زندہ ”کون“ ہیں؟”پائندہ“ کون ہیں؟
15 اگست 2019 2019-08-15

پاکستان میں پچھلی دفعہ آبادی کا صحیح تعین کرنے کے لیے شماریات والوں نے عددی گورگھ دھندوں یعنی مردم شماری کے لیے پورے پاکستان کے گھروں کو کھنگال مارا تھا۔ حتیٰ کہ بڑوں، بوڑھوں، بچوں، جوانوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی، اصل میں اس کارکردگی کے اظہار کے لیے، انہیں دوقوتوں کی پشت پناہی حاصل تھی، ان میں ایک تو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آف پاکستان تھے، غالباً ازخودنوٹس لے کر دوسروں کو ذلیل کرنے والے چیف تھے۔ دوسرے کراچی کے متحدہ والے، جن کے بارے میں کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ آخر کار وہ بھی متحدہ نہیں رہیں گے۔ دراصل یہاں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہ کا بتایا ہوا فرمان کہ ظلم کی حکومت بالآخر قائم نہیں رہتی، اسی لیے لندن میں بیٹھے خود ساختہ جلا وطن بھاری بھر کم شخصیت کی گرفت اپنی پارٹی پہ نہیں رہی، اور وہ آزاد ہوگئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں بے شمار دیگر عوامل بھی شامل تھے کہ جس کی بناپر قائدین متحدہ میں افراتفری کی حدتک خود ستائشی بیانات آنا شروع ہوگئے اور فاروق ستار صاحب کی والدہ محترم کے پندونصائح بھی کارگرثابت نہیں ہوئے۔

یہ تو اچھا ہوا کہ متحدہ کے رہنما مقبول صدیقی صاحب نے اپنی توجہ سیاست کی بجائے دیگر معاملات میں مبذول کراتے ہوئے، ایک میزبان خاتون یعنی ایک چینل کی اینکر مدیحہ رضوی سے شادی رچالی، غالباً یہ ان کی دوسری شادی تھی، اس شادی میں بطور خاص گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ”تبدیلی آئی رے“گائے بغیر شرکت کی، اور اس طرح تحریک انصاف کے استحقاق ازدواجیات پہ اپنی تصدیق ثبت کردی۔ میں بتانا یہ چاہتا تھا کہ متحدہ موومنٹ والے یہ چاہتے تھے گو چاہت کی آس وامید آہستہ آہستہ دم توڑ چکی ہے کہ صوبہ سندھ کی تقسیم، کچھ اس طرح سے کردی جائے کہ دیہی آبادی، اور شہری آبادی کو الگ کردیا جائے تاکہ کراچی پہ ان کا قبضہ ہوجائے، اور پیپلزپارٹی کی گرفت صوبے میں ڈھیلی پڑ جائے۔

اب قارئین یہ آپ کے سوچنے کی بات ہے، کہ ان حریف پارٹیوں یعنی پیپلزپارٹی اور متحدہ میں کون زیادہ کائیاں ہے؟ تاہم یہ بات تو مستند ہے کہ پیپلزپارٹی ، دہشت گردی اور قتل وغارت میں ملوث نہیں رہی، جبکہ دوسری پارٹی کی وجہ شہرت ”خلائی مخلوق“ کی ہے، پاکستان کی سیاست کو دانستہ لاینحل ، مسائل کی طرف دانستہ دھکیلا جارہا ہے، مسلم لیگ ن کی مریم نواز کو گرفتار کیا جاچکا ہے، مگر الطاف حسین کو گرفتار کرنے کی بنیاد پر سیاست کی ابتدا کی گئی تھی، اور لندن میں جاکر ان کو منی لانڈرنگ ،اور دیگر جرائم کی نوید سناکر قوم کو مژدہ جاں فرحاں سنوایا گیا تھا، تاحال اس کی جانب پیش رفت تو کجا، اس کا نام ہی نہیں لیا جاتا، اور غضب تو یہ کہ اپنی کابینہ میں متحدہ کے وزراءکو تعینات کرکے ان کے سپرد اہم محکمے کردیئے گئے ہیں، حالانکہ وہ وزیر خود کہتے ہیں۔کہ مجھے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سرے سے پتہ نہیں، مگر انہیں دوسرا کوئی محکمہ نہیں دیا گیا، اور خود تسلیم شدہ نااہل وزیر بدستور اپنے عہدے پہ قائم ہے، اب مریم نواز کی گرفتاری پہ بلاول زرداری کا ردعمل کا اظہار کس بات کی غمازی کرتا ہے؟ انہیں کس چیز پہ طیش آیا ہے؟ حالانکہ ان کی پھپھی فریال تالپور کی گرفتاری پہ ان کے گھرکو ہی سب جیل قرار دیا گیا تھا، کیا یہ ترحم اور عفوو درگذر مریم صفدر پہ نہیں در کرآیا۔

