ڈارون کا سچ
15 اگست 2019 2019-08-15

'In the struggle for survival the fittest win out at the expense of their rivals because they succeed in adapting themselves best to their environment.'

ایک طرف رکھئے ڈارون کے اس فلسفے کو جس میں اُس نے کہا تھا کہ انسان بندر کی ارتقائی شکل ہے۔ مگر اُس کی تھیوری جس کا مطلب ہے ’’زندگی جینے کی دوڑ دھوپ میں زندگی گزارنے کے تقاضوں کو کامیابی سے پورا کرنے والے اپنے مقابلے کے کمزوروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیاب ہوتے ہیں‘‘ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مکمل طور پر تو نہیں مگر نزدیک نزدیک اردو میں اس کا کوئی محاورہ مطلب پورا کرسکتا ہے تو وہ ہے ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔‘‘ ٹھیک ہے کہ دنیا میں طاقتور کامیاب ہے، لیکن اصل المیہ یہ ہے کہ وہ کمزوروں کے حصے کی خوراک کھا کر کامیاب ہے۔ انسانوں کے مقابلے میں جانوروں پہ یہ کلیہ جسمانی طور پر طاقتور ہونے کی صورت میں لاگو ہوتا ہے۔ مگر انسانوں کی بات کی جائے تو طاقتور ہونے کا بڑا مطلب دولت مند ہونا ہے۔ گویا زندگی جینے کی دوڑ دھوپ میں دولت مند کامیاب ہیں۔ اور اسی کلیہ کے مطابق وہ غریبوں کی کمائی مسلسل لوٹتے ہوئے کامیاب ہیں۔ اور وہ جو بالزیک نے کہا ہے: 'Behind every great fortune there is a crime.' یہ کہ ’’ہر بڑی خوش قسمتی کے پیچھے کوئی جرم پوشیدہ ہوتا ہے۔‘‘ آپ جب کسی دولت مند سے اس کی دولت کے بارے میں استفسار کریں گے تو وہ بتائے گا کہ یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے۔ کیا کوئی سمجھائے گا کہ محنت کیا ہوتی ہے؟ یہ کس چڑیا کا نام ہے۔ کیا بڑی بڑی پارٹیوں میں مدعو کیے ہوئے اپنے پیٹی بھائیوں کے ساتھ جام نوشی کرتے ہوئے سودے طے کرنے کو محنت کہتے ہیں۔ اور وہ جو مزدور دن بھر اینٹیں اٹھاتا ہے ، شام کو اس کی دیہاڑی پہ تکرار ہوتی ہے، اس کا کام کیا کسی محنت کے زمرے میں نہیں آتا؟ ان کے لیے انقلابی شاعر اور ادیب لکھتے تو بہت کچھ ہیں۔ وہ کہتے ہیں ؎

جشن بپا ہے کٹیائوں میں، اونچے ایواں کانپ رہے ہیں

مزدوروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطان کانپ رہے ہیں

شور مچا ہے بازاروں میں ٹوٹ گئے در زندانوں کے

واپس مانگ رہی ہے دنیا، غضب شدہ حق انسانوں کے

کانپ رہے ہیں ظالم سلطاں ٹوٹ گئے دل جباروں کے

بھاگ رہے ہیں ظل الٰہی منہ اترے ہیں غداروں کے

جی ظل الٰہی بھاگ گئے، مگر وہ غریب غرباء کے رد عمل سے نہیں بھاگے، وہ تو اپنے سے بڑی طاقت کی زور آوری سے بھاگے اور وہ پھر واپس آگئے۔ وزرائے اعظم اور صدور کا بھیس بدل کر۔ ان کے لگے سگے بھی واپس آگئے۔ جاگیرداروں اور کاروباری شخصیات کے روپ میں۔ اور وہ جو شاعر کہہ رہا ہے کہ ’جشن بپا ہے کٹیائوں میں‘ تو اگر وہ کٹیائوں میں بھوک سے بلکتے بچوں کے رونے کو جشن کہنا چاہ رہا ہے تو کہتا رہے۔ اور وہ تو پھر یہ بھی کہتا ہے ؎

