحت علاقوں کا کوڑا کرکٹ کہاں پھینکتے ہیں؟ کسی کو نہیں معلوم۔ اگرچہ کینٹونمنٹ بورڈز، ڈی ایچ اے، کراچی پورٹ ٹرسٹ وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔لیکن چونکہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کو تنقید کا نشنہ بنانا چاہتی ہے اور کراچی میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنی ہے ، لہٰذا سندھ حکومت کو ٹارگٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ کراچی کے میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کوئی کام نہیں کر رہے، ان کا بہت برا حال ہے۔ ’ان کے پاس پانی کی نکاسی کی چالیس مشینیں ہیں جو کہیں نظر نہیں آئیں۔ اس طرح ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا بھی برا حال ہے۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے میئر وسیم اختر اختیارات اور وسائل نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کراچی واٹر بورڈ اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ان کے حوالے کیا جائے۔صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ برساتی نالوں کی صفائی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے جس کے لیے انھیں فنڈز بھی جاری کیے گئے تھے۔

بلدیہ کراچی سرکاری طور پر کہتی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے واٹر کمیشن کی ہدایت پر بلدیہ نے شہر کے 38 بڑے نالوں کی صفائی کا کام کیا ۔ یہ سوال ہے کہ کیا واقعی ان نالوں کو صاف کیا تھا؟ ۔ کچرے کی تلفی کے بہترنظام کی ضرورت ہے ۔سالڈ ویسٹ ان نالوں میں آجاتا ہے جس کو اٹھانے کی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ کی ہے۔ حکومت سندھ نے سالڈ ویسٹ اٹھانے کے لیے ایک آزاد ادارہ تشکیل دیا تھا جس نے ایک چینی کمپنی اور چند نجی کمپنیوں کے مدد سے کچرا اٹھانا تھا لیکن یہ ادارہ کامیاب نہیں ہو سکا جس کا اعتراف وزیر بلدیات سعید غنی بھی کرچکے ہیں۔

بہت سارے ادارے ہونا اور ان کا ایک دوسرے کے آسرے پر رہنا یہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا ہی اصل مسئلہ ہے جو کراچی کو سیلابی صورتحال میں لے گیا۔


ای پیپر