آصف علی زرداری کا ردعمل اور بے عزتی کے الفاظ کا استعمال بھی کیفیت رنج و الم کی عکاس ہے، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اخلاقیات کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، کیا اخلاق ومروت کا اطلاق صرف اپوزیشن پہ ہوتا ہے؟ جبکہ فرمان رسول ہے کہ اخلاق کا دامن جنگ وامن میں بھی تھام کے رکھنا چاہیے۔

قارئین میرے ایک قریبی عزیز مجھے یہ بتارہے تھے کہ جب وہ سیشن جج تھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے ساری عمر رمضان المبارک میں کسی مجرم کو سزا نہیں سنائی تھی، سزا ہمیشہ رمضان کے مہینے میں مو¿خر کردیتا تھا، تو کیا دل میں جتنا مرضی کدورت ہو، عید کے چند دن تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا تھا ؟

قارئین فضول بحث ومباحثے پہ اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟ تاریخی انقلاب فرانس پہ بات کرلیتے ہیں، کہ فرانس میں انقلاب کیوں آیا تھا، اگر اس سوال سے آپ نے یا میں نے جان چھوڑوائی ہو، تو سیدھا سا جواب ہے، کہ یہ پرانی بات ہے، یعنی اس وقت ہم پیدا نہیں ہوئے تھے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنی تاریخ، اور تاریخ عالم کی شدھ بدھ اتنی تو ہونی چاہیے کہ جو کسی بات کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہماری رہنمائی کرسکے، فرانس کے بادشاہ نے پلوں پہ ٹیکس لگادیا تھا، معاف کیجئے یہ ٹیکس ہمارے ملک کے ہرحاکم نے لگایا ہے، گھر میں روشن دان رکھنے پہ بھی ٹیکس تھا، حتیٰ کہ کھانے میں نمک استعمال کرنے پہ ٹیکس تھا۔ اور یہ 1789ءمیں فرانس انقلاب سے پہلے کی صورت حال تھی، جب فرانس غیر ملکی قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، جس سے نکلنے کی صورت ان کی سمجھ میں یہی آئی، کہ عوام پہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جائے اور فرانسیسی عوام پہ پیدائش سے لے کر وفات تک ہرچیز پہ ٹیکس لگاکر ان کی زندگی اجیرن کردی گئی، اور پھر جب انقلاب روس آیا، تو پھر فرانس کے عوام نے سکھ کا سان لیا اور فرانس دنیا کے ایک طاقتور ملک کے طورپر دنیا میں سامنے آیا قارئین ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ پاکستانی عوام پہ نمک استعمال کرنے پر کوئی ٹیکس نہیں، گھر میں بھی جتنے روشن دان رکھیں کوئی ایک پیسے کا ٹیکس نہیں۔

قارئین ملک میں امن قائم کرنے کی خاطر تقریباً اسی ہزار پاکستانیوں نے اپنی جان قربان کردی، مگر ابھی بھی ہم اس قابل نہیں ہوئے کہ قرضوں سے جان چھڑا سکیں ہاں البتہ ریاست مدینہ نے ریاست مدینہ کے اس غزوے کی یادتازہ کردی کہ جب کافروں سے جنگ میں زخموں سے چور پانی مانگ رہے تھے، مگر جب پانی پلانے کے لیے پانی لایا گیا تو زخمی مجاہد نے کہا کہ پہلے میرے اس ساتھی کو پلاﺅ اور اس کے پاس جب پہنچے تو انہوں نے دوسرے زخمی کی طرف اشارہ کردیا حتیٰ کہ سب شہید ہوگئے، اب موجودہ ریاست مدینہ میں بھی لوگ ایک دوسرے سے مہنگائی کے ہاتھوں مرنے والے بے دھڑک پوچھتے پھرتے ہیں کہ زندہ کون ہیں پائندہ کون ہیں؟ مگر اس میں کیا شک ہے کہ ان ساری قباحتوں ، ریشہ دوانیوں، اور نادانیوں کے باوجود ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں، ہم سب کی ہے پہچان یہ پیارا پاکستان۔


ای پیپر