جمع ہوئے ہیں چوراہوں پر آکے بھوکے اور گداگر

ایک لپکتی آندھی بن کر، ایک دہکتا شعلہ بن کر

کاندھوں پر سنگین کدالیں، ہونٹوں پر بے باک ترانے

دہقانوں کے دَل نکلے ہیں، اپنی بگڑی آپ بنانے

تو جمع ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں چوراہوں پر بھوکے اور گداگر۔ اور وہ مزدور جو کدالیں وغیرہ اٹھا کر جلوس نکالنے کو نکلے ہیں تو وزیراعظم ہائوس تو کیا وہ کبھی اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ کو عبور نہ کرسکیں گے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آئس لینڈ کے وزیراعظم نے تو استعفیٰ دے دیا۔ تو پھر پاکستان کیسے بچ سکتا ہے۔ جناب یہاں پہ بھینس اسی کی ہی جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے۔ وہ اس ڈنڈے سے عدالتوں کو بھی ہانک رہا ہے۔ عوام تو بھلا ہیں کس کھیت کی مولی۔ اور رہے حزب اختلاف کے سیاستدان، تو وہ جناب وزیر اعظم کی ایک پیار کی نظر کی مار ہیں۔ وزیر اعظم بس ذرا سا اشارہ دے دیں کہ وہ ان سے چائے پر ملنا چاہتے ہیں۔ پھر دیکھئے ان کی بے صبریاں اور آنیاں جانیاں۔ فوراً کوشش کریں گے کہ اخبار میں ہونے والی ملاقات کی خبر لگ جائے۔ پھر سب سے بڑی تلخ حقیقت کہ انتخابات کروالیں، یہی لوگ اسی تناسب سے پھر کامیاب ہوجائیں گے۔ عوام دھوپ میں لگ کر انہی کو ووٹ دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ

ان بڑوں نے اپنی برسوں کی ریاضت سے عوام کے ذہن مفلوج کردیئے ہیں۔ وہ اپنی بدحالی میں مست ہیں۔ وہ تنگ آکر خود کشی تو کرسکتے ہی لیکن علم بغاوت بلند کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ اب جو سیلفیوں کا رواج چل نکلا ہے تو وہ ان بڑوں کے ساتھ سیلفی بنوالینے کو اپنی ترقی کی معراج سمجھتے ہیں۔ یہ عوام اس ہجوم کی مانند ہیں جو ایک ایسا پل پار کررہا ہے جس کے داخلے کے راستے پہ بیٹھا دربان انہیں دو جوتے مار کر گزرنے کی اجازت دے رہا تھا۔ گزرنے والوں کا رش بہت زیادہ تھا۔ تنگ آکر انہوں نے ایک مطالبہ کردیا۔ انہوں نے حاکموں سے درخواست کی کہ حضور جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھادی جائے کہ ہم جلدی پل پار کرلیں۔ تو یہ ہے اپنے وطن کی عوام کی سوچ کی پہنچ۔ ان میں سے کوئی بھی ملک کا سربراہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میراثی صاحبان سے معذرت کرتے ہوئے ایک لطیفہ پیش کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ ایک میراثی کے بیٹے نے اس سے پوچھا کہ اگر گائوں کا چودھری مرجائے تو پھر کون چودھری بنے گا۔ میراثی نے جواب دیا اس کا بیٹا۔ میراثی کے بیٹے نے پوچھا کہ اگر بیٹا بھی مر جائے تو؟ میراثی نے جواب دیا، اس کا دوسرا بیٹا۔ بیٹے نے پوچھا کہ اگر وہ بھی مر جائے اور یہ کہ باقی کے سب ہی بیٹے بھی مرجائیں تو۔ میراثی نے جواب دیا کہ تب چودھری کا نزدیکی رشتہ دار۔ بیٹے نے پوچھا اگر وہ بھی مر جائے تو؟ میراثی بیٹے کی دل میں چھپی خواہش کو سمجھ چکا تھا۔ تب اس نے کہا ’’میرے بیٹے اگر پورا گائوں بھی مرجائے تو تُو تب بھی چودھری نہیں بن سکے گا۔‘‘

مگر ہمارے عوام تو خواہش ہی نہیں رکھتے۔ وہ تو صرف جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائے جانے پر مصر ہیں۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ کہا کا مہر کنور اور کہاں کی تنویریں کہ بام و در پہ سیاہی جھلک رہی ہے ابھی۔

تھوڑی دیر کے لیے پلٹے ہیں ڈارون کے survival for the fittest والے نظریئے کی جانب۔ تو پھر طریقہ یہ ہے کہ عوام بھی fittest ہونے کی جانب بڑھیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ وہ بڑے اور لمبی لمبی قلانچیں لیتے ہوئے fittest کے نشان کی جانب بڑھ جائیں گے۔ اس لیے کہ تیز رفتاری فراہم کرنے والے ذرائع ان کے قبضے میں ہیں۔ عوام کے دلوں میں انہوں نے چانکیہ فلاسفی کے خلاف نفرت پید اکردی اور خود نہ صرف چانکیہ فلاسفی کو پڑھا بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہوئے Divide and Rule کا خوب استعمال کیا۔ انہوں نے عوام کو صوبائیت میں بانٹا، مذاہب میں بانٹا، فرقہ واریت میں بانٹا اور پھر سیاسی وابستگی میں بانٹا۔ عوام نے اسی تقسیم کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا۔ یوں عوام کا سفر ایک دائرے کی صورت میں گھومنے تک محدود ہوکے رہ گیا ہے۔ جبکہ یہ بڑے ایک خط مستقیم کی شکل سیدھا اوپر کی جانب سفر کرتے ہوئے عوام کی زمان و مکان کی قید سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔


ای پیپر