370 اور 35 اے کا خاتمہ بھارتی دہشت گردی کی انتہا
15 اگست 2019 2019-08-15

مقبوضہ کشمیر کے عوام کی انفرادیت اور خصوصی حیثیت کو تحفظ دینے کی کوششوں کا آغاز 92 سال قبل 1927ء اور پھر 1932ء میں ہندو ڈوگرا شاہی کے سرکاری احکام میں ہوا اور ریاست کے پشتینی باشندوں کو ریاست میں دائمی سکونت اور غیر منقولہ جائیداد کے حصول کا بلا شرکتِ غیرے قانونی حق حاصل ہوا۔ ریاست جموں و کشمیر کے ہندو ڈوگرا حکمران کی اس حوالے سے نیت صاف نہیں تھی بلکہ اس کا پس منظر یہ تھا کہ جموں سے تعلق رکھنے والا ہندو ڈوگرا ریاست جموں و کشمیر کے جموں خطے سے ملحقہ ریاست پنجاب کے مسلمان نوں کی جموں میں نقل مکانی اور سکونت پر روک لگانا چاہتا تھا، اس لئے اس نے ریاست جموں و کشمیر میں ایسا قانون لاگو کیا تھا کہ جس کے تحت بادی النظر میں ریاست کے مستقل باشندوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا تھا لیکن اس کے اصل مقاصد ریاست جموں و کشمیر کے جموں خطے میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ جانے اور ان کی تعداد میں کسی ممکنہ اضافے کو روکنے کے لئے ریاستِ پنجاب کے مسلمانوں کی ریاست جموں و کشمیر میں نقل مکانی اور غیر منقولہ جائیداد کے حصول میں قانونی روک لگانا تھا۔ لیکن قدرتی طور پر برصغیر کی تقسیم کے بٹوارے کے بعد یہ قانون مسلمانوں کے حق میں چلا گیا اور 1949ء میں کشمیر ایکٹ 370بھی شامل ہو گیا جس کے تحت ریاست اپنا آئین بنا سکتی ہے اور اپنا علیحدہ جھنڈا بھی۔ ان دونوں شقوں کی موجودگی میں ہندوؤں کی کشمیر کی جانب نقل مکانی ممکن نہ رہی یہی بات بھارت کے لئے بڑی پریشان کن تھی کہ وہ کیسے وہاں مسلمان آبادی کے مقابلے میں ہندوؤں کی آبادی بڑھائیں۔ اگر چہ کانگرس کے دورِ اقتدار ہی سے دفعہ 35 اے کے خلاف آوازیں اٹھ رہی تھیں لیکن باضابطہ طور پر یہ آرٹیکل تب سے عتاب میں ہے جب 2014ء کو دہلی میں مودی کی حکومت بنی ہے۔

