مذمت نہیں مرمت
15 اگست 2019 2019-08-15

دوستو، کسی دانا کا بہت خوب صورت قول ہے کہ ۔۔لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔ مشاہدہ ہے کہ یہ بات ہمیشہ سچ نکلی ہے۔۔ کئی جگہ آنکھوں دیکھی اور آپ بیتی ہے کہ جب سامنے والے کو پیار سے سمجھایا تو اس کی اکڑپن میں مزید اضافہ ہی ہوا۔۔چنانچہ پھر ایسے بھوتوں کو لاتوں سے سمجھانا پڑا۔۔ ہماری حکومت کو بھی چاہیئے کہ مودی سرکار پیار کی بھاشا سمجھنے والی نہیں ، اسے جتنا مرضی سمجھا لو، اسے کچھ سمجھ نہیں آنا، آخر میں حل صرف یہی نکلتا ہے کہ اب مذمت نہیں مرمت ضروری ہے۔۔ جو کنٹرول لائن پر باربار آؤٹ آف کنٹرول ہوجائے، مقبوضہ کشمیر کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لے۔۔ہمارے کشمیری بھائیوں پر ظلم کی انتہا کردے۔۔ایسوں سے نمٹنے کے لئے اسی کی زبان میں بات کرنا ضروری ہے۔۔ ورنہ یہ مزیدسر پر چڑھیں گے اور ان کی من مانیاں بڑھتی چلی جائیں گی۔۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سمجھنے والی زبان جوتوں کی زبان ہے۔۔ویسے حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ قربانی کا گوشت ٹھیک سے نہیں بانٹ سکتے وہ کشمیر کو بانٹنے کی باتیں کررہے ہیں۔۔یہ ایسے لوگ ہیں جو قربانی کا گوشت اتنی بڑی مقدار میں ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں کہ محرم میں اسی گوشت سے حلیم پکاتے ہیں ۔۔پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اچانک سے یلغا رہوئی، ہر بندہ ایک ہی بات کہہ رہا تھا کہ ۔۔بھارت پر حملہ کردو۔۔ اگر آپ ایسے لوگوں کابیک گراؤنڈ دیکھیں تو ایسے مشورے وہ دے رہے ہیں جو بیویوں کے آگے چْوں تک نہیں کرتے۔۔جو لوگ محلے کی لڑائی میں ڈرکے مارے گھر سے نہیں نکلتے وہ بھی حکومت کو جنگ کے مشورے دے رہے ہیں۔۔

لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی مزاح ہی مزاح میں ایسی خوفناک اور سنجیدہ حقیقت بیان کر دیتے تھے جو انسان کو اندر سے ہلا دیتی تھی مثلاً ایک بار فرمایا ’’اسلام آباد در حقیقت جنت کا نمونہ ہے‘ یہاں جو بھی آتا ہے حضرت آدم کی طرح نکالا جاتا ہے‘‘۔۔۔ایک جگہ وہ لکھتے ہیں۔۔موسم‘ معشوق اور حکومت کا گلہ ہمیشہ سے ہمارا قومی تفریحی مشغلہ رہا ہے۔۔مشتاق یوسفی نے ایک ایسا جملہ بھی تخلیق کیا تھا جسے سنہری حرفوں سے لکھاجائے تو غلط نہ ہوگا، وہ کہتے ہیں۔۔پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔۔۔امریکا کے حوالے سے انہوں نے ایک بار کہا تھا۔۔ امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں ۔۔۔ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں یہاں صرف دو قسم کے ہی سیاسی نظام دیکھے گئے ہیں۔۔ ملٹری ڈکٹیٹرشپ اور سول ڈکٹیٹر شپ۔۔ملٹری ڈکٹیٹرشپ کو مارشل لاء کہاجاتا ہے جب کہ سول ڈکٹیٹر شپ کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔۔اکہتر سال پہلے جب پاکستان وجود میں آیا تو اس کی وجہ دو قومی نظریہ تھا۔لیکن آج بھی ہمارے ہاں دو قومی نظریہ ہی چل رہا ہے۔۔ہاں مگر اب دو قومی نظریہ سے مراد، عوام اور حکمران ہیں۔۔دونوں علیحدہ علیحدہ طبقے، دونوں کا رہن سہن، تہذیب، مذہب اور تاریخ سب کچھ جدا جدا۔۔

