وزیراعظم عمران خان
15 اگست 2018 2018-08-15

پرسوں ہفتہ اٹھارہ اگست کو عمران خان وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیں گے۔۔۔ کل بدھ کے روز قومی اسمبلی کے سپیکر کے انتخاب میں ان کا امیدوار 146کے مقابلے میں 176 ووٹوں سے کامیاب ہوا 30 کا فرق کم و بیش یہی اکثریت عمران خان کو ملے گی یعنی ان کی حکومت مسلسل اتحادی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی رہین منت رہے گی ۔۔۔ تاہم خان موصوف کی بائیس سالہ محنت، ملک بھر میں ان کے حامیوں کی کوششوں اور سرپرستوں کی تدابیر نے مل کر انہیں انتخابی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔۔۔ امیدیں بر آئی ہیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا چاہتا ہے۔۔۔ ’تبدیلی‘ عمران خان کا اس پوری جدوجہد کے دوران سب سے بڑا نعرہ تھا۔۔۔ اب قوم اسی تبدیلی کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔۔۔ امید کرنی چاہیے کہ کرکٹ کا ورلڈ کب جیتنے سے عوامی دور کا آغاز کرنے والا یہ سیاستدان جس کے اندر جوش و جذبے کی کمی نہیں اہل وطن کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کی تکمیل اور توقعات پر پورا اترے گا۔۔۔ دلفریب نعروں کا وقت تمام ہوا۔۔۔ اب خان بہادر کو کارکردگی کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔۔۔ در پیش چیلنج بلاشبہ بہت بڑا اور ہمہ پہلو ہے۔۔۔ اس سے نبرد آزما ہونا جان جوکھوں کا کام ہے ۔۔۔ اعلیٰ درجے کی قومی و سیاسی بصیرت سے کام لینا ہو گا۔۔۔ ہر شعبے میں بہترین منصوبہ بندی اور ٹیم ورک کو بروئے کار لانا پڑے گا۔۔۔ قدم قدم پر مدبرانہ سیاست اور ہر شعبے کے اندر اعلیٰ درجے کی مہارت پر مبنی عملی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا اور ہر موڑ پر قوم اور منتخب اداروں کو اعتماد میں لے کر چلنا ہو گا۔۔۔ اس دوران وہ جنہیں ہمارے یہاں ریاستی اداروں کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ اگرچہ آئین مملکت رو سے ماتحت کا درجہ رکھتے ہیں مگر بالادستی منوا کر رہتے ہیں۔۔۔ ان کی خوشنودی کو بھی یقینی بنائے رکھنا بہت بڑی ضرورت ہو گی کیونکہ اس کے بغیر ریل بیچ راستے کے پٹڑی سے اتاری جا سکتی ہے یا بڑے حادثے سے دو چار ہو سکتی ہے۔۔۔ عمران خان کا اب تک ان اداروں کے ساتھ رومانس جاری ہے۔۔۔ آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے کیونکہ نازک مزاج شاہان کو تاب سخن گوارا نہیں ہوتی۔۔۔ آبگینوں کو ٹھیس پہنچتے دیر نہیں لگتی۔۔۔ اگر یہ قوتیں ناراض ہو جائیں تو تین مرتبہ منتخب اور پاکستان کی ایٹمی قوت پر مہر تصدیق ثبت کرنے والے وزیراعظم کو دہشت گردوں کی مانند جیل سے عدالت میں پیشی کے لیے بکتر بند گاڑی میں لایا جاتا ہے۔۔۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور نومنتخب وزیراعظم کو 2018ء کے وسط میں مسائل سے بھرا جو ملک ملا ہے وہ کئی لحاظ سے جون 2013ء کو برسراقتدار آنے والی حکومت کے سپرد کیے جانے والے پاکستان سے بہتر ہے۔۔۔ لوڈشیڈنگ کا وہ بحران نہیں جو تب تھا۔۔۔ کئی صنعتیں اس وجہ سے بند ہو گئی تھیں اب ان کا پہیہ چل رہا ہے۔۔۔ عوامی سطح پر اس نے جو ہنگام پیدا کر رکھا تھا۔۔۔ اب مفقود ہے۔۔۔ اگرچہ تشویش پائی جاتی ہے۔۔۔ سسٹم میں پہلے کے مقابلے میں دس ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ بجلی کا اضافہ ہو چکا ہے۔۔۔ دہشت گردی کا عفریت اب بھی پھنکار رہا ہے اور ہماری جانوں کو اٹکا ہوا ہے مگر 2013ء میں جو حالت تھی کہ داخلی امن تاراج ہو چکا تھا سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کا راج تھا۔۔۔ کوئی دن جاتا تھا جب بڑے بڑے بم دھماکوں اور اچانک جان لیوا خود کش حملوں کی خبر نہ آتی تھی درجنوں کے حساب سے بے گناہ پاکستانیوں کی لاشیں اٹھتی تھیں۔۔۔ قیمتی املاک تباہ ہو جاتی تھیں۔۔۔ اہل وطن کے لیے سکون اور اطمینان کی حالت میں جینا دو بھر ہوتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ اب پچھلی منتخب حکومت اور افواج پاکستان کی مشترکہ مساعی کے نتیجے میں خاطر خواہ کمی واقع ہو چکی ہے۔۔۔ 2013ء میں ہمارا اقتصادی دارالحکومت اور شہر قائد کرچی کرچی تھا۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے عذاب نے سب سے بڑی آبادی والے اس شہر عظیم کو جہنم زار میں تبدیل کر رکھا تھا۔۔۔ وہ کیفیت باقی نہیں رہی۔۔۔ 2013ء میں برسراقتدارآتے ہی نوا زشریف نے ماہ نومبر میں وہاں کے باسیوں کو تگنی کا ناچ نچانے والے جن کو قابو کرنے کا تہیہ کیا۔۔۔ اقدامات ہوئے۔۔۔ رینجرز نے ہاتھ بٹایا۔۔۔ نتیجے کے طور پر 2018ء میں قومی اسمبلی کی چودہ نشستوں کے ساتھ جو کراچی عمران خان کی جھولی میں آن گرا ہے وہ کہیں زیادہ پر سکون اور بہتر حالت میں ہے۔۔۔ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ عروج پر ہیں۔۔۔ اگرچہ ٹرانسپورٹ کا نظام بری حالت سے دوچار ہے۔۔۔ پانی کی زبردست قلت اور جگہ جگہ پھیلے ہوئے کچرے و گندگی کے ڈھیر جیسے

مسائل ہیں جنہیں تحریک انصاف کی وفاقی اور پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومتوں نے مل کر حل کرنا ہے۔۔۔

پچھلے تین چار برسوں کے دوران کرپشن کے بارے میں فلک شگاف نعرے بلند ہوئے۔۔۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کے خلاف الزامات کے انبار لگے۔۔۔ اسی کی پاداش میں نوازشریف وزارت عظمیٰ سے بر طرف کیے گئے۔۔۔ کرپشن کے خاتمے کو عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کا سب سے بڑا عنوان بنایا۔۔۔ مگر اس وقت وہ جس پاکستان پر حکومت کرنے جا رہے ہیں وہ 2013ء سے ماقبل پاکستان کے مقابلے میں حکومتی کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کے حوالے سے بہتر شکل میں پایا جاتا ہے صوبہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی صوبائی حکومت تھی وہاں بدعنوانیوں کا بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔۔۔ نواز شریف کی وفاقی اور پنجاب میں شہباز کی صوبائی حکومتوں پر الزام بہت لگے۔۔۔ پاناما کا سکینڈل بھی بڑے زور و شور کے سامنے لایا گیا اور نواز حکومت کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔۔۔ مگر حقیقت نفس امری یہ ہے گزشتہ پانچ برس کے دوران وفاق کے اندر کسی بڑے پیمانے پر یاقابل ذکر کرپشن ہوئی نہ پنجاب میں! اگرچہ نیب کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی اور 56 کمپنیوں سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کو مسلسل کھنگالا جا رہا ہے۔۔۔ دو تین بڑے افسر گرفتار بھی ہوئے ہیں تفتیش کا عمل کئی مہینوں سے جاری ہے۔۔۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک پنجابی محاورے کے مطابق کٹی یا کٹا برآمد نہیں ہوا ۔۔۔ نواز شریف پاناما کی ذیل میں اپنی حکومت کے لیے جان لیوا جس سکینڈل سے دو چار ہوئے وہ1991-92ء کے دور میں کی جانے والی منی لانڈرنگ کے حوالے سے الزامات پر مشتمل تھا۔۔۔ اس بارے میں احتساب عدلات نے فیصلہ صادر کیا ہے کہ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔۔۔ البتہ ان کے وسائل آمدنی سے زائد ہیں۔۔۔ اس پر بھی اب اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کتنی آمدنی اور کتنے وسائل ۔۔۔ یعنی وہ الزام بھی جس کے تحت تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم، بیٹی اور داماد کو سخت سزا دی گئی ہے مبہم سا ہے۔۔۔ کوئی قطعی شہادت پیش نہ کی جا سکی۔۔۔ بات مگر ہو رہی تھی 2013ء سے لے کر 2018ء کے پاکستان کی جس سے آگے عمران خان اپنی گاڑی کو لے کر چلنا ہے اس مدت میں صوبہ خیبر پختونخوا پنجاب اور وفاق کے اندر بڑے پیمانے کی کرپشن کا خاصی حد تک صفایا ہوا ہے۔۔۔ بلوچستان سے بھی اس کا وہ غلغلہ بلند نہ ہوا جس کی 2013ء سے قبل آوازیں سن سن کر کان پک گئے تھے۔۔۔ صوبہ سندھ کا معاملہ البتہ مختلف رہا۔۔۔ اب عمران خان اور زرداری صاحب کے درمیان نیا رومانس شروع ہونے والا ہے وہ جانیں اور ان کا کام۔۔۔ بڑی کرپشن کے تناظر میں دیکھیے تو نئے وزیراعظم کو نسبتاً پہلے سے صاف ستھرا پاکستان ملا ہے۔۔۔ اگلا مرحلہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر پٹواری، آئی جی دفاتر سے لے کر تھانوں اور نچلے درجے کی عدالتوں کے قاضیوں سے لے کر عام اہلکاروں اور منشیوں میں پائی جانے والی بدعنوانیاں دور کرنے کا ہے۔۔۔ اس سے کیونکر اور کتنی اور کتنی جلدی نبرد آزما ہوا جاتا ہے یقیناًوقت لگے گا۔۔۔ لیکن لوگوں کی توقعات بہت بلند کر دی گئی ہیں اس لیے عمرانی حکومت کو جلد کارکردگی دکھانا ہو گی۔

ہمالیہ پہاڑ جتنا بڑا چیلنج معیشت کا ہے ۔۔۔ اس کے مہیب ہونے کے بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں۔۔۔ کیسے دور ہو گا۔۔۔ فوری اور دور رس نتائج کی حامل کیا تدابیر کی جانی چاہیں اور پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے خود کفیل بنانے ، قرضوں اور غیر ملکی امداد کی زنجیروں سے نجات دلانے کی خاطر کن کن منصوبوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔۔۔ اس پر جب سے انتخابی نتائج کا اعلان ہوا ہے اور نئی حکومت کی آمد آمد کا غلغلہ بلند ہوا ہے بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔۔۔ مجھے ان معاملات پر درک حاصل نہیں۔۔۔ در پیش مالی پیچیدگیوں اور ان کی گتھیاں سلجھانے پر ماہرانہ کیا عام درجے کی رائے دینے کی پوزیشنیں میں نہیں ہوں۔۔۔ اتنا ضرور ہے کہ بھاری قرضے اتارنے ہیں جو مزید قرضے حاصل کیے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔۔۔ خواہ آئی ایم ایف والوں کی منت سماجت کی جائے یا چین اور سعودی عرب کے آگے مزید سر جھکا دیے جائیں۔۔۔ آئی ایم ایف سے 1980ء سے لے کر اب تک ایک کے بعد دوسری بر سر اقتدار آنے والی حکومتیں بارہ مرتبہ قرض لے چکی ہیں۔۔۔ پچھلی حکومت نے ملا کر 6.6ارب ڈالر حاصل کیے تھے۔۔۔ نئی کو بارہ ارب درکار ہیں۔۔۔ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ آئی ایم ایف سے پے در پے کا قرضے حاصل کرنے کا مطلب اس کی محتاجی میں مسلسل اضافہ ہے جس سے یہی حالت رہی تو شاید کبھی نہ نکل سکیں گے۔۔۔ جہاں تک چین سے ملنے والی مزید مالی امداد یا قرضوں کا تعلق ہے تو وہ ہمیں سنبھالا دینے کے لیے یقیناًآگے آئے گا اسے ہر صورت اور ہر حالت میں سی پیک کے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔۔۔ اسی سے ملتا جلتا معاملہ سعودی عرب کا ہے۔۔۔ وہاں ہمارے فوجی دستے متعین ہیں۔۔۔ شاہی محلات کی حفاظت اور دوسرے فرائض سر انجام دینے پر مامور ہیں۔۔۔ سعودی حکومت کی خواہش ہے پاکستان اس کے قائم کردہ فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لے نیز یمن کی خانہ جنگی میں اس کا ساتھ دے۔۔۔ لیکن اس راہ میں دو سال قبل ہماری پارلیمنٹ کی منظور کردہ قرار داد حائل ہے۔۔۔اسی کی بنا پر نواز شریف کے آخری سالوں کے مقابلے میں سعودی حکومت کو عمران خان سے زیادہ تعاون کی امیدیں ہیں اس لیے وہاں سے بھی ریالوں یا ڈالروں کا آنا زیادہ اچنبھے کی بات نہ ہو گی مگر اصل اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک نہیں تو دوسرے کی محتاجی کی حالت کب تک ہم پر طاری رہے گی اور اس ’کھوبے‘ سے کیونکر نکل پائیں گے۔۔۔ واجب الادا قرضوں کے انبار کے ساتھ بڑا مسئلہ درآمدی اور برآمدی بلوں میں غیر معمولی تفاوت کا ہے۔۔۔ زرمبادلہ کی شدید کمی ہے۔۔۔ آسان حل یہ ہے کہ پر تعیش اور غیر ضروری اشیاء کی درآمد بند کی جائے اور برآمدات کو بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔۔۔ برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتی نظام کو نئی مہمیز دینا ہو گی۔۔۔ ہمیں اعلیٰ معیار کی کم لاگت والی اشیاء کو پیداوار بڑھانا ہو گی اور عالمی منڈیوں کے اندر انہیں کھپانے کے لیے مقابلے کی دوڑ میں آگے نکلنا ہو گا۔۔۔ عمرانی حکومت اس امتحان کا پرچہ حل کرنے میں کتنے نمبر لے گی۔۔۔ اہم سوال ہے۔۔۔ ایک کام تو عمران خان کے دور میں بہر صورت ہونا چاہیے اس کی شروعات ابھی سے کی جا سکتی ہیں۔۔۔ بیرون ملک جو پاکستانی آباد ہیں اور اپنے پاس کثیر غیر ملکی سرمایہ بھی رکھتے ہیں ان کے اندر خان موصوف کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہیں۔۔۔ وہ انہیں آمادہ کریں کہ ان کی حکومت کے زیر سایہ اپنے وطن واپس آ کر سرمایہ کاری کریں۔۔۔ یہ کام اگر ہو گیا تو معیشت کے کئی دلدّر دور ہو سکتے ہیں۔۔۔ رہ گیا معاملہ مدینہ جیسی فلاحی مملکت بنانے کا تو تصوّر بہت اعلیٰ ہے مگر مدینہ کیا واجب الادا قرضوں کے بوجھ تلے دبی حکومت کو عام درجے کی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ضروری اور فالتو سرمایہ کہاں سے اور کیسے حاصل ہو گا یہ عقدہ نئے وزیراعظم اور ان کے مشیروں کی ٹیم کے سوچنے اور حل کرنے کا ہے۔


ای پیپر