اگر تاریخی طور پر مشاہدہ کیا جائے تو اپنے جماعتی منشور میں کسی بھارتی پارٹی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بین الاقوامی تنازعے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے حکومت کی ان ظالمانہ پالیسیوں پر تنقید کی جن کے تحت بے گناہ کشمیریوں کو فوجی بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شروع دن سے ہی بھارت کی سیاسی جماعتوں میں اس بات پر مکمل اتفاق رہا ہے کہ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت کسی صورت نہیں دیا جائے گا اور پوری ریاست کو پچھلے 72 سالوں سے بزورِ طاقت بھارت کا اٹوٹ انگ بنا کر رکھا جا رہا ہے۔ بھارت کے سیاستدان، دانشور، ادیب صحافی اور سرکاری عہدیدار کئی معاملات میں جرأت اور آزادی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں مگر جموں اور کشمیر کے مسئلے پر ان کی زبان اور قلم سے کبھی کوئی ایسا لفظ نہیں نکلا جس سے یہ پتہ چلتا کہ انہیں کشمیری عوام پر جو گزر رہی ہے اس کا کوئی احساس ہے۔ اگر ہم بھارتی جنتا پارٹی کے عروج کی بات کریں تو اس کے ووٹوں کے پیچھے صرف مسلم اور پاکستان دشمنی ہے۔ بی جے پی اس وقت بھارت کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس جماعت کے پیچھے آر ایس ایس اور ہندو توا کا بنیادی منشور بھارت کو مکمل طور پر ہندو دیش بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اس جماعت کے لئے ان تمام نشانات کو مٹانا ضروری ہے جو بھارت کی ہندو تاریخ یا پہچان کو کسی طرح بھی مجروح کرتے ہوں۔ جس کی ابتداء اس نے ایودھیا میں بابری مسجد کو گرا کر کی تھی۔ بھارتی آئین کے مطابق بھارت کے ہر شہری کو برابر حقوق حاصل ہیں اور آئینی طور پر بھارت میں سیکولر اور جمہوری حکومت کے علاوہ اور کسی طرزِ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ بھارت جمہوری ریاست ہونے کا بہت واویلہ کرتا ہے لیکن اس کا جمہوری اور سیکولر روپ ہمیشہ رسمی اور غیر حقیقی ثابت ہوا ہے۔ اکثر ہندو آج بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے ایک الگ تشخص کو اس بنیاد پر رد کر دیتے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق نچلی ذاتوں سے تھا۔ ان کے خیال کے مطابق مسلمان حکمرانوں بالخصوص مغلوں کے زمانے میں بہت سے لوگ اپنے اصل مذہب سے منحرف ہو کر مسلمان ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں ایک منحرف گروہ ایک قوم ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا ہے۔

آزادی کے بعد بھارت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ لیا اور اس پر سیکولرازم کا پردہ ڈال لیا۔ یہ لبادہ بھارت نے اپنی ہندو شناخت کو چھپانے کے لئے پہنا تھا۔ جب تک کانگرس کا دور رہا یہ لبادہ بھی کچھ کام کرتا رہا لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں سے یہ علامتی سا لبادہ بھی بی جے پی نے اتار پھینکا ہے۔ جس کے روحِ رواں انتہا پسند ہندو ہیں جو صرف ہندو مت کا پرچار اور ہندو مذہب کی تاریخی تہذیب کا احیاء چاہتے ہیں اور بھارت نے سیکولرازم کو چھوڑ کر اسی ایجنڈے کو شناخت بنا لیا ہے اور اسی ایجنڈے کو بھارتی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ووٹ دے رہے ہیں۔ بی جے پی نے سیکولرازم کی جگہ بھارتی عوام کو ہندو ازم کے جنون میں مبتلا کر دیا ہے اور بھارت مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے سنگین مسائل پیدا کر دئے ہیں اور کشمیر میں حالیہ 370اور 35-A کا خاتمہ اسی کی کڑی ہے یعنی بھارت میں ہندو راج قائم کیا جائے گا یہاں سیکولر ازم یا جمہوریت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے جو ہندو دھرم سے تعلق نہیں رکھتا اسے یا تو مار دیا جائے گا یا پھر اسے یہاں سے بھگا دیا جائے گا۔

موجودہ حالت میںمسئلہ کشمیر کی صورتحال مختلف رخ اختیار کر گئی ہے اور اس کے ساتھ بین الاقوامی دباؤ پاکستان سے بھارت کی جانب منتقل ہو گیا ہے کیونکہ بھارت نے اقوامِ متحدہ میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے حوالے سے کئے گئے وعدے سے انحراف کیا ہے جس کا روحِ رواں بھی بھارت ہی ہے۔

موجودہ سنگین صورتحال میں پاکستان کے پالیسی سازوں کو کشمیر کے مسئلہ پر ایک اختراعی اور فعال حکمتِ عملی اور سفارتی تزویر کاری عمل میں لانی ہو گی۔ پاکستان کو ایک نئی سٹریٹجی تشکیل دینی ہو گی۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو ایک طرف تو جنگ سے بچنا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کو ہر طرح سفارتی مدد بھی فراہم کرنی ہے تا کہ بھارت کشمیریوں کے احتجاج پر انہیں ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنا سکے۔


ای پیپر