جتا کے ہم کو وہ ہجرت ہمارے پرکھوں کی
15 اگست 2019 2019-08-15

قارئین! اس وقت میری آنکھیں تر ہیں، دامن تر ہے، جگر چھلنی چھلنی ہے اور رہ رہ کر ہمیں قیام پاکستان کے وقت دی گئی قربانیاں یاد آ رہی ہیں۔ لاشے ہی لاشے میرے شعور میں بکھرے ہوئے ہیں۔ خون کی ندیاں دماغ کے نہاں خانوں میں بہہ رہی ہیں۔ بھوک پیاس سے بلکتے ہوئے بچے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پائوں سے ننگے بزرگ، نہتی بہنیں مائیں نوحہ کناں نظر آ رہی ہیں اور ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ مہاجر ہیں اور اپنا پاکستان ادھر چھوڑ کر آئے ہیں۔ عمرِ بیکار تینتیس سال ہوئی تو شادی ہو گئی۔ آخر ہونی تھی بلکہ یہ ’’انہونی‘‘ بھی ہونی تھی۔ کافی عرصہ بے کاریوں اور چھوٹے چھوٹے معاشقوں میں گزر چکی تھی۔ شادی کے بعد جب سسرال آنا جانا شروع ہوا تو میں نے اپنی ساس ( جی وہی ساس جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی) کو نہایت خاموش طبع، کم گو، شریف النفس اور صابر و شاکر عورت پایا۔ مجھے ملنے کا انداز کچھ یوں ہوتا کہ میرے سر پر ہاتھ پھیرتیں ۔ امی اور میرے گھر والوں کا حال پوچھتیں۔ چار پائی پر سر کی جانب سر ہانا رکھتیںاور پائوں کی جانب صاف ستھری چادر یاکھیس بچھا دیتیں۔ اور یہ عمل میں جتنی مرتبہ بھی جائوں دہرایا جاتا تھا۔ خواہ ایک دن بعد ہی کیوں نہ چکر لگے مگر میرے سسر اس کے بر عکس ہیں۔ انتہائی چالاک، زمانہ شناس، زمانہ ساز ، صاحب مطالعہ، اخبار بین، رسالوں کے شوقین، 1962ء کے گریجویٹ، جیالے، تند خو اور صاحب فیصلہ ہیں اور ہمیشہ اپنی بات کو ہی weightig دیتے… ایک دن میں نے اپنی خاتون خانہ سے استفسار کیا کہ اماں جی کہیں میری وجہ سے پریشان تو نہیں کہ انہیں داماد کی پہچان میں غلطی ہو گئی ہے اور وہ اپنی اس دانستہ غلطی پر نادم ہونے کی وجہ سے خاموش رہ کر غلطی کا قرض اتار رہی ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو ایسا ہونا ان کا بنتا ہے۔ خاتون خانہ پہلے تو خاموش رہیں۔ ان کی اتنی خاموش دس سالوں میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی تھی۔ پھر گویا ہوئیں کہ جب پاکستان بنا مسلمان اپنے ملک میں آنے لگے۔ اتنا کہتے کہتے میری بیوی کی ہچکی بندھ گئی۔ پھر اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولیں۔ امی چار مہینے کی تھیں میری نانی چوبارے پر اپنے بھا ئیوں، میری امی اور میرے ننھے منے ماموں لوگوں کے ساتھ پاکستان آنے کے لیے کچھ سامان کی گٹھراٹھانے والی تھیں کہ ایک طرف سے ایک گولی آئی اور میری نانی امی کو لگ گئی۔ میری نانی امی اس وقت حاملہ بھی تھیں۔ خون کی ایک لہر ان کے پیٹ سے پھوٹ رہی تھی۔ وہ اشاروں اور کنائیوں سے کہہ رہی تھیں کہ آپ جائو… آپ جائو… آپ پاکستان جائو… آپ پاکستان جائو… پھر میرے بزرگ چار ماہ کی امی کو اور میرے بھائیوں کو لے کر میری نانی امی کو تڑپتا سسکتا وہیں چھوڑ کر آ گئے تھے۔ میری نانی امی کتنی دیر زندہ رہیں کیسے اس کی روح پرواز ہوئی؟ کیسے اس نے جان جان آفریں کے سپرد کی ؟ اس کو کفن بھی دیا گیا یا نہیں؟ اسے دفنا یا بھی گیا یا نہیں ؟ یہ تمام حالات تمام تر باتیں خدائے بزرگ و برتر کو ہی معلوم ہیں۔ سو میری امی کی کوئی بہن بھی نہیں تھیں جن کے ساتھ مل بیٹھ کر باتیں کرتی۔ دکھ سکھ شیئر کرتی۔ جیسے جیسے امی بڑی ہوتی گئی ذمہ داریاں بڑھتی گئیں اور قیام پاکستان کی کہانیوں، دکھوں، غموں سے آشنا ہوتی گئیں۔ وہ اندوہناک لمحے، دکھ اور ہجر آج بھی میری امی کے شعور میں سمایا ہوا ہے۔ یہی وہ دکھ تھے یہی وہ محرومیاں تھیں جنہوں نے امی کو خاموش طبع بنا دیا۔

