سرحدی کمیشن کی سازش سے کشمیر ہم سے الگ ہوا
15 اگست 2019 2019-08-15

مسئلہ کشمیر کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے رائے شماری۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیر پر ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر حملہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل اور دنیا کو چیلنج کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ کشمیر میں بہنے والے لہو کے چھینٹے ہمارے دلوں پر گرتے ہیں۔

گزشتہ روز پاکستان کا یوم آزادی اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا گیا کہ ہم کشمیر کے بغیر اور کشمیر ہمارے بغیر نامکمل ہے۔ لہذا ہم ہر قیمت پر کشمیریوں کو اپنا بنائیں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نے کشمیر میں جو گھناؤنا کھیل کھیلا ہے اس کے بعد جشن آزادی کی تقریبا ت میں کشمیری یکجہتی پروگرام بھی شامل ہوگئے۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے خاص طورپر آزادکشمیر گئے اور وہاں انہوں نے پارلیمنٹ اور کشمیری عوام سے خطاب کیا۔ ہر فورم پر جشن آزادی تقریبات میں پاکستان کے ساتھ کشمیر کا ذکر بھی ہوا ۔

جشن آزای کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب جو کہ بزم اقبال پنجاب ، ادارہ ثقافت اسلامیہ کے مشترکہ پلیٹ فارم سے منعقد کی گئی، میںپرچم کشائی کی باوقار تقریب کے بعد ایک مجلس مذاکرہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بزم اقبال پنجاب کے ڈائریکٹر ، سینئر صحافی، تحریک پاکستان کے کارکن ریاض احمد چودھری نے کہا کہ پاکستان 30 لاکھ مسلمان عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کی قربانیوں کا بے مثل تحفہ ہے۔ جو قائد اعظم ؒ کی قیادت میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا۔ منٹو پارک لاہور میں جو خواب دیکھا گیا اس کی تعبیر محض سات سال بعد عملی طورپر قیام پاکستان کے طورپر ملی۔

منٹو پارک میں قرارداد کی صورت میں فیصلہ ہوا تھا کہ شمالی ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد اسلامی ریاست قائم کی جائے گی ۔ قائد اعظمؒ نے سات سال کے عرصے میں اپنی شبانہ روز جدوجہد سے 14 اگست 1947 کے روز مسلمانان ہند کا یہ خواب پورا کر دیا ۔ ہندو پریس ، ہندوؤں اور سکھوں کے اخبارات نے اس قرارداد کے خلاف منفی کردار ادا کرتے ہوئے قرارداد لاہورکو قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ غیر مسلم اخبارات کی شدید مخالفت نے برصغیر کے مسلمانوں کے اندر بے پناہ جو ش و خروش پیدا کیا چنانچہ انگریز 3 جون 1947 کو قیام پاکستان کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے۔

اس تاریخی موقع پر قائد اعظمؒ نے آل انڈیا ریڈیو سے جو تقریر ارشاد فرمائی اس کو سن کر برصغیر کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انگریزوں نے قیام پاکستان کے وقت ضلع گورداسپور اور پنجاب کی سرحد کے ساتھ کئی مسلم اکثریتی تحصیلوں کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا مگر سرحدی کمشن کے سربراہ ماؤنٹ بیٹن نے سازش کی وجہ سے ضلع گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کر دیا ۔ یوں اس نے کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ریل اور سڑک کے ذریعے رابطہ اور راستہ فراہم کیا۔ قادیانیوں نے سر ظفراللہ خان کی قیادت میں گورداس پور کو مشرقی پنجاب میں شامل کرنے کے لئے تحریک چلائی تاکہ تحصیل بٹالہ میں قادیان سیکولر بھارت میں شامل رہے۔

ہندوستان نے اکتوبر 1947 میں فضائی راستے سے چھاتہ بردار فوج کشمیر میں اتار دی۔ اس وقت جب پاکستانی مجاہدین سرینگر کی سرحدوں تک پہنچ چکے تھے تو پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ اٹھایا ۔ اس وقت سلامتی کونسل میں نہرو نے یہ یقین دلایا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائیگا۔ سلامتی کونسل نے یکے بعد دیگرے دو قراردادیں منظور کیں کہ کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ استصواب رائے سے ہوگا اس موقع پر ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور ذیلی دفعہ 35-A کے تحت خصوصی حیثیت دی لیکن اب مودی نے نہرو اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے کشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کر دیا۔

راقم الحروف نے بھارت کو خبردارکیا کہ موجودہ حالات میں ہماری امن پسندی کو بھارت کمزوری نہ سمجھے لہٰذا ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ دو ملکوں کی جنگ نہیں رہے گی بلکہ خطہ اور دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔ کشمیری ہمارے اور ہم ان کے ہیں، ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور ان کی آنکھ سے بہنے والا آنسو ہمارے دل میں گرتا ہے۔بھارت نہ بھولے کہ کشمیر کے تین فریق ہیں۔ پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام۔ ہم کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں۔

آج ان عظیم شخصیات سے یوم تشکر کا دن بھی ہے جن کی بدولت آج ہم آزاد فضاء میں سانس لے رہے ہیں۔ آج کا یوم آزادی یوم یکجہتی کشمیر بھی ہے۔ ہم ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ آج ہم جو کچھ ہیں اس وطن کی وجہ سے ہیں اور ہمیں اس کی حفاظت اور تعمیر و ترقی کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دینا چاہئے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونیوالا یہ ملک تا قیامت قائم ودائم رہے گا۔ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، کشمیر بہت جلد پاکستان کا حصے بنے گا۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

آج ہم سب مل کریہ عہد کریں کہ تمام باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کے سچے خدمتگار بنیں گے۔ یہ مجلس مذاکرہ مودی کے اس اقدام کی شدید ترین مذمت کرتی ہے اورنعرہ حق بلند کرتی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔تقریب سے راقم الحروف کے علاوہ قاضی جاوید ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ، میڈم پروین ملک اور آرٹسٹ اسلم کمال نے بھی خطاب کیا۔


ای پیپر