دنیا میں ہر شخص مشہور ہونا چاہتا ہے۔۔ چاہے وہ اسکینڈلز سے ہو یا پھر ’’ سینڈلز‘‘ سے۔۔۔مشہوری ویسے تو ضروری ہے لیکن مشہوری کیلئے’’ قصوری ‘‘ہونا ضروری نہیں ۔۔ یوں تو دنیائے موسیقی کی عظیم سنگر ملکہ ترنم نورجہاں قصور کی رہنے والی تھیں ان اور انہیں پاکستان تو کیا دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔۔لیکن ان کی مشہوری کی وجہ قصوری ہونا نہیں ،بلکہ گلوکاری تھا۔۔ ویسے قصور کا فالودہ بھی بہت مشہور ہے لیکن کچھ لوگ دماغ کا فالودہ کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔۔ پنجابی شاعری میں بابا بلھے شاہ اور ’’ بْلیاں‘‘ ( ہونٹ ) کا کافی عمل دخل ہے۔۔ہمارے ایک دوست تو شدید سردی میں بھی بابا بلھے شاہ کی’’ کافی ‘‘سنا کرتے تھے۔۔وجہ پوچھنے پر کہنے لگے۔۔۔ ’’کافی‘‘ سے سردی نہیں لگتی۔۔جیسا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ اسکینڈلز اور سینڈلز سے ہمارے ملک میں بہت جلد شہرت مل جاتی ہے لیکن یہ والی شہرت سے نیک نامی نہیں ملتی۔۔ ہمیں یاد ہے کہ کچھ عرصے پہلے نوے کی دہائی میں سیاست دان پرسنل اٹیک کیا کرتے تھے۔۔۔ اٹیک چاہے پرسنل ہو یا ہارٹ کا۔۔۔ دونوں ہی جان لیوا ہوتے ہیں۔۔ہماری ایک اداکارہ شادیوں کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔۔ یہ ایک ایسا کیس ہے، جس کا آئے دن کوئی نہ کوئی کیس عدالت میں چلتا رہتا ہے۔۔ شادیوں کے حوالے سے ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ الزبتھ ٹیلر بھی بہت مشہور تھیں۔۔ ان کی دیکھا دیکھی ہمارے علاقے کے وسیم ٹیلر نے بھی ایک ساتھ چار شادیاں کرلیں۔۔ جب ایک ساتھ چارشادیوں کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔۔۔ وہ انگریز ’’درزی‘‘ الزبتھ ٹیلر جب آٹھ شادیاں کرلے تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا لیکن اگر ایک لوکل درزی چار شادیاں کرلے تو سوال جواب شروع ہوجاتے ہیں۔۔ویسے دیکھا جائے تو ہمارے میں اسکینڈلز کی بڑی تعداد’’ ویب‘‘ اور’’ نیب ‘‘ میں ہی ملتی ہے۔۔ ویب میں غیرملکیوں کے بھی اسکینڈلز مل جاتے ہیں لیکن نیب میں صرف لوکل اسکینڈلز پر ہی زور ہوتا ہے۔۔

ایک خاتون خانہ نے اپنے شوہر کو ایس ایم ایس کیا کہ۔۔ گھر آتے ہوئے سبزی منڈی سے پانچ کلو پیاز۔۔ تین کلو ٹماٹر۔۔ آدھا پاؤ ہری مرچ۔۔ دھنیا،پودینہ اور ایک کلو بند گوبھی لے آنا۔۔اور ہاں پڑوسن آپ کا پوچھ رہی تھی۔۔شوہر کا فوری جواب آیا۔۔کون سی پڑوسن؟؟۔۔خاتون خانہ نے جواب دیا۔۔ کوئی نہیں ، میں نے ایسے ہی پڑوسن کا لکھ دیا، تاکہ مجھے پتہ چل سکے کہ آپ نے میرا میسیج پڑھ لیا ہے۔۔آپ لوگوں میں سے اکثریت نے صرف اتنا ہی لطیفہ پڑھا ہوگا، لیکن پکچر ابھی باقی ہے۔۔شوہر کا پھر میسیج آیا۔۔لیکن میں ابھی پڑوسن کے ساتھ ہی ہوں، تم کس پڑوسن کی بات کررہی تھی اس لئے پوچھ لیا تھا؟؟ خاتون خانہ نے جب یہ پڑھا تو غصے سے پاگل ہوگئی،فوری شوہر کو لکھا۔۔کہاں ہو تم؟۔۔شوہرکو فوری جواب آیا، سبزی منڈی کے قریب ہی ہوں۔۔خاتون خانہ نے فوری تیاری پکڑی اور پندرہ منٹ میں ہی سبزی منڈی پہنچ کر شوہر کو میسیج کیا۔۔ کدھر ہو تم؟ اور کس کے ساتھ ہو؟؟میں سبزی منڈی پہنچ چکی ہوں۔۔ شوہر نے اپنی زوجہ ماجدہ کو جواب دیا۔۔ میں آفس میں ہی ہوں، تم سبزی منڈی پہنچ چکی ہو تو پانچ کلو پیاز۔۔ تین کلو ٹماٹر۔۔ آدھا پاؤ ہری مرچ۔۔ دھنیا،پودینہ اور ایک کلو بند گوبھی لے کر گھر چلی جانا۔۔واقعہ کی دُم: جہاں اتنی ذہین قوم آباد ہو ، مودی سرکار کو پنگا لینے سے پہلے دس بار سوچنا چاہیئے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ایسی قومیں جو قانونِ فطرت کی روندتی ہوئی بے حسی و بے اعتنائی کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑتی چلی جائیں، بالآخر اندھے کنویں میں جاگرتی ہیں۔


ای پیپر