یہ ایک کہانی نہیں ہے۔ ایسی ہزاروں اور لاکھوں کہانیاں ہیں جو قیام پاکستان کے وقت وجود میں آئیں۔ ہزاروں خاندانوں کے خاندان تباہ و برباد ہو گئے تھے۔ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔ ہزاروں بہنوں اور ماؤںکی عصمتیں تار تار ہوئی تھیں۔ ہزاروں بہنوں نے اپنی عزتیں اور عصمتیں محفوظ رکھنے کے لیے دریائوں اور کنوئوں میں چھلانگیں لگائی تھیں۔ ہزاروں بہنوں نے چھتوں سے کود کر جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔ ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے تہ تیغ ہوتے دیکھا تھا۔ ہزاروں بھائی اپنی بہنوں سے جدا ہوئے تھے۔ ہزاروں عورتوں کا سہاگ اجڑا تھا۔ ہزاروں بزرگ راستے میں مارے گئے تھے۔ لاکھوں کاروباری حضرات پاکستان آ کر کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے تھے۔ تب جا کر یہ پیارا وطن وجود میں آیا تھا جس کی بنیادوں میں ہمارے پر کھوں کا ہمارے بزرگوں کا ہمارے بڑوں کا لہو شامل ہے اور اس گلستان کی تز ئین میں ہر بزرگ کا خون شامل ہے۔

کسی کو مہاجر کہنا اور کسی کو اس بات کا طعنہ دینا کہ آپ اپنا پاکستان ادھر چھوڑ آئے ہو، کوئی اخلاقیات اس کا درس نہیں دیتیں۔ کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس طرح کے جملے استعمال کرے۔ آصف علی زرداری صاحب بتائیں کے ان کے خاندان نے پاکستان کے لیے کتنی قربانیاں دیں؟ انہوں نے بطور صدر پاکستان ملک کے لیے کیا کیا کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ؟ سیاست میں جو حکمران بھی اپنی جان کھو بیٹھا اس نے اپنے کیے کی سزا پائی یا پھر اس کے پیچھے سیاسی سازشوں کا ہاتھ تھا ۔ کسی بھی حکمران کو اس عوام کی خاطر، اس ملک کی خاطر اپنی جان اور مال و دولت کا نذرانہ پیش نہیں کرنا پڑا بلکہ کرپشن ، ظلم ، فراڈ کے ذریعے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیاگیا۔ وہ لوگ جو پاکستان کی جڑوں کو کھو کھلا کر رہے ہیں۔ جو لوگ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو ملک کو بے دردی سے لوٹ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو ملک منافرت پھیلا رہے ہیں۔ وہ لوگ جو ملک کی عزت و ناموس پر دھبے لگا رہے ہیں۔ وہ لوگ جو ملک میں دھڑے بندیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے۔ غوروفکر کرنا چاہیے کہ پاکستان کیسے معرض وجود میں آیا اور اس ملک کے لیے کتنی قربانیاں دینا پڑیں ۔


ای پیپر